مدرسہ دار القلم ککرالہ کا پانچواں عظیم الشان سالانہ ثقافتی و تقسیم انعامات پروگرام

Asia Times Desk

   ککرالہ ( بدایوں/ محمد ارمغان بدایونی ندوی )  “خوشی کی بات ہے کہ چند ہی سالوں میں مدرسہ دار القلم نے غیر معمولی ترقی حاصل کی، غریب بچوں کی تعلیم کا انتظام کیا، اور اب تک مدرسہ تقریباً پندرہ سو سے زائد غریب بچوں کو مفت ڈریس، بستے، کورس اور دیگر ضروری سامان بھی فراہم کر چکا ہے، اس مدرسہ کا امتیاز ہے کہ وہ تعلیمی امور پر توجہ کے ساتھ سماجی ورفاہی کاموں کی طرف بھی دھیان دیتا ہے، اور اکابر امت کی اس کو مستقل رہنمائی بھی حاصل ہے.” ان خیالات کا اظہار لکھنؤ سے آئے مہمان مولانا زاہد عباسی ندوی نے اپنے افتتاحی خطاب میں کیا.
مدرسہ دار القلم کے بانی و مہتمم حافظ محمد آصف صوفی جی نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ “آپ کی شرکت یقیناً پروگرام کی کامیابی کی علامت ہے، مجھے امید ہے کہ آپ ہمارے بچوں کی بھرپور حوصلہ
افزائی فرمائیں گے، اور اس پروگرام کے اختتام پر بچوں کے روشن مستقبل کی امید لے کر رخصت ہوں گے.”
اس پروگرام میں بچوں نے مختلف اہم موضوعات پر اپنے تمثیلی وثقافتی مظاہرے کیے، جن کا سلسلہ تقریباً تین گھنٹے جاری رہا اور آخر وقت تک تمام شرکاء نے بچوں کے پروگرام میں حصہ لیا.
پروگرام کے درمیان میں پبلک کوئز کے تین راؤنڈ بھی چلائے گئے، جس میں سیرت و تاریخ اور جنرل نالج کے سوالات تھے، عوام نے اس انعامی کوئز میں کافی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور عمدہ جوابات دئیے.
مولانا محمد ارمغان بدایونی ندوی نے جلسہ میں کلیدی خطاب پیش کرتے ہوئے کہا “اسلام کا ایک بڑا معجزہ تمام باطل طاقتوں کی زور آزمائی کے باوجود اس کی بقا ہے، مسلمانوں نے ہر دور میں اسلام کی بقا کے لیے جدوجہد کی ہے اور باطل طاقتوں سے برسر پیکار رہے ہیں، اور اس سلسلہ میں علم اور اخلاق کو انہوں نے اپنا سب سے قیمتی و مؤثر ہتھیار بنایا ہے، ہمیں ضرورت ہے کہ آج ہم مسلمان بھی ان دونوں اوصاف پر خصوصی توجہ دیں.”
پروگرام کے اخیر میں تمام کامیاب ہونے والے اور پروگرام میں حصہ لینے والے  تقریباً سات سو بچوں کو بیش قیمت انعامات بھی تقسیم کیے گئے، اور خصوصی مہمانوں کو بھی بطور اعزاز انعامات سے نوازا گیا.
اخیر میں حافظ محمد آصف صوفی جی نے تمام آئے ہوئے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور دعا پر جلسہ کا اختتام ہوا
تمثیلی و ثقافتی پروگرام کی تیاری میں مدرسہ کے اہم رکن ماسٹر شادان صاحب، ماسٹر مونس صاحب، ماسٹر مسرت جاوید (افضال سر) اور ماسٹر محمد عدنان صاحب کا خاص رول رہا.
اس موقع پر یہ حضرات بھی موجود رہے: جناب حاجی ساجد علی خان، جناب متین خان، جناب اکرم علی خان، جناب فرحت خان، جناب نوازش حسین، جناب ماسٹر جابر، جناب چھوٹے انصاری (ممبر)، جناب چھوٹے خان (ممبر)، جناب ماسٹر آصف، جناب ماسٹر مدثر، جناب حاجی اکمل، جناب ماسٹر مسلم (ہندوستان پبلک اسکول)
اور مدرسہ دار القلم کے اساتذہ: جناب افضال سر (مہتمم مدرسہ)، جناب شادان، جناب مصطفی، جناب محمد عدنان، جناب محمد مونس، جناب حافظ ذوشان، جناب حافظ نذیر عالم، جناب انیس خان، جناب ساجد خان، جناب علی مراد، جناب عمران، جناب توحید، جناب محمد ذیشان، جناب محمد عفان، یہ تمام ہی حضرات آخر تک پروگرام کی زینت بنے رہے.
اردو رپورٹ: محمد ارمغان بدایونی ندوی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *