یہی ورن ویوستھا میں یقین رکھنے والوں کے ‘من کی بات’ بھی  ہے

ہر سال یو پی ایس سی میں مسلم نوجوانوں کی تعداد بڑھتی دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ کام ضرور کریں

Asia Times Desk

اشرف علی بستوی  

ہر سال اسکولوں میں نئے تعلیمی سیشن کی شروعات اپریل سے ہوتی ہے یہ مہینہ والدین کے لیے کئی اعتبار سے چیلنجوں والا ہوتا ہے ۔  پہلے مرحلے میں اسکول کا انتخاب اور پھر تعلیمی اخراجات کا بے تحاشہ بوجھ  والدین کو اس قدر پریشان کر دیتاہے کہ والدین  بچوں کے بہتر مستقبل  کی خاطر خاصے کشمکش کا شکار ہو تے ہیں ، نجی اسکولوں کی مہنگی فیس اور سرکاری تعلیمی اداروں کی بدنظمی کی چکی میں پستے والدین یہ نہیں طے کر پاتے کہ اپنے بچے  کے لیے کیا منتخب کریں ۔ اور یہ صورت حال دن بدن اور خراب ہوتی جارہی ہے ،

البتہ یہ کسی حد تک درست ہے کہ دہلی کے سرکاری اسکولوں کا نطام گزشتہ کچھ برسوں میں قدرے بہتر ہوا ہے لیکن یہاں بھی کوئی بڑی تبدیلی نہیں آسکی ہے۔ کچھ علاقوں تک ہی محدود ہے ۔ اس لیے آج بھی سرکاری اسکولوں کی جانب اعتماد کی پر اعتماد فضا نہیں بن سکی ہے ۔

جبکہ آزادی کے بعد آنے والی سبھی حکومتوں نے ‘ سب پڑھیں ،سب بڑھیں ‘   ‘شکچھا ہے انمول رتن ‘ بیٹی پڑھاو بیٹی بچاو ‘ جیسے درجنوں نعرے دیے گئے لیکن ساتھ ہی سرکاری نطام تعلیم کو کمزور کرنے کا بھی کام جاری رہا ، اس کا بین ثبوت  مرکزی حکومت کے تعلیمی بجٹ میں تخفیف سے لگایا جا سکتا ہے ۔ ہواتو یہ تھا کہ  آزادی کے بعد ملک کی  تعمیر نو میں جہاں اقتصادی مضبوطی اور دفاعی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے منصوبے ترتیب دیے گئےتھے اس بات کی جانب بھی توجہ  دی گئی کہ انسانی وسائل کو ترقی میں شمولیت کے لیے یکساں طور پر تیار کیا جائے اور ملک کی اپنی جامع تعلیمی پالیسی وضع ہو اس کے لیے کوٹھاری کمیشن کا قیام عمل آیا جس نے 1964 میں یہ سفارش کی کہ ملک کے بجٹ کا 6 فیصد حصہ تعلیم پر لگایا جائے ،

اس طرح انسانی وسائل کو بہتر تعلیم حاصل ہو گی ۔لیکن ہوا یہ کہ  حکومتوں نے اقتصادی اور دفاعی میدان میں بڑھنے کے منصوبے پر تو عمل کیا لیکن تعلیم کو اپنے ترجیحی منصوبے سے الگ کر دیا ، ہرسال دفاعی بجٹ بڑھتا گیا اور تعلیمی اخراجات میں تخفیف ہوتی رہی ۔

 عوامی دباو میں  سال 2010 میں ملک  میں ‘تعلیم کا حق قانون’  بھی دے دیا  لیکن  آبادی کے تناسب سے تعلیمی اداروں کے قیام کی ذمہ داری حکومت نے اپنے ذمہ نہیں لی۔ ہر سال تعلیم کا بجٹ کم کیا جانا اور دفاع کے بجٹ کو بے تحاشا بڑھایا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ  حکومت تعلیم کے تئیں قطعی سنجیدہ نہیں ہے ۔ جبکہ کسی بھی ملک کی ترقی کی ضمانت حکومت کے ذریعے تعلیم پر لگائے گئے  سرمایہ پر منحصر ہوتی ہے ، تعلیم کے بجٹ کو  خرچ  تصور نہیں کیا جانا چاہیے ، بلکہ یہ ایک طرح کی سرمایہ کاری ہوتی ہے جو بعد میں  بڑا فائدہ دیتی ہے  تعلیم ہی انسانی وسائل کے فروغ کا واحد ذریعہ ہے ۔

دراصل ہماری سیاسی پارٹیوں کے منصوبے  میں تعلیم شامل ہی نہیں ہے ، وہ شاید اس لیے بھی ہے کہ یہ ملک ورن ویوستھا میں صدیوں سے یقین کرتا رہا ہے ۔ اس لیے برسر اقتدار طبقہ کو عوام کی تعلیمی بہتری کی فکر نہیں ستاتی ، وہ یہ ہرگز نہیں چاہتے کہ سب پڑھ لکھ کر سوال پوچھنے والے بن جائیں ۔ اس کی فکر معاشرے کو ہی کرنی ہوگی ہم یہ تو کر سکتے ہیں کہ ، اپنے آس پاس کے بچوں کو اسکول میں داخلہ دلانے کے لیے پہل کریں اور ان کی ہر طرح کی دشواریوں کو دور کرنے کی مل جل کر کوشش کریں ۔

معاشرے کے اہل ثروت اس جانب خصوصی توجہ دیں اپنے بچوں کے ساتھ محلے کے کمزور پڑوسیوں کی بھی تھوڑی فکر کر لیں تو یہ کا م ذرا آسان ہوجائے گا ، کرنا صرف یہ ہے کہ اگر آپ اپنے بچے کو کسی اچھے بڑے نجی اسکول میں داخل کراتے ہیں تو کم ازکم کسی ایک بچے کو کسی کم درجے کے اسکول کے اخراجات اٹھالیں ، ہر سال یو پی ایس سی میں مسلم نوجوانوں کی تعداد بڑھتی دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ کام ضرور کریں مسلم کمونٹی پڑھے گی تو بڑھے گی ۔ ایسے تعلیمی اداروں کا قیام کریں جہاں سب کے لیے داخلہ ممکن ہو کیونکہ ملک کے حالات بہت خراب ہیں ۔ ہندوستان میں 8 کروڑ بچے ابھی تک  اسکول نہیں جاسکے ہیں ۔

ڈراپ آوٹ کی تعداد بہت زیادہ ہے جس میں  لڑکیاں سب سے زیادہ ہیں جس  کی وجہ سے ہیومن ریسورس کا بڑا حصہ ترقی کے عمل سے دورہے ۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ  ملک میں  9 لاکھ  ٹیچرس کی کمی ہے ، جو خلیجی ملک قطر کی آبادی سے ڈیڑھ لاکھ زیادہ ہے ۔  سب سے زیادہ ڈراپ آوٹ مسلم طلبا کا ہے ہمیں اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔  ٹیچر س ٹریننگ کی صورت حال  قابل رحم ہے  ٹریننگ کے لیے ملک میں   صرف 400 ڈائٹ ہیں جو ناکافی ہیں اسی لے  92 فیصد پرائیویٹ ادارے  ٹیچرس کی  ٹریننگ دیتے ہیں۔ رپورٹ یہ بھی ہے ان غیر معیاری پرائیویٹ  اداروں سےٹریننگ  لینے  والے   صرف 10 فیصد ہی ٹیٹ  امتحان پاس کرپاتے  ہیں ۔

اگر حالات نہیں بدلے تو سرکاری اسکول صرف خواندگی مرکز بن کر رہ جائیں گے ۔ ہندوستانی تعلیمی نظام  کو اب بڑی تیزی سے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ماڈل  کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے  ۔ جس سے عام لوگوں کی دشواریاں  بڑھ جائیں گی ۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کو سکندر لودھی نے سب سے پہلے  سبھی کے لیے یکساں  تعلیم  کا نظام دیا تھا اور اب آزاد ہندوستان میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے لو کاسٹ اسکول قائم کیے جا نے کی بات ہو رہی ہے ،  تعلیم کو تین کٹیگری میں تقسیم  کیا  جا رہا ہے غریبوں کے لیے لو کاسٹ اسکول کا خاکہ پیش کیا جا رہا ہے۔ یہی ورن ویوستھا میں یقین رکھنے والے طبقے کے ‘من کی بات’ بھی  ہے ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *