آج سعودی عرب کے 89 ویں قومی دن پر، سعودی عرب کے تمام باشندوں کو قومی دن کی مبارکباد

تحریر:  ایشیا ٹائمز کے اسپیشل کرسپانڈینٹ زبیر خان سعید ی کی ہے  

Asia Times Desk

جانیں کیا ہے سعودی عرب، کب وجود میں آیا اور کیا ہیں اس کے احوال

▪️ مملکت سعودی عرب (المملكة العربية السعودية‎)
جزیرہ نمائے عرب میں سب سے بڑا ملک ہے۔ جس کی شمال مغرب میں سرحد اردن، شمال میں عراق اور شمال مشرق میں کویت، قطر اور بحرین اور مشرق میں متحدہ عرب امارات، جنوب مشرق میں سلطنت عمان اور جنوب میں یمن سے ملی ہوئی ہے، جبکہ خلیج فارس اس کے شمال مشرق اور بحیرہ قلزم اس کے مغرب میں واقع ہے۔ یہ حرمین شریفین کی سرزمین کہلاتی ہے کیونکہ یہاں اسلام کے دو مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ موجود ہیں۔

Image may contain: 1 person, standing and outdoor
زبیر خان سعید ی

▪️ سعودی ریاست کا ظہور تقریباً 1750ء میں عرب کے وسط سے شروع ہوا جب ایک مقامی رہنما محمد بن سعود معروف اسلامی شخصیت اورمحمد بن عبدالوہاب کے ساتھ مل کر ایک نئی سیاسی قوت کے طور پر ابھرے-

▪️ اگلے ڈیڑھ سو سال میں آل سعود کی قسمت کا ستارہ طلوع و غروب ہوتا رہا جس کے دوران جزیرہ نما عرب پر تسلط کے لیے ان کے مصر، سلطنت عثمانیہ اور دیگر عرب خاندانوں سے تصادم ہوئے ۔ بعد ازاں سعودی ریاست کا باقاعدہ قیام شاہ عبدالعزیز السعود کے ہاتھوں عمل میں آیا۔

▪️ 1902ء میں عبدالعزیز نے حریف آل رشید سے ریاض شہر چھین لیا اور اسے آل سعود کا دار الحکومت قرار دیا۔ اپنی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے انہوں نے 1913ء سے 1926ء کے دوران الاحساء، قطیف، نجد کے باقی علاقوں اور حجاز (جس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے شہر شامل تھے) پر بھی قبضہ کر لیا۔
8 جنوری 1926ء کو عبدالعزیز ابن سعود حجاز کے بادشاہ قرار پائے ۔
29 جنوری 1927ء کو انہوں نے شاہ نجد کا خطاب حاصل کیا۔
20 مئی 1927ء کو معاہدہ جدہ کے مطابق برطانیہ نے تمام مقبوضہ علاقوں جو اس وقت مملکت حجاز و نجد کہلاتے تھے پر عبدالعزیز ابن سعودکی حکومت کو تسلیم کر لیا۔
1932ء میں برطانیہ کی رضامندی حاصل ہونے پر مملکت حجاز و نجد کا نام تبدیل کر کے مملکت سعودی عرب رکھ دیا گیا۔
مارچ 1938ء میں تیل کی دریافت نے ملک کو معاشی طور پر زبردست استحکام بخشا اور مملکت میں خوشحالی کا دور دورہ ہو گیا۔

▪️ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز
سعودی عرب کی حکومت کا بنیادی ادارہ آل سعود کی بادشاہت ہے ۔
1992ء میں اختیار کیے گئے بنیادی قوانین کے مطابق سعودی عرب پر پہلے بادشاہ عبدالعزیز ابن سعود کی اولاد حکمرانی کرے گی اور قرآن ملک کا آئین اور شریعت حکومت کی بنیاد ہے-

سعودی سفارت خانہ دہلی میں تقریب کا منظر

▪️ ملک میں کوئی تسلیم شدہ سیاسی جماعت ہے نہ ہی انتخابات ہوتے ہیں- البتہ 2005ء سے مقامی انتخابات کا انعقاد ہورہا ہے
▪️ بادشاہ کے اختیارات شرعی قوانین اور سعودی روایات کے اندر محدود ہیں۔ علاوہ ازیں اسے سعودی شاہی خاندان، علماء اور سعودی معاشرے کے دیگر اہم عناصر کا اتفاق بھی چاہیے ۔ سعودی عرب دنیا بھر میں مساجد اور قرآن اسکولوں کے قیام کے ذریعے اسلام کی ترویج کرتی ہے ۔ شاہی خاندان کے اہم ارکان علما کی منظوری سے شاہی خاندان میں کسی ایک شخص کو بادشاہ منتخب کرتے ہیں۔

▪️ قانون سازی وزراء کی کونسل عمل میں لاتی ہے جو لازمی طور پر شریعت اسلامی سے مطابقت رکھتی ہو۔ عدالت شرعی نظام کی پابند ہیں جن کے قاضیوں کا تقرر اعلیٰ عدالتی کونسل کی سفارش پر بادشاہ عمل میں لاتا ہے-

▪️ سعودی عرب کو انتظامی لحاظ سے تیرہ علاقوں یا صوبوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن کو عربی زبان میں مناطق (منطقہ) کہتے ہیں۔ جن کی فہرست درج ذیل ہے
1 الباحہ
2 الحدود الشماليہ
3 الجوف
4 المدينہ
5 القصيم
6 الرياض
7 الشرقيہ
8 عسير
9 حائل
10 جيزان
11 الحجاز
12 نجران
13 تبوک

▪️ جغرافیہ
مملکت سعودی عرب جزیرہ نمائے عرب کے 80 فیصد رقبے پر مشتمل ہے۔ متحدہ عرب امارات، عمان اور یمن کے ساتھ منسلک ملک کی سرحدوں کا بڑا حصہ غیر متعین ہے، اس لیے ملک کا عین درست رقبہ اب بھی نامعلوم ہے- سعودی حکومت کے اندازوں کے مطابق مملکت کا رقبہ 22 لاکھ 17 ہزار 949 مربع کلومیٹر (8 لاکھ 56ہزار 356 مربع میل) ہے۔ دیگر اندازوں کے مطابق ملک کا رقبہ 19 لاکھ 60 ہزار 582 مربع کلومیٹر (7 لاکھ 56 ہزار 934 مربع میل) اور 22 لاکھ 40 ہزار مربع کلومیٹر (8 لاکھ 64 ہزار 869 مربع میل) کے درمیان ہے- تاہم دونوں صورتوں میں سعودی عرب رقبے کے لحاظ سے دنیا کے 15 بڑے ملکوں میں شمار ہوتا ہے-

سعودی سفارت خانہ دہلی میں تقریب کا منظر

مملکت کا جغرافیہ مختلف نوعیت کا ہے ۔ مغربی ساحلی علاقے (التہامہ) سے زمین سطح سمندر سے بلند ہونا شروع ہوتی ہے اور ایک طویل پہاڑی سلسلے (جبل الحجاز) تک جاملتی ہے، جس کے بعد سطع مرتفع ہیں۔ جنوب مغربی اثیر خطے میں پہاڑوں کی بلندی 3 ہزار میٹر (9 ہزار 840 فٹ) تک ہے اور یہ ملک کے سب سے زیادہ سرسبز اور خوشگوار موسم کا حامل علاقہ ہے۔ یہاں طائف اور ابہاء جیسے تفریحی مقامات قائم ہیں۔ خلیج فارس کے ساتھ ساتھ قائم مشرقی علاقہ بنیادی طور پر پتھریلا اور ریتیلا ہے۔ معروف علاقہ ”ربع الخالی“ ملک کے جنوبی خطے میں ہے اور صحرائی علاقے کے باعث ادھر آبادی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔

مملکت کا تقریباً تمام حصہ صحرائی و نیم صحرائی علاقے پر مشتمل ہے اور صرف 2 فیصد رقبہ قابل کاشت ہے۔ بڑی آبادیاں صرف مشرقی اور مغربی ساحلوں اور حفوف اور بریدہ جیسے نخلستانوں میں موجود ہیں۔ سعودی عرب میں سال بھر بہنے والا کوئی دریا یا جھیل موجود نہیں۔

▪️ موسم
سعودی عرب کا موسم مجموعی طور پر شدید گرم اور خشک ہے- یہ دنیا کے ان چند علاقوں میں سے ایک ہے جہاں گرمیوں میں درجہ حرارت کا 50 ڈگری سینٹی گریڈ (120 ڈگری فارن ہائیٹ) سے بھی اوپر جانا معمول کی بات ہے۔ موسم سرما میں بلند پہاڑی علاقوں میں کبھی کبھار برف پڑ جاتی ہے تاہم مستقل بنیادوں پر برف باری نہیں ہوتی۔ موسم سرما کا اوسط درجہ حرارت 8 سے 20 ڈگری سینٹی گریڈ (47 سے 68 ڈگری فارن ہائیٹ) ہے ۔ موسم گرما میں اوسط درجہ حرارت 27 سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ (81 سے 109 ڈگری فارن ہائیٹ) ہوتا ہے۔ وسط صحرائی علاقوں میں گرمیوں میں بھی رات کے وقت موسم سرد ہوجاتا ہے۔

سعودی عرب میں بارش بہت کم ہوتی ہے تاہم کبھی کبھار موسلا دھار بارش سے وادیوں میں زبردست سیلاب آجاتے ہیں۔ دار الحکومت ریاض میں سالانہ بارش 100 ملی میٹر (4 انچ) ہے جو جنوری سے مئی کے درمیان میں ہوتی ہے۔ جدہ میں نومبر اور جنوری کے درمیان میں 54 ملی میٹر (2.1 انچ) بارش ہوتی ہے۔

▪️ اعداد و شمار ( آبادی)
2005ء کے مطابق سعودی عرب کی آبادی 26 اعشاریہ 4 ملین ہے جس میں 5 اعشاریہ 6 ملین غیر ملکی آبادی بھی شامل ہے۔ 1960ء کی دہائی تک مملکت کی آبادی کی اکثریت خانہ بدوش یا نیم خانہ بدوش تھی لیکن معیشت اور شہروں میں تیزی سے ترقی کی بدولت اب ملک کی 95 فیصد آبادی مستحکم ہے۔ شرح پیدائش 29 اعشاریہ 56 فی ایک ہزار افراد ہے جبکہ شرح اموات صرف 2 اعشاریہ 62 فی ایک ہزار افراد ہے۔ چند شہروں اور نخلستانوں میں آبادی کی کثافت ایک ہزار افراد فی مربع کلومیٹر سے بھی زیادہ ہے۔

تقریباً 80 فیصد سعودی باشندے نسلی طور پر عرب ہیں۔ مگر کچھ جنوبی اور مشرق افریقی نسل سے بھی تعلق رکھتے ہیں جو چند سو سال قبل اولاً غلام بنا کر یہاں لائے گئے تھے۔ سعودی عرب میں دنیا بھر کے 70 لاکھ تارکین وطن بھی مقیم ہیں جن میں ہمارے ملک ہندوستان کے 14 لاکھ، بنگلہ دیش کے 10 لاکھ، پاکستان کے 9 لاکھ، فلپائن کے 8 لاکھ اور مصر کے 7 لاکھ 50 ہزار باشندے شامل ہیں۔ قریبی ممالک کے عرب باشندوں کی بڑی تعداد میں مملکت میں برسرروزگار ہے۔ سعودی عرب میں مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ باشندے بھی قیام پزیر ہیں۔

▪️ تعلیم
1932ء میں مملکت سعودی عرب کے قیام کے وقت ہر باشندے کی تعلیم تک رسائی نہیں تھی اور شہری علاقوں میں مساجد سے ملحق مدارس میں تعلیم کی محدود اور انفرادی کوششیں ہورہی تھیں۔ ان مدارس میں شریعت اسلامی اور بنیادی تعلیم سکھائی جاتی تھی تاہم گذشتہ صدی کے اختتام تک سعودی عرب ایک قومی تعلیمی نظام کا حامل ہے جس میں تمام شہریوں کو اسکول سے قبل سے لے کر جامعہ کی سطح تک مفت تربیت فراہم کی جاتی ہے ۔ جدید سعودی تعلیمی نظام جدید اور روایتی فنی و سائنسی شعبہ جات میں معیاری تعلیم فراہم کرتا ہے ۔ اسلام کی تعلیم سعودی نظام تعلیم کا بنیادی خاصہ ہے ۔ سعودی عرب کا مذہبی تعلیمی نصاب دنیا بھر کے مدارس میں بھی پڑھایا جاتا ہے ۔

سعودی عرب میں باقاعدہ بنیادی تعلیم کا آغاز 1930ء کی دہائی میں ہوا۔ 1945ء میں شاہ عبدالعزیز السعود نے مملکت میں اسکولوں کے قیام کے لیے ایک جامع پروگرام کا آغاز کیا۔ 6 سال بعد 1951ء میں مملکت کے 226 اسکولوں میں 29 ہزار 887 طالب علم زیر تعلیم تھے ۔ 1954ء میں وزارت تعلیم کا قیام عمل میں آیا جس کے پہلے وزیر شہزادہ فہد بن عبدالعزیز بنے ۔ سعودی عرب کی پہلی جامعہ شاہ سعود یونیورسٹی 1957ء میں ریاض میں قائم ہوئی۔

آج سعودی عرب کا قومی سرکاری تعلیمی نظام 8 جامعات، 24 ہزار سے زائد اسکولوں اور ہزاروں کالجوں اور دیگر تعلیمی و تربیتی اداروں پر مشتمل ہے ۔ اس نظام کے تحت ہر طالب علم کو مفت تعلیم، کتب اور صحت کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ مملکت کے سرکاری میزانیہ کا 25 فیصد سے زائد تعلیم کے لیے مختص ہے ۔ سعودی عرب میں طالب علموں کو اسکالرشپ پروگرام کے تحت بیرون ملک بھی بھیجا جاتا ہے جن میں امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا، جاپان، ملائیشیا اور دیگر ممالک شامل ہیں۔

کالج و جامعات

شاہ فہد یونیورسٹی، ریاض
اسلامی یونیورسٹی، مدینہ
شاہ عبد العزیز یونیورسٹی، جدہ
امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی، ریاض
شاہ فیصل یونیورسٹی، دمام
شاہ فہد یونیورسٹی برائے پٹرولیم و معدنیات، ظہران
ام القراء یونیورسٹی، مکہ
شاہ خالد یونیورسٹی، ابھا
شاہ عبد اللہ یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ضوال
قصیم یونیورسٹی، بریدہ
طائف یونیورسٹی، طائف
الجوف یونیورسٹی، الجوف
جازان یونیورسٹی، جازان
حائل یونیورسٹی، حائل
الباحہ یونیورسٹی، الباحہ
نجران یونیورسٹی نجران
یونیورسٹی کالج الجبیل، الجبیل
ینبع صنعتی کالج، ینبع
الفیصل یونیورسٹی، ریاض
عرب اوپن یونیورسٹی، ریاض
شہزادہ سلطان یونیورسٹی، ریاض
دوا شناسی اور دندان سازی کا کالج، ریاض
دار العلوم یونیورسٹی، ریاض
طیبہ یونیورسٹی، مدینہ
شہزادہ محمد یونیورسٹیی، الخبر
شاہ سعود بن عبد العزیز یونیورسٹی برائے ہیلتھ، ریاض
شہزادہ سلطان کالج برائے سیاحت، جدہ
عفت کالج، جدہ
دار الحکمۃ کالج، جدہ
کالج برائے بزنس ایڈمنسٹریشن، جدہ
شہزادہ سلطان ایوی ایشن اکیڈمی ، جدہ
الیمامہ کالج، ریاض
دمام ٹیکنالوجی کالج، دمام
جبیل انڈیسٹریل کالج، الجبیل
جبیل ٹیکنیکل کالج، الجبیل
انسٹی ٹیوٹ اف پبلک انتظامیہ
ریاض، جدہ، مکہ، دمام
جدہ کالج برائے اساتذہ ، جدہ
جدہ کالج برائے ٹیکنالوجی ، جدہ
مدینہ کالج برائے ٹیکنالوجی، مدینہ
کالج برائے ٹیلیکام و الیکٹرونکس، جدہ
جدہ پرائیویٹ کالج، جدہ
جدہ ہیلتھ کئیر کالج، جدہ
جدہ کمیونٹی کالج ، جدہ
الحدود الشاملیۃ یونیورسٹی، عرعر
تبوک یونیورسٹی، تبوک
بٹرجی میڈیکل کالج ، جدہ
قصیم میڈیسن کالج ، بریدہ
سلیمان الراجحی یونیورسٹی، بکریہ
ابن سینا نیشنل کالج برائے میڈیکل سٹڈیز ، جدہ
المجمع کمیونٹی کالج ، مجمعہ
دمام کمیونٹی کالج، دمام
حفر الباطن کمیونٹی کالج، حفر الباطن

▪️ ملک بھر میں ایک بہترین نقل و حمل کا نظام قائم ہے۔ سعودی عرب حکومت ماضی میں شارعی نظام کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے کیوں کہ وہاں پیٹرول کی قیمت باقی دنیا کے مقابلے میں سب کم رہی ہے۔ فروری 2018ء میں اعلان کیا گیا کہ، سعودی عرب کی چار اہم موٹر ویز پر رفتار میں بہتری لائی جائے گی اور اسے 12 کلو میٹر فی گھنٹہ سے 140 کلو میٹر فی گھنٹہ تک پہنچا دیا جائے گا۔ اس منصوبے میں مکہ- مدینہ، یاض – دمام، ریاض-جاسم اور آخر میں رياض- طائف موٹر ویز شامل ہیں۔ ملک میں ایک ترقی پزیر بحری نقل و حمل کا نظام ہے جو بنیادی طور پر پیٹروکیمیکل کی نقل و حمل کی سہولت کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ سعودی پورٹ اتھارتی ان بحری کارروائیوں کی نگرانی کرتی ہے، یہ ادارہ ملک میں بندرگاہوں کے انتظام کا ذمہ دار ہے۔ شاہراہوں و ہوائی سفر پر زیادہ انحصار کرنے کے نتیجے میں، سعودی عرب میں پہلے ریل نقل و حمل میں دوسرے ذرائع کی طرح سرمایہ کاری نہیں ہوئی تھی، البتہ، اب ملک میں ریلوے کا نظام بھی شروع ہوگیا ہے اور جدید میٹرو بھی گزشتہ دس سال سے جاری ہے-

▪️ سعودی عرب کا سب سے مقبول کھیل فٹ بال ہے ۔ سعودی عرب گرمائی اولمپکس، والی بال، باسکٹ بال اور دیگر کھیلوں میں عالمی سطح کے ٹورنامنٹس میں شرکت کرتا ہے ۔ قومی فٹ بال مسلسل 4 مرتبہ ورلڈ کپ اور 6 مرتبہ ایشین کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کے باعث عالمی سطح پرجانی جاتی ہے ۔ سعودی عرب تین مرتبہ ایشین چمپئن رہ چکا ہے اور دو مرتبہ فائنل میں شکست کھاگیا۔ سعودی عرب کے چند معروف فٹ بال کھلاڑیوں میں ماجد عبداللہ، سامي الجابر اور ياسر القحطاني شامل ہیں۔

▪️ اسلام سعودی عرب کا سرکاری مذہب ہے اور اس کا قانون تمام شہریوں کے مسلمان ہونے کو ضروری قرار دیتا ہے۔ اسلام کے سوا دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو کھلے عام عبادت منع ہے۔ سعودی عرب شہریت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی غیر مسلم کو اسلام قبول کرنا ضروری ہے۔ جس کی وجہ سے سعوی عرب کے نفاذ شریعت اور اس کے انسانی حقوق متعلقہ قوانین پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔

▪️ سعودی عرب کی ثقافت کی بنیاد بھی مذہب اسلام ہے۔ اسلام کے دو مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سعودی عرب میں موجود ہیں۔ ہر روز دنیا بھر کے مسلمان 5 مرتبہ مکہ مکرمہ میں قائم خانہ کعبہ کی جانب رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں۔ سعودی عرب میں ہفتہ وار تعطیل جمعہ کو ہوتی ہے ۔ قرآن مجید سعودی عرب کا آئین اور شریعت اسلامی عدالتی نظام کی بنیاد ہے ۔

سعودی عرب کے معروف ترین لوک رسم قومی رقص ارضیٰ ہے۔ تلواروں کے ساتھ کیا جانے والا یہ رقص قدیم بدوی روایات کا حصہ ہے- حجاز کی السہبا لوک موسیقی کی جڑیں قرون وسطیٰ کے عرب اندلس سے جاملتی ہیں۔

▪️ سعودی عرب کا لباس باشندوں کے زمین، ماضی اور اسلام سے تعلق کا عکاس ہے ۔ روایتی طور پر مرد ٹخنے تک کی لمبائی کی اونی یا سوتی قمیض پہنتے ہیں جو ثوب کہلاتی ہے جس کے ساتھ سر پر شماغ یا غطرہ کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ عورتوں کا لباس قبائلی موتیوں، سکوں، دھاتی دھاگوں اور دیگر اشیاء سے مزین ہوتا ہے ۔ سعودی خواتین گھر سے باہر عبایہ اور نقاب کا استعمال کرتی ہیں۔

▪️ اسلام میں شراب نوشی اور سور کے گوشت کے استعمال کی سختی سے ممانعت ہے اور اس پر سعودی عرب میں سختی سے عملدرآمد کیا جاتا ہے ۔ سعودی روٹی خبز کا تقریباً تمام کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے، بھنی ہوئی بھیڑ، مرغی، فلافل، شورمہ اور فول بھی دیگر مشہور کھانوں میں شامل ہیں۔ روایتی قہوہ خانے ہر جگہ موجود ہیں تاہم اب ان کی جگہ بڑے کیفے لے رہے ہیں۔ بغیر دودھ کی سیاہ عربی چائے کا استعمال ہر جگہ کیا جاتا ہے۔

▪️ سعودی عرب میں تھیٹر اور سینما پر پابندی عائد ہے تاہم ظہران اور راس تنورہ میں قائم نجی آبادیوں میں تھیٹر قائم ہیں، تاہم یہ فلموں کے نمائش کی بجائے مقامی موسیقی اور فنون پیش کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔ حال ہی میں بچوں اور عورتوں کے لیے عربی کارٹون پیش کرنے کے لیے کچھ شہروں میں سینما گھروں کو بنایا گیا ہے اور کچھ دیگر تفریحی چیزیں بھی وجود میں آئی ہیں جس کی وجہ سے سعودی عرب کو لگاتار تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *