سائنس و ٹکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے نت نئے مسائل کا سامنا: خالد سیف اللہ رحمانی

admin

نئی دہلی۔ صنعتی انقلاب کے بعد پیش آنے والے نئے مسائل کا قرآن و حدیث کی روشنی میں حل کرنے پر زور دیتے ہوئے اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے سکریٹری جنرل اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ سائنس و تکنالوجی کی ترقی ، معاشی،  سیاسی نظام اور طریقہ کاروبار میں تبدیلی کی وجہ سے نت نئے مسائل کا سامنا ہے جن کا شرعی حل ضروری ہے۔ فقہی سیمینار سے متعلق آج یہاں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اسلام میں پیش آنے والے نئت نئے مسائل کے لئے شریعت نے رہنمائی کی ہے ۔اس میں ایک انفرادی اجتہاد ہے جو بعض مفتیاں کرام فتاوی کی شکل میں دیتے ہیں اور دوسرا اجتماعی اجتہاد ہے جہاں علماء جس میں تفقہ اور خدا ترسی وغیرہ ہو، جمع ہوتے ہیں اورشریعت کی روشنی میں حل تلاش کرتے ہیں۔

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جو فقہ میں مہارت رکھتے ہیں،نے کہا کہ اجتہاد کا ثبوت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے بھی ملتا ہے اور اسی طریقے کو حضرت امام اعظم ابو حنیفہ نے بھی اپنایا، اس وقت بعض سائنسی مسائل کا حل علمائے کرام سرجوڑ تلاش کر نے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فقہ اکیڈمی صنعتی انقلاب، سائنس تکنالوجی کی وجہ سے پیش آنے والے نئے مسائل پر اب تک 26سیمینار کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنس تکنالوجی کی ترقی کے نتیجے میں نئے مسائل بہت تیزی سے پیدا ہورہے ہیں جس کا حل براہ راست شریعت میں نظر نہیں آتا۔ اس طرح کے مسائل کا حل اسلامک فقہ اکیڈمی نے تلاش کیا ہے۔ 25,26,27نومبر کو ممبئی میں ہونے والے سہ روزہ سیمینار میں اس طرح کے مسائل کا حل شریعت کی روشنی میں تلاش کیا جائے گا۔

انہوں نے سیمینار کے بارے معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ اس بار سمینار میں چار موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان میں عصری تعلیمی اداروں سے متعلق شرعی مسائل، حیوانات کے حقوق اور ان کے احکام، مکانات کی خریدوفروخت سے متعلق نئے مسائل، طلاق اور اس سے پیدا ہونے والے سماجی مسائل شامل ہیں۔ انہوں نے اکیڈمی کا تعارف و خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اکیڈمی کا ایک بہت بڑا کام بلکہ کارنامہ وزارت اوقاف کو یت سے شائع ہونے والی فقہی انسائیکلوپیڈیا (موسوعہ فقہیہ) کو اردو کا جامہ پہنانا ہے۔ اکیڈمی شروع سے اس بات کیلئے کوشاں رہی ہے کہ علماء عرب کی علمی تحقیقات مسلمانان ہند تک اور علماء ہند کی تحقیقی کاوشیں عالم اسلام تک رسائی حاصل کریں۔انہوں نے اس اکیڈمی کی بین الاقوامی اور پوری دنیا میں اسلامی محققین و مفکر ین کے درمیان اس کی وقعت اور افراد سازی کے سلسلہ میں اس ادارہ کی وسیع خدمات کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1989میں قاضی مجاہد الاسلام قاسمی نے پیش آنے والے نئے مسائل کے حل کے لئے اسلامک فقہ اکیڈمی قائم کی تھی۔ اس وقت تک کے بیشتر ممالک میں اسلامک فقہ اکیڈمی قائم ہے۔ اس اکیڈمی نے اب تک تقریباَ 200کتابیں شائع کی ہے اور اتنے ہی مجلات شائع کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سیمنارمیں مختلف مسالک اور ملک بھر کے تین سو ماہرین،علمائے کرام شریک ہوں گے اور اس کے علاوہ علمائے کرام اور دانشوروں کی جماعت شریک ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *