ہندوستان اور افغانستان کے رشتے کو تقویت بخشنے میں کرکٹ ڈپلومیسی کا کردار

محمد شمیم اختر: افغان امور کے ماہر

Asia Times Desk

تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے ہندوستان اور افغانستان کے تعلقات کافی پرانے اور مستحکم ہیں۔ یہ رشتے صرف دونوں ملکوں کے دارالحکومت تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ یہ دونوں پڑوسی ممالک کے عوام کے درمیان دوستی کی شکل میں بھی واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی طور پر منسلک ہندوستان اور افغانستان کے اس رشتے کو تقویت بخشنے میں اب کرکٹ بھی اپنا کردار ثابت کرتا نظر آرہا ہے ۔ دنیائے کرکٹ میں گرچہ افغانستان نے بہت زمانہ پہلے قدم نہیں رکھا ہے لیکن اتنی قلیل سی مدت میں ہی اس نے جو کارنامہ کر دکھایا ہے اور بہتر ٹیموں کے سامنے اپنا جو لوہا منوایا ہے، وہ اس کی پرواز محنت اور سعی مسلسل کا نتیجہ ہے ۔

ابھی حال ہی میں افغانستان کی ٹیم نے زمبابوے کے خلاف جاری پانچ میچوں کی یک روز ہ سیریز میں تین ۔ایک کی سبقت حاصل کی جس میں نوجوان اور سب سے کم عمرکھلاڑی مجیب الرحمان نے عالمی ریکار ڈ قائم کرتے ہوئے زمبابوے کے پانچ کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی ۔مجیب الرحمان صرف 16سال 325دن کی عمر میں کسی یک روزہ مقابلے میں پانچ وکٹ حاصل کرنے والے سب سے کم عمر کے کھلاڑی بنے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے وقار یونس کا ریکارڈ توڑا ہے جنہوں نے 18برس64۱ دن کی عمر میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا ۔ اس سے قبل افغانستان نے زمبابوے کو دو میچوں کی ٹی 20 سیریز میں بھی دو۔صفر سے شکست دی ہے ۔

کرکٹ کی ان ساری کامیاب سرگرمیوں کے لئے افغانستان اپنے ہمسا یہ اور رفیق ملک ہندوستا ن کا ممنون و مشکور رہاہے ۔ابھی کچھ روز قبل ہی افغانستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکیٹوافسر شفیق استانکزئی نے ہندوستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان کرکٹ بورڈ، بی سی سی آئی نے شورش زدہ افغانستان میں کرکٹ کی بے پناہ مقبولیت میں بہت ہی اہم کردار ادا کیا ہے

۔شفیق استانکزئی نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ یہ حقیقت ہے کہ افغانستان کے کھلاڑیوں نے پاکستان میں کافی دنوں تک تربیت حاصل کی ہے لیکن دلی سے متصل گریٹر نوئیڈا میں2015میں جو تربیت افغانی کھلاڑیوں نے حاصل کی ، اس کی مثال نہیں ملتی ۔ استانکزئی کا خیال ہے کہ نوئیڈا میں ملنے والی تربیت کے بعد افغانستان نے پیچھے مڑ کر کبھی نہیں دیکھا اور کامیابی کے زینوں پر ان کا ملک اونچائیوں کی طرف گامزن ہے ۔2017کے جون میں افغانستان کو ٹسٹ ٹیم کا درجہ ملنا اس کی ایک مثال ہے ۔

استانکزئی کہتے ہیں’’بی سی سی آئی کا کردار واقعی کافی اہم رہا ہے۔جب سے ہم لوگوں نے ہندوستان کا رخ کیا ہے،ہماری ٹیم نے بہتر کارکردگی پیش کی ہے ۔ ہندوستا ن کے حالات ہماری ٹیم کے کافی موافق ہیںاور جو مدد اور حمایت ہمیں بی سی سی آئی سے ملتی ہے وہ تو بے
مثال ہے۔‘‘

افغانستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکیٹوافسر شفیق استانکزئی سے جب پوچھا گیا کہ پاکستان کے تعاون کے مقابلے ہندوستانی امداد کو وہ کتنا اعلی تسلیم کرتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہم لوگوں نے ابتدائی تربیت حاصل کی تھی اور پی سی بی نے بھی اس میں اچھا خاصی مدد کی تھی لیکن جب سے ہندوستان کا ہم لوگوں نے دورہ کیا ہے اور تربیت حاصل کی ہے تب سے ہم نے بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ہندوستان کی فراخ دلی کی ایک اور مثال یہ ہے کہ افغانستان اپنی تاریخ کا سب سے پہلا ٹسٹ میچ بھی ہندوستان میں کھیلنے والا ہے 14 جون سے 18جون تک کھیلے جانے والے افغانستا کے اس تاریخ ساز ٹسٹ میچ کی میزبانی بنگلورو کے حصے میں آرہی ہے۔

ہندوستان اور افغانستان کی کرکٹ میں مستحکم ہوتی یہ دوستی لیکن سیاسی و ثقافتی مشکلات میں گھرے پاکستان کو راس نہیں آرہی ہے اور اپنی فطرت کے عین مطابق وہ پریشان سا نظر آنے لگا ہے ۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریار خان تو اس قدر پریشان نظر آئے کہ انہوں نے افغانستا ن پر پاکستان کے تئیں سیاسی اور غیر ضروری جارحانہ رویہ کا الزام عائد کر دیا ۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان کو پہلا ٹسٹ میچ اس کے ملک کے ساتھ کھیلنا چاہئے تھا ۔ افغانستا ن کرکٹ بورڈ نے تو اب پاکستان سے تمام رشتے ہی منقطع کر لئے ہیں جب سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس سال کے اوائل میں کابل میں ہونے والے تباہ کن حملے کے پیچھے پاکستان میں پناہ لینے والے دہشت گردوں کا ہاتھ رہا ہے ۔

اس سے پہلے بھی افغانستان میںہونے والے جان لیوا حملوں میں پاکستان میں مقیم دہشت گردنیٹ ورک کو ہی ملوث خیال کیا جاتارہا ہے ۔ان دہشت گردانہ حملوں نے افغانستان میں ہزاروں معصوم شہریوں کی جانیں لے لی ہیں۔ ہندوستان کے ساتھ افغانستان کے مستحکم ہوتے سیاسی، اقتصادی اورثقافتی تعلقات سے بھی پاکستان خوش نظر نہیں آتا اور ہر کروٹ ہی و ہ بے چین نظر آتا ہے ۔ بات چاہے کابل کو ممبئی سے منسلک کرنے والے دوسرے ہوائی کارگو کے راستے کی ہویا پھرا یران کے چاہ بہار کے ذریعے افغانستان کو بھیجے گئے ہندوستانی گیہوں کی پہلی کھیپ کی ہویا ہندوستانی ملٹری اکیڈمی میں افغانستان کی خاتون افسران کی تربیت حاصل کرنے کی ہو، پاکستان ہر جانب سے خود کو پریشان اور خائف سا ہی پاتا ہے اور یہی شاید اس ملک کا مقدر بھی ہے۔

مضمون نگار افغان امور کے ماہر ہیں،  انہوں  نے 6 سال کا عرصہ افغانستان کی میڈیا انڈسٹری  میں گزارا ہے 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *