اسلام اورمسلمان ایسے ہیں پھر یہ کیوں ؟

محمدصبغۃ اللہ ندوی

Asia Times Desk

وزیراعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر کہا کہ دہشت گردی اورمذہب کےبیچ کوئی رشتہ نہیں اوردہشت گردی کو مذہب سے نہیں جوڑنا چاہئے ، مطلب دہشت گرداوردہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا خواہ وہ اپنے کرتوتوں کےلئے مذہب کا استعمال کریں ۔دوسری بات یہ کہی کہ اسلام کےمعنی  شانتی ہے اوروہ  امن کا مذہب ہے ۔اللہ کے99 ناموں میں سے نہ کسی کےمعنی تشدد نہیں اورنہ کوئی تشدد کا پیغام دیتا ہےبلکہ اللہ رحمن ورحیم ہے ۔یہ بات  امسال مارچ میں ابوظہبی میں منعقدہ اوآئی سی کے اجلاس میں اس وقت کی وزیرخارجہ سشماسوراج نےبھی کہی تھی کہ ‘ دہشت گردی مخالف  جنگ کسی مذہب کےخلاف ہوہی نہیں سکتی ، اسلام کا مطلب ہی امن ہے اوراللہ کے99 ناموں میں سے کسی کا بھی مطلب تشدد نہیں ۔وزیراعظم نے ایک اہم بات یہ بھی کہی کہ ملک کی تقسیم کےوقت زیادہ تر مسلمانوں نے ہندوستان میں قیام کو منتخب کیا ۔

یہ سب باتیں نئی دہلی میں علماء ومشائخ بورڈ کےزیراہتمام پہلی ورلڈ صوفی کانفرنس میں کہی جس کی رپورٹ کم وبیش تمام اردو، ہندی اورانگریزی اخبارات میں چھپی ۔ کیا ملکی سماج اورسیاست پر ان باتوں کا اثر پڑے گا ؟ماضی کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو نفی میں جواب ملےگا ۔ابھی وزیراعظم نےکہا کہ تقسیم کےوقت زیادہ تر مسلمانوں نے ہندوستان میں قیام کو   ترجیح دی تھی  اس سے پہلے ستمبر 2014 میں امریکی دورے سے قبل غیرملکی چینل سی این این کو دیئے گئے  انٹرویو میں ان  سے مسلمانوں کی دیش بھکتی کےبارے میں سوال کیا گیا تو کہاتھا کہ مسلمانوں کی دیش بھکتی پر سوالات نہیں اٹھائے جاسکتے ۔

ہندوستانی مسلمان ہندوستان کےلئے ہی جئیں گے اور ہندوستان کےلئے مریں گے ۔ یہ سوچنا ‘ القاعدہ ‘ کا وہم ہے کہ وہ اس کےاشاروں پر کام کریں گے ۔ القاعدہ یا اس طرح کی دوسری نام نہاد تنظیمیں سوچیں یا نہ سوچیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ ملک کی بہت بڑی آبادی حتی کہ سیکورٹی اورانٹلی جنس ایجنسیاں ایسا ہی سوچتی ہیں تب ہی تو مسلمانوں پر شبہ کیا جاتا ہے ۔ نام نہاد القاعدہ اور داعش کےنام پر مسلمانوں کی گرفتاری ہورہی ہے ۔

تازہ معاملہ ایسٹربم دھماکہ معاملہ میں  آئی ایس آئی ایس کیرلا اورتملناڈوماڈیول کےنام پر این آئی اے کی چھاپہ ماری اورگرفتاری ہے ۔کوئی ان سے دیش بھکتی کا ثبوت مانگتا پھرتا ہے تو انٹلی جنس اورسیکورٹی ایجنسیاں دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیتی ہیں اس کی وجہ سے ملک میں آبادی کی شرح سے زیادہ جیلوں میں مسلمانوں کی آبادی ہے ، کہیں ہر تیسرا تو کہیں ہر چوتھا یا پانچواں قیدی مسلمان نظر آتا ہے ۔

یہ بات خود کرائم ریکارڈز بیوروکی رپورٹ کہتی ہے پھر وہ دس دس پندربرسوں میں اپنی بے گناہی ثابت کرکے باعزت رہاتوہوتے ہیں لیکن ان کا کیریئر تباہ ہوجاتا ہے۔پرانےوفرسودہ ٹاڈا ہو یا پوٹا موجودہ دہشت گردی مخالف قانون یو اے پی اےہر سیاہ قانون کےتحت ملک میں سب سے زیادہ مسلمانوں کی گرفتاری ہوئی حتی کہ ٹاڈااورپوٹاکی موت ہوچکی ہے لیکن اس کی  مار اب بھی بہت سے مسلمان قیدی جھیل رہے ہیں ۔

ظاہر سی بات ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں نے ہندوستان میں قیام کو یوں ہی ترجیح نہیں دی ہوگی بلکہ ملک ،اس کی مٹی سے لگاؤاورمحبت کی وجہ سے دی تھی، یہ قلبی تعلق تھا اورہے جو آگے بھی رہےگا ۔ یہ اپنے  آپ میں دیش بھکتی کا بہت بڑا ثبوت ہے لیکن آج کی سیاست میں زبان سے دیش بھکتی کا ثبوت مانگا جارہا ہے اوردیش بھکتی کو ‘بندے ماترم ‘اور’بھارت ماتا ‘کی جے کے نعروں میں قید کیا جارہا ہےیعنی جو یہ کہےگا وہی دیش بھکت ہوگا اورجو نہیں کہے گا وہ غدار ۔یعض لوگ تو حد سے اس قدر تجاوز کرجاتے ہیں کہ یہانتک بول دیتےہیں کہ   اس دیش میں رہنا ہے تو’ بھارت ماتا کی جے ‘ ‘جےشری رام ‘اوربندے ماترم کہنا ہوگا ۔ملک کےخلاف کوئی مسلمان نہ جاسوسی کرتا اورپکڑا جاتا ہے سب دوسرے کرتے اورپکڑے جاتے ہیں لیکن ہمیشہ شبہ مسلمانوں کی دیش بھکتی پر کیا جاتا ہے اورجب شبہ کیا جاتا ہے تو سرکار  مسلمانوں کےدفاع میں کھڑی نہیں ہوتی اورنہ شبہ کرنے والوں سے باز پرس کرتی یا ان کے خلاف قانونی کارروائی کرتی ہے ۔

سوال یہ ہے کہ جب اسلام کےمعنی شانتی کےہیں ،وہ صرف شانتی اورامن کا پیغام دیتا ہے جو حقیقت بھی ہے اورمسلمانوں کی دیش بھکتی پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا تو دہشت گردی کو اسلام اورمسلمانوں سے جوڑنے اورمدارس اسلامیہ کو بدنام کرنے کاکام کیوں کیا جاتا ہے ؟

کیوں مسلمانوں کی دیش بھکتی پر شبہ کیا جاتا اوران کو  دھمکی دی جاتی ہے ؟مسلمانوں کو جہاں بھی ملک کی خدمت یا اس کےلئے قربانی دینے کا موقع دیا گیا وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹے ۔ آخر کونسی ایسی لڑائی ہے جس میں مسلمانوں نے حصہ نہیں لیا حتی کہ فوج اورنیم فوجی دستوں پر حملے ہوتے ہیں تو دیگر کےساتھ مسلمانوں کی جانیں بھی جاتی ہیں لیکن جب اسی ملک میں یہ ہوتا ہےکہ کارگل کی لڑائی لڑنےوالے فوجی محمد ثناء اللہ کو آسام میں این آر سی کےنام پر غیر ملکی بتاکر گرفتار کرلیا جاتا ہے تو افسوس ہوتا ہے ۔اگر وہ غیرملکی اورغدار ہوتے تو فوج میں خدمت کرکے ریٹائر نہیں ہوتے اورکارگل کی لڑائی میں حصہ نہیں لیتے لیکن نہ تو ان کی خدمت کی اورنہ جذبے کی قدر کی گئی ۔

جب قرآن مجید میں واضح طور پر کہا گیا ہےکہ ‘ جس نےکسی ایک انسان کو قتل کیا بغیر اس کےکہ اس نے کسی کی جان لی ہو، زمین میں فساد برپاکیا ہو،تو وہ ایسا ہے جیسے کہ اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اورجس نے کسی ایک کی جان بچالی تو وہ ایسا ہے جیسے کہ اس نے تمام انسانوں کو بچالیا ا ۔( المائدہ  :32 ) جو اسلام ایک قتل کو پوری انسانیت کےقتل سے تعبیر کرتاہواس سے دہشت گردی کو جوڑنا سراسر ناانصافی ہے ۔سوال یہ ہے کہ جب ملک کےحکمراں زبان سےاسلام اور مسلمانو ں کےبارے میں مختلف پروگراموں اورفورموں جو بات کہتے ہیں حکومت کی پالیسی ، سیاسی پارٹیوں اورلوگوں کےعمل میں کیوں نہیں آتی ؟ یعنی قول وعمل میں تضاد پایا جاتا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *