سردار پٹیل کو ہندو راشٹر کا حامی قراردینا مذموم کوشش :نواب کاظم علی خان 

Asia Times Desk

نئی دہلی یکم نومبر : امبیڈکر نیشنل کانگریس کے قومی صدر نواب کاظم علی خان نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کے دیو قامت مجسمے کی تعمیر میں روپے کے بے دریغ استعمال پر اپنے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل ایک عوامی لیڈر تھے ۔پٹیل متحدہ ہندوستان کے زبردست حامی تھے۔سردار پٹیل نے اپنے بیٹے دیا بھائی پٹیل سے کہا تھا کہ پنے فایدے کے لیے میرے نام کا استعمال مت کرنا اوروہ اس پر قائم رہے۔

آج انہیں ہندو راشٹر کا حامی قرار دینے کی کوشش ہو رہی ہے جبکہ انہوں نے کہا تھاکہ میں سمجھتا ہوں کہ بھارت کو ایسی ہندو ریاست بنانا ممکن نہیں ہے جس کا مذہب ہندو مت ہو۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہاں ( بھارت میں) دیگر اقلتیں بھی رہتی ہیں جن کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ہندوستان کے آئین میں آرٹیکل 25 جو ہر بھارتی شہری مذہبی آزادی اور اپنے مذہب کی تبلیغ کی آزادی فراہم کرتا ہے سردار پٹیل کی کوششوں ہی سے شامل ہوا تھا۔ سردار پٹیل نہ صرف مسلم دشمن نہیں تھے بلکہ انھوں نے بعض کام ایسے بھی کئے تھے جو مسلمانوں کا خیر خواہ ہی کر سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے کبھی بھی ساورکر اور اس کے حامیوں کی حمایت نہیں کی تھی سردار ولبھ بھائی پٹیل نے کبھی بھی ہندوراشٹرکے نظریہ کی حمایت بھی نہیں کی تھی بلکہ وہ تو ساورکر اور ناتھو رام گوڈسے کے شدید مخالف تھے اس ضمن میں بے شمار مکتوبات جس کو سردار پٹیل نے لکھا تھا آج بھی موجود ہیں مگر ان مکتوبات کو منظر عام پر لانے کاکام نہیں کیاجاتا کیونکہ موجودہ مرکزی حکومت سردار ولبھ بھائی پٹیل کو اپنے ائیڈیل کے طور پر پیش کرتے ہوئے پٹیل کی شبیہہ کو ہندو وادی بنانے کی کوشش کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم گجرات کے سپوت سردار پٹیل کے خلاف نہیں ہیں۔ ان کی عزت کی جانی چاہیے۔ ہم ترقی کے بھی خلاف نہیں ہیں لیکن اس حکومت کی ترقی کا نظریہ یکطرفہ ہے اور آدیواسیوں کے خلاف ہے۔ آدیواسی کی زمین سردار سروور نرمدا منصوبہ کے ساتھ مجسمہ اور دیگر تمام سیاحتی سرگرمیوں کے لئے لے لی گئی ہے۔اس پروجیکٹ کی وجہ سے متاثر ہوئے 72 گاؤں میں سے 32 گاؤں سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ان میں سے 19 گاؤں میں نام نہاد طورپر بازآبادکاری نہیں ہوئی ہے۔ گجرات کے قبائلی علاقے بنیادی ضروریات سے محروم میں جبکہ حکومت سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے کثیر رقم خرچ کر رہی ہے۔

اس مجسمے کی تعمیر میں جتنے روپے خرچ ہوئے ہیں اتنے میں ملک میں دو سے تین ایمس بن جاتے دو آئی آئی ٹی سینٹر اور کئی آسرو پروجیکٹ تیار ہو جاتے ۔آج ہندوستان بھوک مری کا شکار ہے ،بے روزگاری اور مہنگائی بڑھتے جارہی ہے ۔کسانوں کے خودکشی کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ایسے معاشی ایمرجنسی کے حالات میں اربوں کھربوں کی لاگت سے محض ایک مجسمہ کی تعمیر سے حکومت کے نظریہ کا پتہ چلتا ہے ۔ان کے نام پر روپے کا بے دریغ استعمال پرآج سردار پٹیل کی روح تڑپ رہی ہوگی ۔انہوں نے مزید کہا کہ کیرلا میں صدری کا بھیانک سیلاب آیا جس میں پوری ریاست تباہ ہو چکی ہے ۔لیکن افسوس کے حکومت کو جس طرح جنگی پیمانہ پر اس کی بازآباد کاری کا کام کرنا چاہئے تھا وہ خاطر خواہ اقدامات نہیں کررہی ہے ۔اس جانب توجہ دینے کی ضرورت تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *