چینلوں اورمیڈیا کی صحافتی بددیانتی اورشرانگیزی

محمد صبغۃ اللہ ندوی

Asia Times Desk

خود کوجمہوریت کا چوتھا ستون کہنےوالا میڈیا اورپریس آج کل کیا کررہا ہے ، کسی سے مخفی نہیں ، ایک دو نیوز چینلوں کو چھوڑ کر باقی کو دیکھ کر کوئی کہہ نہیں سکتا کہ وہ جمہوریت کا چوتھا ستون کہنےیا کہلانے کے لائق ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی رپورٹوں ، پروگراموں ،بحثوں اوراینکرنگ کےذریعہ جمہوریت ،سیکولرزم اوربھائی چارہ پر ضرب لگارہے ہیں جو ایک جمہوری ملک میں زیب نہیں دیتا ۔جتنا ہندو۔مسلم سیاست داں سیاسی فائدے کےلئے نہیں کرتے اس سے کہیں زیادہ نیوز چینل کررہے ہیں ۔وہ عوام کےترجمان جو ہونا چاہئے ، کم اورسیاسی پارٹیوں کےترجمان جو نہیں ہونا چاہئے ، زیادہ نظر آتے ہیں ۔ان کی غلط رپورٹنگ  سے کہیں ہنگامہ اورماحول خراب ہوجاتاہےتوکہیں کسی بڑی شخصیت کی شبیہ خراب کرنےکی سازش ہوتی ہے ،اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنا عام بات ہے۔زیادہ دن نہیں ہوئے گزشتہ ماہ فروری میں ریپبلک ٹی وی چینل نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی غلط رپورٹنگ کرکے وہاں کا ماحول کشیدہ کردیا تھا ، یونیورسٹی کےطلباء پر غداری کا  کیس تک درج کیا گیا تھا جوانکوائری میں غلط ثابت ہوا اور مقدمہ واپس لیا گیا ، ہنگامے کی وجہ سے کئی طلباء کا اخراج ہوا ۔

معاملہ کچھ نہیں تھا صرف ممبر پارلمنٹ اسدالدین اویسی کے یونیورسٹی کیمپس آنےکی جھوٹی افواہ ۔ پورے معاملے میں ری پبلک ٹی وی کی غلط رپورٹنگ کا بہت اہم رول تھا ۔اس واقعہ سے چینل نے کوئی سبق  حاصل نہیں کیا تب ہی تو جب پلوامہ حملےکےتناظر میں جماعت اسلامی کشمیر پر پابندی لگائی گئی تو انگریزی زبان کےریپبلک ٹی وی نے اس کی آڑ میں جماعت اسلامی ہند کو نشاہ بنایا ،جماعت کےامیر اورآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر محترم سید جلال الدین عمری کو کشمیر کی جماعت اسلامی کا کمانڈر ان چیف بتاکر عسکریت پسندوں اور علاحدگی پسندوں  کی صف میں کھڑا کرنے کی مذموم کوشش کی ۔

ایسا نہیں ہوسکتا کہ پوری دنیا کی خبر رکھنےوالے ٹی وی چینل کو اپنے ملک کی تنظیموں کےبارے میں کچھ بھی پتہ نہیں ۔دوسری بات یہ ہے کہ کوئی بھی حساس خبر  نشر کی جاتی ہے تو پہلےپوری معلومات حاصل کی جاتی ہے ۔کسی نام کےایک آدمی یا تنظیم کے خلاف حکومت کوئی کارروائی کرے کیسےنیوز چینل اس نام کےکسی بھی تنظیم یا آدمی کو بدنام کرنےلگیں گے۔پلوامہ حملےکےتناظر میں سی این این نیوز 18 نے’ جیش محمد ‘ کےمسعود اظہر کی جائیداد کےساتھ مسجد الحرام ، مسجد نبوی اورمسجد اقصی کا ویڈیو دکھاکر الگ اسلام کو بدنام کرنےاور مسلمانوں کی دلآزادی کاکا م کیا ۔

دنیا میں جس طرح ایک نام کے کئی مقامات ، افراد اورادارے ہوسکتے ہیں اسی طرح تنظیمیں ہوسکتی ہیں ، کانگریس کےنام سے دنیا بلکہ ملک میں کتنی جماعتیں ہیں لیکن کیا سب کا دستور اورقائد ایک ہے ؟ جواب ملےگا نہیں ۔ اسی طرح جماعت اسلامی پاکستان ، جماعت اسلامی بنگلہ دیش ، جماعت اسلامی کشمیر اورجماعت اسلامی ہند سب الگ الگ جماعتیں  ، سب کا الگ الگ دستور ،دفتر ، افراد اورقائد ہیں ، ان کو ایک بتانا سراسر سازش ہے ، ایک اندھے کو بھی بتایا جائے تو کہےگا کہ سب کی حیثیت الگ الگ ہے پھر دنیاکےحالات وواقعات سے باخبر رہنے والا نیوز چینل کیسے جماعت اسلامی کشمیر اورجماعت اسلامی ہند کو ایک بتاکر خبریں نشر کرسکتا اوراول الذکر جماعت کی آڑ میں آخر الذکر جماعت کے قائدہ کو بدنام ہی نہیں دہشت گرد قرار دے سکتا ہے ؟یہ چینل کی نہایت ہی گری ہوئی حرکت کےساتھ ساتھ اس میں گہری سازش کی بوآتی ہے اورظاہر کرتا ہے کہ چینل کا اخلاقی معیار کتنا گرچکااوراس کی صحافتی بددیانتی کس حدتک پہنچ چکی ہے ۔

چینل نے جیسے ہی مذکورہ خبر نشر کی جماعت اسلامی ہند نے فورا نوٹس لےکر شکایت انڈین براڈکاسٹرس ایسوسی ایشن میں کی جبکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ ، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ، پی ایف آئی ، غریب نواز فاؤنڈیشن ،مولانا عبدالحمید نعمانی اورایڈوکیٹ محمود پراچہ جیسے متعدد سرکردہ شخصیات نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مذمتی بیان جاری کیا ، یہ بھی کہا کہ جو چینل اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں ان کے خلاف کارروائی اورمقدمہ ہونا چاہئے ۔سخت ردعمل اور شکایت کا اثر تھا کہ چینل نے ایک ٹوئٹ میں  رپورٹنگ پر غیرمشروط معافی مانگی ،دوسرے  ٹوئٹ میں تصحیح جاری کرتے ہوئے کہا کہ ریپبلک ٹی وی مولاناجلال الدین عمری کی غلط تصویر لگانے کے لئےتصحیح نامہ اورمعافی ، لاپرواہی کےنتیجے میں غلطی ہوئی ، متعلقہ ویڈیومیں ایڈیٹر نے غلط تصویر لگادی اورغلط طریقے سے ایک بار نشر کردیا جس کو فوری طورپر درست کرلیا گیا  ۔ متنازعہ ویڈیوکو ویب سائٹ سےہٹاکر واضح کیا  کہ جماعت اسلامی ہند کا جماعت اسلامی کشمیر سے کوئی لینا دینا نہیں ۔سی این این نیوز 18 نے اپنی شرانگیزی پر ابھی تک معافی نہیں مانگی ہے ۔

مولانا کی اتنی بڑی شخصیت جو محتاج تعارف نہیں ، ملک کی ایک بڑی ملی تنظیم کےسربراہ ہی نہیں ان کی درجنوں کتابیں شائع ہوچکی ہیں ، ان میں سے کوئی بھی حکومت کی نظر میں قابل اعتراض نہیں ، ان کی کتابیں قدرکی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں ،مولاناکا شمار ملک کی اہم ملی ودینی شخصیات میں ہوتا ہے اوروہ جماعت کےعلاوہ بھی متعدد پلیٹ فارم سےاہم ذمےداریا ں انجام دیتے ہیں ،جن کی سماج میں اتنی عزت اورقدر ہو ان کو عسکریت پسندوں اورعلاحدگی پسندوں کی صف میں چینل نےکیسے کھڑا کردیا ؟ملی تنظیموں سے پہلے حکومت کو نوٹس لینا چاہئے تھا۔ایک تو غلط خبر دوسرے غلط الزام سے سنسنی ،کسی جماعت ،اس کےسربراہ اور افراد کو بدنام کرنےکامعاملہ معافی مانگنےسے ختم نہیں ہوتا۔ خبر کو جتنے لوگوں نے دیکھا ہوگا،سب تک معافی نامے کی خبر نہیں پہنچی ہوگی پھر ان کےذہن میں وہی رائے قائم ہوگی جو چینل پھیلانا چاہتا تھا ۔  شرانگیزی کےبعدغیر مشروط معافی لیپاپوتی کےعلاوہ کچھ نہیں ۔میڈیا کےایسے اداروں کےخلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئے جو غلط خبریں نشر کرکے ماحول خراب کرتے،سماج میں نفرت ودشمنی کا بیج بوتے ہیں ۔مقصد صرف ان کو سیاسی فائدہ پہنچانا ہوتاہے جن کےلئے کام کرتے ہیں تب ہی تو وہ جگہ جگہ شرانگیزی کرتے رہتے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *