اردو کے حوالے سے وزیر اعظم کا حوصلہ افزا پیغام اور عالمی اردو کانفرنس کی موجودہ صورت حال

محمد صبغۃ اللہ ندوی

Asia Times Desk

محمد صبغۃ اللہ ندوی

کبھی داغ دہلوی نےکہا تھا کہ ” اردوہےجس کا نام ہم ہی جانتے ہیں داغ ۔۔۔ ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے ۔یہ اس وقت کی بات ہے جب ملک میں اردوزبان خوب بولی جاتی تھی ، پڑھی جاتی تھی اورلکھی جاتی تھی ۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ اردو لوگوں کےلئےاوڑھنا بچھونا بن گئی تھی ۔اس  کےبغیر کام  نہیں چلتا تھا۔ اردو کےبڑے بڑے شعراء اورادیب ہوا کرتے تھے ۔ اسے اپنی ضرورت سمجھ کر ہر مذہب کےلوگ پڑھتے اورسیکھتے تھے ۔ ایک وہ دور تھا جب اردوبلاتفریق مذہب مادری زبان اورلوگوں کی ضرورت ہوا کرتی تھی اورایک آج کا دور ،مذہبی تعصب کا ایسا رنگ اردوپر چڑھایا گیا کہ اسےکب اورکیسے  مسلمان بنادیا گیا کسی کو پتہ ہی نہیں چلا ۔

اب تو مسلمانوں کی اکثریت بھی اسے اپنانےاورپڑھنے لکھنے سے کتراتی ہے ۔ایک محدود طبقہ جنہیں محبان اردو کہا جاتا ہے یا وہ خود کہتے ہیں ، ان کی طرف سے اردوکی ترقی اورترویج کی باتیں ہوتی ہیں یا وہ اس کے لئے کام کرتے ہیں ۔اگر ان کےگھروں کا جائزہ لیا جائے تو وہاں بھی اردوندارد ہوتی ہے ۔

ایسی بات نہیں کہ اردوختم ہوگئی ، زبان کبھی  ختم نہیں ہوتی چاہے لوگ پڑھیں لکھیں نہیں لیکن بولی میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے اوردوسری زبان میں اس کےالفاظ استعمال ہوتےرہتےہیں ۔یہی زبان کی سب سے بڑی خصوصیت ہوتی ہے ۔اردو ہر دور میں بول چال ، شعروشاعری ،فلم  ، سیاست ہر میدان میں لوگوں کی ضرورت رہی اورآج بھی  ہے ، اس کی شیرینی کا اعتراف وہ بھی کرتاہے جس نے اردونہیں پڑھی  ۔جنگ آزادی میں  اردونے اہم رول ادا کیا تھا ،انقلاب زندہ باد جیسے مشہور نعرے اسی کے ہیں ، آج بھی سیاست میں اردوکا استعمال نعروں اوراسکیموں میں بڑھ چڑھ کر کیا جاتا ہے ۔ اس کےبغیر کام  نہیں چلتا ۔ اگر اردوکے بجائے کسی اورزبان کےالفاظ استعمال کئے جائیں تووہ بات نہیں رہےگی جو اردوکےالفاظ استعمال کرنےمیں ہوتی ہے ۔وعدہ ، جملہ ، بہتر،ہنر ،نئی سوچ نئی امید،وقت کی قدر کیجئے ، بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ اورمودی سرکار کانیا نعرہ  ناممکن اب ممکن وغیرہ سب اردوکےالفاظ اورجملے ہیں ۔انہیں بنانےوالے بھلےہی خود کو ہندی داں کہیں لیکن اردوکی مدد اورسہارالئے بغیر ان کا کام نہیں چلتا ۔اس سے پتہ چلتا ہےکہ اس کےپڑھنے اورلکھنےوالے کم ہورہےہوں لیکن چاہنےوالے اب بھی موجود ہیں ۔ آج ٹوئٹر پر دیکھئے تو ہر کوئی چاہےمسلم ہو یا غیر مسلم اپنا نام انگریزی اوراردودونوں میں لکھ رہا ہے جیسے اردومیں نام لکھنےکا فیشن چل پڑاہے ۔

کسی بھی زبان کی پہچان اس کےرسم الخط سے ہوتی ہے اوراس کی بقا اس کے پڑھنےلکھنے اوراستعمال میں مضمر ہوتی ہے ۔یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ ملک میں اردواپنےوجود کی لڑائی لڑرہی ہے کیونکہ ابھی اس کی نوبت نہیں آئی ہے ہاں یہ ضرور کہا جاسکتا ہےکہ اردوبھی دیگر زبانوں کی طرح اپنےفروغ وترویج کےلئے جدوجہد کررہی ہے ۔اردوکےدشمنوں نے ایک بات پھیلادی کہ اس کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کا رسم الخط ہے اگر دیوناگری میں لکھا جائے تو یہ بھی ترقی کرےگی ۔

اب تک اردونےاپنےرسم الخط کےساتھ سفرطے کیا اورآگے بھی  کرے گی ۔ جب پہلے اپنےرسم الخط کےساتھ ترقی کررہی تھی تو اب کیوں نہیں کرسکتی پھر رسم الخط ہی بدل دیا جائے تو پہچان ہی کیا رہے گی ؟اب تو وزیراعظم نریندر مودی نے بھی قومی کونسل برائے فروغ زبان اردوکی چھٹی عالمی کانفرنس کے لئے ارسال کردہ اپنےپیغام میں رسم الخط کےبارے میں کہہ دیا کہ ‘ اردوکا حسن اس کا رسم الخط ہے ، اس کی سب سےبڑی خوبی یہی ہے کہ اسے دائیں سے بائیں طرف لکھا جاتا ہے اوراردو زبان نہ صرف ایک مقبول عام زبان ہے بلکہ ہندوستان کی خوبصورت گنگا جمنی تہذیب کی علامت بھی ہے ‘۔کانفرنس میں وزارت فروغ انسانی وسائل کےجوائنٹ سکریٹری مدھورنجن کمار کی اس بات پر غور کریں کہ ‘ ہم ہندوستانی اپنے مٹھاس کےلئے جانے جاتے ہیں اگر اردونہ ہوتی تو ہم بھی اتنے میٹھے نہیں ہوتےاورشرافت جہاں سے شروع ہوتی ہے وہیں سے اردوشروع ہوتی ہے ‘۔کانفرنس میں آرایس ایس کےلیڈراندریش کمار کی وہ تقریر دیکھئے جس میں انہوں نےکہا کہ ‘اردوکا گھر ہندوستان تھا ، ہے اورہمیشہ رہےگا ، اردوزبان بے گھر اورلاوارث نہیں ، اس کےوارث بھی ہیں اورچاہنےوالے بھی ،اس کی سرپرستی ہمیشہ ہندوستان نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان واحد ایسا ملک ہے جہاں دنیا کےتمام ملکوں سے زیادہ اردوکےلئے بجٹ مختص ہوتاہے ۔

مذکورہ باتیں  غلط نہیں ہیں  لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب عمل کی بات آتی ہے تو اردوکےساتھ سب سے زیادہ سوتیلا سلوک کیا جاتا ہے ۔صرف ایک ووٹ سے اردوپارلمنٹ میں ہندی سے پچھڑی تھی اورمرکزی حکومت کی پہلی زبان نہیں بن سکی تھی ۔وقت ،حالات اورلوگوں کی چاہت کا تقاضا تھا کہ ہندی کی طرح سرکاری سطح پر اردوکےساتھ سلوک کیا جاتا ہے اوراس پر خرچ کیا جاتالیکن افسوس آج سرکاری اقدامات میں دونوں زبانوں میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔دوسری بات یہ ہےکہ جس کانفرنس میں اردو کےتعلق سے مذکورہ باتیں کہی گئیں اس میں شرکاء کی تعداد بہت کم تھی اورمحبان اردو کےسامنےانگریزی میں مقالے پیش کئےگئے، کتنی شرم اورافسوس کی بات ہے۔

  آج اردو کےمسائل بہت ہیں ۔یہ بھی حقیقت ہےکہ اس کےساتھ سوتیلا سلوک کیا جاتا ہے یہانتک کہ جو لیڈروقتافوقتا کسی کانفرنس ،سیمینار ،بیانات اورتقریروں میں اردوکی تعریف اوراس کا حسن بیان کرتےنظر آتے ہیں جب اردوکےفروغ اورترویج کےلئے ان سےسرکاری سطح پر  کچھ کرنے یا کروانےکی بات کی جاتی ہے یا مطالبہ کیا جاتا ہے تو جھوٹی تسلی دے کر منھ پھیر لیتے ہیں ہم بھی جو اردو کا فروغ چاہتے ہیں صرف دوسروں کو مورد الزام ٹھہراکر اپنا دامن بچاتے ہیں ۔اپنےگھروں ، محلوں اورمعاشرے میں اردوکےفروغ کےلئے جتنا کام کرنا چاہئے ،نہیں کرتے ۔جس دن اردوزبان لوگوں کی مجبوری بن جائے گی حکومت کی مجبوری بھی بن جائےگی بالکل مدارس کی ڈگری کی طرح جس سے پہلےکسی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں ہوتا تھا آج ضرورت اورمجبوری بن جانےکی وجہ سے ہر جگہ مدارس کےطلباکو نہ صرف داخلہ دیا جارہا ہے بلکہ مدارس کی  ڈگریوں کی بنیاد پر سرکاری نوکری بھی دی جارہی ہے ۔اردوکا فروغ محبان اردو کےہاتھ میں ہے ۔ ہم خود اردوکو چھوڑتے گئے تو دوسرے بھی اس سے اجنبی بنتے گئے ۔ جب اردو آج بھی بول چال کی ، نعروں اور اسکیموں کی زبان ہے تو ہم پڑھنےلکھنے اورسرکاری کام کاج کی زبان کیوں نہیں بناسکتے ؟پہلےخود اردوداں توبن کر دکھائیں ۔یہی کہا جاسکتا ہے کہ

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا

ہم ہی سوگئے داستاں کہتے کہتے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *