پروفیسر جی ڈی اگروال کی موت اور گنگا صفائی ابھیان

شاہد حبیب

Asia Times Desk

کالم…… تکلف برطرف

پروفیسر جی ڈی اگروال گنگا کی صفائی سے جڑے متعدد مطالبے کے ساتھ 111 دن سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے تھے اور آخر کار 11 اکتوبر 2018 کو انتہائی مشکوک حالات میں ایمس رسی کیش میں دم توڑ گئے. ان کی یہ پانچویں بھوک ہڑتال آخری ہڑتال ثابت ہوئی جو 22 جون 2018 کو شروع ہوئی تھی. اس افسوسناک واقعہ کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے صرف ایک ٹوئٹ کرنا کافی جانا. موت کی تحقیقات یا ان کے مطالبات پر توجہ دینا ضروری نہیں سمجھا!!
گنگا کی صفائی کے لیے سب سے پہلا ایکشن پلان شری راجیو گاندھی کی قیادت میں 14 جنوری 1986 میں تیار کیا گیا تھا. جب گنگا میں مضر صحت عناصر کے موجود ہونے کی طرف بڑے پیمانے پر ماحولیاتی سائنسدانوں نے توجہ دلائی تو اس کے بعد ہی حکومت ہند اس طرح کے اقدامات پر مجبور ہوئی. اس وقت سے لے کر اب تک گنگا کی صفائی کے نام پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کئے جا چکے ہیں لیکن گنگا نہ ہی صاف ہوئی اور نہ ہی وہ ان لینڈ واٹر وے (inland waterwey) کے روپ میں نقل و حمل کو آسان بنا پائی. حالانکہ خواب یہ دیکھا گیا تھا کہ ہماری گنگا لندن کی ٹیمس، یورپ کی ڈینیوب اور جرمنی کی رائین ندیوں کی طرح صاف شفاف ہونے کے ساتھ ساتھ ذریعہ نقل و حمل کی طرح بھی استعمال ہو کر روڈویز اور ریلویز کے ٹریفک کی بوجھ کو کم کرنے کا بھی سبب بنے گی!!
پروفیسر جی ڈی اگروال گنگا کی صفائی مہم سے ابتداء سے ہی جڑے رہے ہیں. وہ نہ صرف بنیادی طور سے ایک ماحولیاتی سائنسداں تھے بلکہ ماحولیاتی ایکٹیوسٹ کے بطور بھی اپنی چھاپ چھوڑ گئے. اس لیے وہ ان قائدین میں شمار کیے جاتے رہے ہیں جنہوں نے گنگا کی صفائی کے لیے نہ صرف زمینی سطح کے کام کیے ہیں بلکہ اپنی دانشوری کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے فلاسفی کی سطح پر بھی اپنی ریسرچ اور تحقیقات کی بنیاد پر سرکاروں کو جھکنے پر مجبور کیا اور عوام کی ذہن سازی میں کلیدی کردار ادا کیا. انہوں نے بتایا ہے کہ گنگا کو کیوں صاف ہونا ضروری ہے؟ وہ مانتے تھے کہ گنگا ایک عام ندی نہیں، بلکہ ایک ایسی ندی ہے جس پر ہندوستان کے کروڑوں لوگوں کی آستھا ہے. شاستروں میں کہی گئی باتوں کی بنیاد پر اگر یہاں کے لوگ اس ندی کو “گنگا ماں” کے نام سے پکارتے ہیں تو یوں ہی نہیں، بلکہ اس کے پانی میں کچھ بنیادی خصوصیات ہیں. 24 ستمبر 2018 کو “ڈاؤن ٹو ارتھ” کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ “گنگا جی ان خصوصیات میں سے چار پانچ کو تو اب تک سائنس بھی تجربات کی بنیاد پر قبول کر چکی ہے”. اسی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ “اس طرح کی سائنٹفک ریسرچ کی پہلی کوشش میرے خیال سے میرے ہی گائڈینس میں آئی آئی ٹی کانپور میں کی گئی تھی”. اس میں انہوں نے کہا کہ ہم گنگا کے پانی کے سیمپل کو بٹھور، بھیرو گھاٹ جیسے مختلف جگہوں سے اکٹھا کر کے اس میں باہر سے “کوالیفارم” جیسے سڑاندھ پیدا کرنے والے بیکٹیریا کو ملین کی تعداد میں ملایا. اس تجربے میں ہم نے پایا کہ “بٹھور” جہاں گنگا جی فطری انداز میں بہہ رہی ہے، وہاں کے پانی میں بیکٹیریا صرف ایک فیصدی تک پایا گیا. جبکہ بھیرو گھاٹ جہاں باندھ بنا کر بجلی پیدا کرنے کا پروجیکٹ چل رہا ہے، وہاں کے پانی میں 50 فیصدی تک بیکٹیریا کی موجودگی پائی گئی”. اسی طرح کے ریسرچ کے بعد ان کا یہ یقین پختہ ہو گیا تھا کہ گنگا کے پانی میں امراض سے لڑنے کی بے پناہ قوت ہے اور اس میں شفا ہے. یہ عام ندی نہیں ہے. اس لیے اس ندی کے ساتھ عام ندیوں والا سلوک نہیں کیا جاسکتا. پھر انہوں نے ایک ٹیکنوکریٹ ہونے کے باوجود ایک ماحولیاتی ایکٹیوسٹ کی راہ اپنا لی. آئی آئی ٹی کانپور میں پروفیسر شپ کی ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے لگاتار گنگا اور ماحولیات کے موضوع پر بے تکان لکھا اور اس کے لیے زمینی سطح کی لڑائی لڑی. ان کی ان ہی خدمات کو دیکھتے ہوئے سرکار نے ان کو 1997 میں قائم ہونے والے سنٹرل پالیوشن کنٹرول بورڈ کا پہلا ممبر سکریٹری نامزد کیا. لیکن وہ وقت بھی آیا کہ انہوں نے اس عہدے سے یہ کہتے ہوئے استعفی دے دیا کہ سرکار گنگا کی صفائی کو لے کر سنجیدہ نہیں ہے.
اس درمیان ملک میں صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ گنگا میں فاسد مواد کی موجودگی میں بے پناہ اضافہ ہوتا رہا. ان سب کو دیکھتے ہوئے ان سے برداشت نہیں ہوا اور وہ 13 جون 2008 کو یہ کہتے ہوئے بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے کہ گنگا کو اس کی فطری رفتار میں بہنے نہیں دیا جا رہا ہے. اس میں سینکڑوں ڈیم اور باندھ بنا کر اسے ندی کی شکل میں باقی نہیں رہنے دیا جا رہا ہے. ان کے بھوک ہڑتال کا پہلا مطالبہ یہ تھا کہ گنگوتری سے لے اترکاشی تک کے پہلے 125 کلومیٹر کو سرکار ماحولیاتی طور سے حساس زون قرار دے اور اس پورے علاقے میں کسی بھی طرح کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دے. مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے 4 نومبر کو سرکار نے گنگا کو قومی ندی کا درجہ دے کر اس کے ریجوونیشن (Rejuvenation) کے لیے نیشنل گنگا ندی بیسن اتھارٹی (این جی بی آر اے) کا قیام عمل میں لایا. لیکن افسوس یہ نیا ادارہ بھی کچھ خاص نہیں کر سکا. نتیجے میں پروفیسر جی ڈی اگروال کو 2009، 2012 اور 2013 میں پھر بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کے لیے مجبور ہونا پڑا. اسی بیچ 13 جون 2013 کو این جی بی آر اے کے کام کرنے کے طریقے سے ناخوش ہو کر پروفیسر جی ڈی اگروال کے تین معاونین اپنی رکنیت سے مستعفی ہو گئے اور 13 جون 2011 کو پروفیسر اگروال کے ایک ہم خیال “سوامی نگم آنند” اپنی بھوک ہڑتال کے دوران شہادت پا گئے. پھر 2014 میں نریندر مودی کو “ماں گنگا” نے بلایا تو پروفیسر جی ڈی اگروال نے اپنے ساتھیوں کے کہنے پر ان کی حمایت کا اعلان کر دیا اور وہ وزیراعظم بن گئے. لیکن “ڈاؤن ٹو ارتھ” کے اسی انٹرویو میں پروفیسر اگروال یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ “سرکار دھوکہ دے رہی ہے اور خاص کر مودی جی دھوکہ دے رہے ہیں”.
آج ہندوستان کی اکثر ندیاں آلودگی کی شکار ہیں اور نالوں میں تبدیل ہو رہی ہیں. ایسے میں نہ صرف گنگا بلکہ تمام ہی آلودہ ندیوں کی صفائی ہونی چاہیے. ہندوستانی تہذیب کی بقا کی امید ندیوں کی صفائی کے بغیر نہیں کی جا سکتی. گنگا چونکہ آستھا سے جڑی ہوئی ہے اور قومی ندی قرار دی جا چکی ہے، اس لیے اولین مرحلے میں اسی کی صفائی ہونی چاہیے. ہم اپنے اس پر مطالبے پر اڈگ ہیں اور سرکار کو اس کے لیے جوابدہ سمجھتے ہیں کہ ہزاروں کروڑ روپے خرچ کرنے کے باوجود کیوں ہماری تہذیبی و قومی نشان رکھنے والی ندی کی صفائی نہیں ہو سکی ہے.
 لیکن اسی کے ساتھ ہمارا احساس ہے کہ پروفیسر جی ڈی اگروال کے تمام ہی مطالبے کو تسلیم نہ کرنا ہی ملک کے مفاد میں رہے گا. یہ میں پروفیسر اگروال کے مطالبات کی فہرست دیکھ کر عرض کر رہا ہوں. انہوں نے ڈاؤن ٹو ارتھ کے اسی انٹرویو میں یہ کہا ہے کہ سرکار گنگا پر باندھ کے سارے پروجیکٹ کینسل کرے، کیونکہ ان کی پالیسیوں سے “رن آف دی ریور پروجیکٹ” نہیں چل رہا ہے بلکہ “رن آف دی ٹنل” کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے. ان کے اس مطالبے کو کچھ حد تک درست مانا جا سکتا ہے، لیکن کلی طور پر نہیں. اگر ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورے کرنے ہیں تو جس طریقے سے دنیا بھر میں بجلی کی پیداوار کے لیے ندیوں پر باندھ بنایا جا رہا ہے اور ملک کی ترقی ہو رہی ہے تو صرف ہندوستان میں ہی کیوں اس سے احتراز کیا جائے؟ ہاں ماحولیاتی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے باندھوں کی زیادتی بالکل نہیں ہونی چاہیے. اسی طرح سے ان کے دیگر مطالبے پر بھی غور کیجئے. وہ کہتے ہیں کہ سرکار گنگا پر ان لینڈ واٹر ویز کے پلان کو بھی خارج کرے. کیونکہ “گنگا میری ماں ہے. میری ماں جل مارگ کہلانے کی حقدار تھوڑی ہے!” اسی طرح وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ گنگا کے پانی کو سینچائی میں استعمال نہ کیا جائے. اب اگر ان ضرورتوں کے لیے بھی پانی کا استعمال نہ کیا جائے تو پھر قدرتی وسائل کا استعمال صرف “پوجا” کے لیے تھوڑی کیا جائے گا. ظاہر ہے یہ غیر پریکٹیکل مطالبات ہیں. اس لیے ہمارا ماننا ہے کہ اگر سرکار ان کے ان مطالبات کو تسلیم نہ کرے تو ہی ملک کے مفاد میں ہوگا. سوال ہے کہ آخر پروفیسر اگروال اس طرح کے مضحکہ خیز مطالبات پر کیوں اڑے ہوئے تھے؟ اس کا ایک ہی جواب ہے کہ وہ ہندووادی پرمپرا کے اس گروپ میں شامل ہوگئے تھے جو گنگا کو آستھا کی بنیاد پر “ماں” تسلیم کرتے ہیں، قدرتی وسائل نہیں. اب آپ ہی بتائیں کہ کوئی ملک غیر پریکٹیکل ہوکر صرف آستھا کی بنیاد پر کیوں کر ترقی کر سکتا ہے!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *