موجود صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اردو صحافت کو نئی بلندیاں عطاکی جا سکتی ہیں/ شاہد لطیف

روزنامہ انقلاب کے ایڈیٹر شاہد لطیف سے ایشیا ٹائمز کی بات چیت

Asia Times Desk

شاہد لطیف ملک کے معروف صحافی ہیں  طویل عرصے سے ممبئی سے شائع ہونے والے روزنامہ انقلاب کے ایڈیٹر ہیں ۔ عالمی و ملکی سطح پر پیش آنے والے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں ، مسائل کے حل کے تئیں کافی سنجیدگی سے اپنی رائے رکھتے ہیں ،  جس کا  اندازہ ان کے فکر انگیز اداریے سے بخوبی ہوتا ہے    گزشتہ دنوں عالمی اردو کانفرنس میں شرکت کے لیے دہلی تشریف لائے تھے اور انہوں نے ایک انتہائی موثر اور مدلل مقالہ’اردو صحافت کے امکانات‘ کے حوالے سے  پڑھا جس میں انھوں نے کہا کہ ” جدید ٹیکنالوجی کی طلسم ہوش ربا نے اردو اخبارات کو وہی صورتیں مہیا کی ہیں جو دوسری زبانوں کے اخبارات کو حاصل ہیں۔ اب اردو اخبارات کی صورت حال پہلے کے مقابلے میں بہت بدل گئی ہے۔ نیٹ ایڈیشن اور ای اخبار کے ذریعے اب اردوصحافت کے لیے ہفت خواں کا سفر آسان ہوگیا ہے۔ اپنے مقالے میں انھوں نے اردو اخبارات میں زبان کی صحت اور معیار پر بھی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ”  ۔  دہلی قیام کے دوران   اشرف علی بستوی نے “ایشیا ٹائمز” کے  لیے  مختصر ملاقات میں  موصوف سے اردو زبان و اردو صحافت کو درپیش مسائل و امکانات پر بات کی ، انہوں نے  بتایا کہ موجود صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اردو صحافت کو نئی بلندیاں عطاکی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں صحت مند اورتعمیری صحافت کی ضرورت پر زور دیا ۔

سوال : ہندوستان میں اردو کا مسقبل کیا ہے ؟

جواب : اکثر ہم یہ کہتے ہیں اپنے بچوں کو اردو پڑھائیں اور خود بھی مطالعے کی عادت ڈالیں یہ درست ہے ۔ لیکن اس کے علاوہ ایک  بہت بڑا  حلقہ ہے جس سے  ہم دانستہ یانادانستہ طور پرچشم پوشی کررہے ۔ غیر اردو داں طبقے میں ایک بہت بڑا حلقہ ایسا ہے جو اردو سے محبت رکھتا ہے ،جو اردو میں دلچسپی رکھتا ہے،  جو ہندی سنیما کے گیت سن کر بہت مسرور ہوتا ہے،اسے ہندی فلموں کے مکالمے بہت اچھے لگتے ہیں ۔ اس لیے کہ وہ اردو کے مکالمے ہیں ۔ یہ لوگ غالب کو بہت پڑھتے ہیں منٹو کو انہوں نے ترجمہ کر دیا ہے ، ہندی میں اردو کے افسانے اور شاعری کے مجموعے بھی دستیاب ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ اردو زبان کے چاہنے والے اس ملک میں بہت زیادہ ہیں ، یہ اردوکا اثاثہ ہیں ان کو قریب لا ئیں انہیں  رسم الخط بھی سکھانے کی کوشش ہونی چاہیے ، ہر اردو والا جو لکھنا پڑھنا جانتا ہے وہ اپنے آس پاس کے کم ازکم دو لوگوں کواردو لکھنا پڑھنا سکھائے یہ اردو کی بہت بڑی خدمت ہو گی ۔  جتنے زیادہ لوگ زبان سیکھیں گے اتنے ہی زیادہ قاری اردو صحافت کو ملیں گے ۔  اب اس ڈیجیٹل دور میں قارئین کی تعداد کافی بڑھ گئی ہے اردو صحافت کے مزید روشن مستقبل کے امکانات ہیں ۔

سوال : معیاری اردو صحافت کا فقدان کیوں ہے ؟

جواب : ہمارے پاس صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے جو نوجوان اردو گھروں سے پڑھ لکھ کر بار نکلتے ہیں جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں ان کی ترجیحات کیا ہوتی ہیں ؟کوئی بھی بچہ جو ذہین اور پڑھنے میں بہت اچھا ہے وہ ڈاکٹر اور انجینئر بننا چاہتا ہے ، وہ ایم بی اے کر نا چاہتا ہے ۔ لیکن  دس میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ملے گا جو کہے کہ میں جرنلسٹ بننا چاہتا ہوں اس کے لیے ذہن سازی کرنی پڑے گی اور یہ بتانا ہوگا کہ صحافت بڑا شعبہ ہے یہ جمہوریت کا چوٓتھا ستون کہلاتا ہے اس کی بڑی اہمیت ہے ۔ یہاں جانے کے بعد آپ کے اندر ایک طرح کی اتھاریٹی آتی ہے ۔ آپ لوگوں کی زندگیوں کو تبدیل کرنے میں معاون ثابت ہوں گے  ۔ چنانچہ اس طرف بھی بچوں کو لایا جائے اگر ہماری اچھی صلاحتیں پہلے سے ہی یہاں صحافت سے جڑنے کے لیے  تہیہ کر لیں تو اچھے صحافی میسر ہوں ٓگے ہماری صحافت مزید بہتر ہوگی ۔

سوال : موجودہ اردو صحافت میں کن چیزوں کی کمی محسوس کرتے ہیں ؟

جواب : اردو صحافت میں اسپورٹ پر لکھنے والے بہت کم ہیں،  سائنس فکشن لکھنے والے کم ہیں ، سائنس کی نئی نئی ایجادات اور پیش رفت پر روشنی ڈالنے والے کم ہیں ، ہمارے پاس معیشت پر گہری نظر رکھنے لکھنے تجزیہ نگاروں کی بڑی قلت ہے ۔ ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں نئی نسل بڑی ذہانت اور صلاحیتوں کی حامل ہے اگر صحافت کے قریب آتی ہے تو مجھے پورا یقین ہے کہ یہ لوگ اردو صحافت کی اس خلا کو پر کریں گے اور ہماری صحافت مین اسٹریم کے برابر آئے گی ۔ ویسے بھی میں نہیں سمجھتا کہ اردو صحافت مین اسٹریم کے برابر نہیں ہے ۔ ہم نے کئی مرتبہ دیکھا ہے کہ آج جو ہم نے اپنے اخبار کی شہ سرخی بنائی وہی دوسرے دن انگریزی اخبار کی شہ سرخی بنی ،  اس کا مطلب یہ ہے کہ قومی امور کو جس طرح سے ہمارے دوسرے بھائی دیکھ رہے ہیں ہم بھی اسی طرح دیکھ رہے ہیں  موجود صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اردو صحافت کو نئی بلندیاں عطاکی جا سکتی ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *