اجودھیا کیس کی سماعت یا پوسٹ مارٹم

محمد صبغة اللہ ندوی

Asia Times Desk

جیساکہ امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ اجودھیا کے مسئلہ میں اراضی کی ملکیت کو ثابت کرنا کسی کے لئے آسان نہیں ہوگا ۔جیسے جیسے مقدمہ سپریم کورٹ میں آخری مرحلے میں داخل ہورہا ہے فریقین کی نیند اڑتی جارہی ہے، وہ خوف واندیشے میں مبتلاہورہے ہیں ۔آئینی بنچ کے لئے بھی فیصلہ لکھنا اورسنانا بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے ۔ جب فیصلہ سنانا اتنا بڑا مسئلہ بن گیا ہے تو سمجھ سکتے ہیں کہ اسے نافذ کرنا اورفریقین کا اس پر آمادہ ہونا کتنا مشکل ہوگا ۔ بہرحال اب ملک اوردنیا کی نگاہیں سپریم کورٹ کی طرف مرکوز ہیں کہ مقدمہ کا فیصلہ کیا ہوتا ہے ؟اورکیوں نہ ہو جب مقدمہ کی سماعت پوری ہونے میں گنتی کے چند دن رہ گئے ہیں ۔چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی نے روزانہ سماعت کرتے ہوئے ۲۳ ویں دن یعنی ۶۲ ستمبر کو سماعت پوری کرنے کی ڈیڈ لائن ۸۱ اکتوبر مقرر کردی اورصاف صاف کہہ دیا کہ فریقین اس وقت تک سماعت پوری کردیں ورنہ فیصلہ جلدی آنے کا موقع کم رہے گا ۔اس پر جب نرموہی اکھاڑے نے مداخلت کی تو چیف جسٹس بھڑک گئے اورکہا کہ کیا وہ ریٹائرمنٹ کے دن تک سماعت ہی کرتے رہیں گے ۔یہ بات انہوں نے اس لئے کہی کیونکہ ۸۱ اکتوبر کو سماعت مکمل ہونے کے بعد صرف چار ہفتے فیصلہ لکھنے کے لئے بچیں گے۔ موجودہ چیف جسٹس جو آئینی بنچ کے سربراہ ہیں ،۷۱ نومبر کو ریٹائر ہورہے ہیں اب اگر ان کی سربراہی میں فیصلہ نہیں سنایا گیا تو مقدمہ کی سماعت کے لئے نئی بنچ بنانی پڑے گی اوروہ بنچ پھر سے از سرنو سماعت کر ے گی اس لئے ابھی اگر فیصلہ نہیں سنایا گیا توفیصلہ میں تاخیر ہوگی حالانکہ قانون میں اس کی گنجائش ہے کہ اگر کوئی جج کسی اہم معاملہ کی سماعت کررہا ہے اورفیصلہ سنانے سے پہلے اس کے ریٹائرمنٹ کی نوبت آجاتی ہے تو اس کی سروس میں توسیع کی جاسکتی ہے جیساکہ بابری مسجد انہدام کیس کی سماعت کرنے والے خصوصی جج کے ساتھ کیا گیا ، وہ فیصلہ سنانے کے بعد ہی ریٹائر ہوں گے ، یہ انتظام جسٹس گوگوئی نے ہی خصوصی جج کی درخواست پر کیا تھا ۔چیف جسٹس آف انڈیا کی سروس کی مدت میں بھی توسیع کی جاسکتی ہے لیکن اس میں قانونی پیچیدگیاں ہیں جن سے وہ بچنا چاہتے ہیں اورکہہ رہے ہیں کہ ریٹائرمنٹ سے پہلے مقدمہ کا فیصلہ ہوجانا چاہئے حالانکہ آئینی بنچ میں جسٹس شرداروندبوبڑے بھی شامل ہیں جو چیف جسٹس کی سبکدوشی کے بعد ان کی جگہ لیں گے لیکن قانون کہتا ہے کہ بنچ کا سربراہ بدلنے کے بعد پھر سے نئی بنچ سماعت کرے گی ۔
اجودھیا کے ٹائٹل سوٹ یعنی اراضی کی ملکیت کے مقدمہ کی سماعت سپریم کورٹ کی نگرانی میں مصالحت کی ایک اور کوشش کی ناکامی کے بعد امسال ۵ اگست سے یومیہ شروع ہوئی جو ہفتہ میں پانچ دن ہوتی ہے ادھروقت کی کمی کے پیش نظر سماعت کے اوقات میں ایک گھنٹے کا اضافہ کردیا گیا ۔ پہلے مندر کے حامیوں کے فریقوں نرموہی اکھاڑہ ،رام للا، ہندومہاسبھااوررام جنم بھومی کی طرف سے دلائل پیش کئے گئے پھراترپردیش سنی سنٹرل وقف بورڈ یعنی مسلمانوں کی طرف سے جمعیتہ علماءہند،مسلم پرسنل لابورڈ اوردیگرکے وکلاءنے ہندوفریقوں سے جرح کی اوراپنی بات رکھی ۔آخر میں ہندوفریقوں نے جرح کی ۔اب تک بحث اورجرح کے نچوڑ کے طور پر جسٹس بوبڑے کاوہ تبصرہ کافی اہم ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہندواورمسلم فریقوں کی طرف سے جو بھی ثبوت اوردلائل پیش کئے گئے ان سے ثابت نہیں ہوتا کہ متنازعہ اراضی پر کوئی مندر تھا جسے توڑ کر مسجد بنائی گئی تھی یا خالی اراضی پر مسجد بنائی گئی تھی اورتمام فریقوں کا معاملہ محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ کے مختلف نظرےئے پر ٹکا ہوا ہے ۔اصلی ثبوت کے بجائے ان کے پاس صرف اندازے ہیں ۔ واضح رہے کہ اس مقدمہ میں بہت ہی اہم کڑی محکمہ آثار قدیمہ کی کھدائی رپورٹ تھی جب اس پر مسلمانوں کی طرف سے ایڈوکیٹ میناکشی اروڑہ نے یہ سوال اٹھایا کہ اسے صرف ماہرین کی رائے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے سپورٹ کے لئے کوئی ثبوت بھی ہونا ضروری ہے تو جسٹس عبدالنذیز کا یہ تبصرہ کافی اہمیت رکھتا ہے کہ محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ پوری طرح سائنٹفک نہیں ہے اوراس پر سیکشن ۵۴ لاگو نہیں ہوتا لیکن اسے مسترد بھی نہیں کیا جاسکتا ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندواورمسلمان دونوں فریقوں کی طرف سے محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ پرکسی نہ پہلوسے سوالات اٹھائے گئے اوربطورثبوت پیش کرکے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی کی گئی ۔ ایسے میں یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ مقدمہ کس رخ پر جارہا ہے ۔جب فریقوں کے لئے اپنے موقف کو ثابت کرنا اتنا مشکل ہورہا ہے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ججوں کے لئے فیصلہ لکھنا آسان نہیں ہوگا ۔اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا ہوا نظرنہیں آرہا ہے ۔ایسے حالات میں صرف امکانات اوراندیشے ظاہر کئے جاسکتے ہیں اوروہی ہورہا ہے ۔پہلے بھی یہی ہورہا تھا اوراب بھی یہی ہورہا ہے کچھ بھی تو نہیں بدلا۔
جتنی قدیم مسجد تھی اس سے زیادہ قدیم مندر اوراس سے متعلق آستھا کی باتیں ہیں ۔ نہ اس دور کے لوگ موجود ہیں اورنہ اس دور کی تاریخ کی پرانی کتابوں میں ان کا واضح ذکر ہے اس لئے ہر ایک سامنے حریف کی باتوں کی کاٹ تو موجودہے لیکن اپنی بات کس طرح ثابت کرے یہیں آکر گاڑی پھنس جاتی ہے اورآگے نہیں بڑھتی ۔ جب فریقین کی گاڑی پھنسی ہوئی ہے تو آئینی بنچ میں شامل ججوں کی گاڑی کس طرح آگے بڑھے گی ؟بہرحال معاملے کی سماعت نہایت ہی خوش اسلوبی سے ہوئی ، اس میں باہرسے رخنہ اندازی نہیں کی گئی ۔

آئینی بنچ میں شامل پانچوں ججوں جسٹس گوگوئی ، جسٹس بوبڑے ،جسٹس ڈی وائی چندچوڑ ، جسٹس اشوک بھوشن اورجسٹس ایس اے نذیر کے وقتا فوقتا تبصرے کبھی کسی کے حق میں رہے تو کبھی کسی کے ۔ان کے تبصروں سے وقتی طور پر کسی فریق کو خوشی اورتسلی تو ہوجاتی تھی لیکن اب جو تبصرے اور ریمارکس آرہے ہیں اس سے فریقین ہی نہیں مسجد اورمندر کے حامیوں کی بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔کوئی بھی فیصلہ کا اندازہ نہیں لگاپارہاہے ۔جس اجودھیا کے معاملے نے سات دہائیوں سے پورے ملک کا جینا دوبھرکررکھا ہے سپریم کورٹ میں جب اس کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تو پتہ چلا کہ اس کی بنیاد ہی کھوکھلی ہے ۔اس پر عقیدے اورآستھا کی اتنی موٹی چادر ڈال دی گئی تھی کہ کھوکھلی بنیاد اورحقیقت کسی کو نظر نہیں آتی تھی ۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ سپریم کورٹ نے تمام فریقوں کو آئینہ دکھایا ہے اوران کی اصلیت دنیا کے سامنے رکھ دی ہے ۔اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر فیصلہ کسی بھی فریق کے خلاف آیا یا دونوں کے خلاف، تو وہ اپنے حامیوں کو کیا منھ دکھائیں گے؟

اوران کو مطمئن کیسے کرسکیں گے؟ ۔اب سب کو سمجھ میں آرہا ہے کہ باتیں بتانا ، سیاست کرنا اوربھولے بھالے عوام کو بیوقوف بنانا آسان ہوتا ہے لیکن قانون کے کٹہرے میں ان باتوں کو ثابت کرنا آسان نہیں ہوتا ۔سپریم کورٹ میں اجودھیا کیس کی سماعت ہی نہیں ہورہی ہے بلکہ اس کا پوسٹ مارٹم بھی کیا جارہاہے جو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا ۔اسی لئے تو کیس کے مستقبل کے تعلق سے ہر طرف خاموشی اورسناٹا چھایا ہوا ہے ۔ کوئی کچھ نہیں بول رہا ہے بولے بھی کیسے جب بولنے کے لائق نہیں رہے ۔

سب کی بولتی بند ہوگئی ہے ۔اس پر سیاست بند ہوگئی ہے ۔ملک کا سب سے سنگین اورپیچیدہ مسئلہ اتنی کمزور بنیادوں بلکہ بے بنیاد کھڑا تھا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ۔اگر سپریم کورٹ میں دوٹوک سماعت نہیں ہوتی اورمقدمہ سے جوڑی گئی غیرضروری اورغیرضروری لوگوں کو الگ نہیں کیا جاتا تو معاملہ کی اصلیت دنیا کے سامنے نہیں آتی ۔کاش کہ اب بھی ملک کے لوگوں کی آنکھیں کھل جاتیں اوروہ سمجھ جاتے لیکن یہی تو نہیں ہوپاتا جس کا فائدہ سیاست کرنے والے اٹھاتے ہیں اورلوگ بیوقوف بنتے رہتے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *