ہندوستان میں اقلیتوں اوراقلیتی تعلیمی اداروں کےمسائل

Asia Times Desk

ملک میں  اقلیتوں کےتعلیمی ادارے آبادی کےتناسب کےلحاظ سے بہت کم ہیں اورجو ہیں ان کی بھی حالت سرکار کی مداخلت اوراداروں کی بدانتظامی کی وجہ سے ٹھیک نہیں ہے ۔یہی وجہ ہےکہ اقلیتی طلباء کا ڈراپ آؤٹ دوسرے طبقات کےمقابلے میں کافی زیادہ اوران میں خواندگی کی شرح کم ہے ۔جب خواندگی کی شرح کم ہوگی تو بے روزگاری بھی زیادہ ہوگی ۔ہوا میں اقلیتوں کو مین اسٹریم ایجوکیشن سے جوڑنے کےدعوے  خوب کئے جاتے ہیں اورہر حکومت کہتی ہے کہ اقلیتوں کی بہبود وترقی کے لئے یہ کررہی ہے ، وہ کررہی ہے لیکن جب اقلیتیں ان کےپاس مراعات یا ریزرویشن کےلئے جاتی ہیں تو مذہب کا حوالہ دے کر انکارکردیا جاتا ہے۔اب تو حق تعلیم ایکٹ بھی کہتا ہے کہ 6 سے 14 سال کی عمر کےہر بچے کو مفت اورلازمی تعلیم مہیا کرانا سرکار کی ذمےداری ہے اس میں مذہبی تفریق جیسی کوئی بات نہیں کہی گئی  پھر بھی یہی سچائی ہےکہ تعلیم کےمیدان میں اقلیتیں اس طرح آگے نہیں بڑھ رہی ہیں جس طرح دوسرے طبقات کےبچے بڑھ رہے ہیں ۔

اس تعلق سے سرکار سروے تو کراتی رہتی ہے لیکن اس کی رپورٹوں پر عمل نہیں کرتی ۔اسی طرح کی ایک سروے رپورٹ 2018 میں آئی تھی جو مرکزی وزارت اقلیتی امور کی درخواست پر نیشنل پروڈکٹیوکونسل نے کیا تھا ، اس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ملک کی آٹھ ریاستوں آسام ، جھارکھنڈ ، اترپردیش ، بہار، مغربی بنگال ، ہریانہ اورراجستھان کے 30 اقلیت اکثریتی اضلاع میں اقلیتی طلبا کےڈراپ آؤٹ کی بڑی وجہ بنیادی سہولیات کمی اورکوالیفائڈ اساتذہ کا فقدان ہے ۔اس رپورٹ پرکوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ۔یہی حشراقلیتوں کی بہبود وترقی اورانصاف سے متعلق ہر رپورٹ کا ہوتا ہے ۔ مہاراشٹر میں کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر مسلمانوں کو تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں پانچ فیصد ریزرویشن دیا گیا تھا لیکن پھر ختم کردیا گیا۔

ایک رپورٹ کےمطابق اس وقت ملک بھر میں تین ڈیمڈ اورچھ یونیورسٹیوں سمیت 13395 اقلیتی تعلیمی ادارے ہیں ۔اقلیتی ادارے ایسے ہی نہیں بنتے بلکہ  کافی پاپڑ بیلنےپڑتے ہیں ۔پہلے ادارہ قائم کیجئے پھر ریاستی حکومت سے این اوسی حاصل کیجئے اورآخر میں نیشنل کمیشن برائے مائناریٹی ایجوکیشن انسٹی ٹیوشن ( این سی ایم ای آئی )سے اقلیتی درجہ کا سرٹیفکیٹ حاصل کیجئےکیونکہ اس کےسرٹیفکیٹ کےبغیر کوئی ادارہ اقلیتی نہیں مانا جاتا ۔اس کےباوجود اس کی ضمانت نہیں رہتی  کہ آگے اقلیتی درجہ برقرار رہےگا جیساکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اورجامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کےساتھ ہورہا ہے ۔

ان کےاقلیتی درجے کو خود موجودہ مرکزی حکومت نے دہلی ہائیکورٹ میں چیلنج کررکھا ہے اوراپنے موقف اور پالیسی میں تبدیلی کی بات کہی ہے ۔ اس کی وجہ سے ان کےاقلیتی درجے پر خطرے کی تلوار لٹک گئی ہے ۔ خود این سی ایم ای آئی کسمپرسی کا شکار رہتی ہے ، اس کےچیئرمین کی مدت پوری ہوتی ہے تو جلدی کسی کا تقرر نہیں ہوتا ۔اقلیتی ادارے قائم کرنا آسان نہیں ، اس  کے لئے اراضی کا حصول ، فنڈنگ ،عمارت ، اساتذہ ،طلبااور منیجمنٹ کےلئے افراد کا انتظام کرنابہت مشکل کام ہوتاہے ۔غورطلب امر ہےکہ اقلیتی تعلیمی اداروں کےمسائل حل کرنے کےلئے 2004 میں جب قومی کمیشن بنایا گیا تھاتو یوپی اے سرکار میں اس میدان میں کافی تیزی سے کام ہوا تھا اسی مدت میں سب سے زیادہ اقلیتی ادارے  قائم ہوئے تھے ۔2014 کےبعد اس کی رفتار کافی دھیمی ہے اور2018 سے ابتک صرف چار اداروں کو اقلیتی درجہ دیا گیا ۔

ایسا نہیں ہے کہ اس دوران اقلیتوں نے تعلیمی ادارے قائم کرنےکےلئے جدوجہد نہیں کی بلکہ ان کو منظوری نہیں مل رہی ہے ۔اقلیتوں کےحقوق کےتحفظ سے متعلق آرٹیکل 30 میں صاف صاف کہا توگیا ہے کہ کسی بھی مذہب یا زبان کےتمام اقلیتوں کو اپنی پسند کے تعلیم ادارے قائم کرنےاورانہیں چلانےکا پورا حق ہے لیکن جب قائم کرتے ہیں تو قانونی لڑائی لڑنی پڑتی ہے ۔اقلیتی درجہ ملنےکےبعد بھی اسے چھیننے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

اگر بات کی جائے ملک بھر میں اقلیتی تعلیمی اداروں کی تو کیرلاجہاں ملک بھر میں خواندگی کی شرح سب سےزیادہ ہے ، وہاں اقلیتی تعلیمی اداروں کی تعداد بھی سب سے زیادہ 4559 ہے ۔اس کےبعدملک کی سب سے بڑی ریاست  اترپردیش کا نمبر آتا ہے جہاں 3135 اقلیتی ادارے ہیں ۔ان کےعلاوہ تملناڈومیں 939 ، کرناٹک میں 699 ،مغربی بنگال میں 697 ،مدھیہ پردیش میں 499 ، آندھرا پردیش میں 436 ،راجدھانی دہلی میں 249 ، چھتیس گڑھ میں 232 ،مہاراشٹر میں 199 اوراتراکھنڈ میں 110 اقلیتی تعلیمی ادارے ہیں ۔ دیگر ریاستوں میں بہت کم ایسے ادارے ہیں ۔

یہ تمام ادارے صرف مسلمانوں کےنہیں بلکہ ان میں دیگر اقلیتوں کےادارے بھی شامل ہیں ۔جہاں اتنے اقلیتی ادارے ہوں پھر بھی اقلیتوں میں خواندگی کی شرح کم اورڈراپ آؤٹ کی شرح زیادہ ہو تو تشویشناک امر ہے ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اقلیتی تعلیمی ادارے یا تو ضرورت سے کافی کم یا وہ اقلیتوں کی تعلیم پسماندگی دور کرنےمیں ناکام ہیں ۔دراصل سارا کھیل روزگار کا ہے ۔ ان اداروں یا کسی بھی تعلیمی ادارے سے تعلیم کےحصول کے بعد اس کی گارنٹی نہیں رہتی ہے کہ روزگار ملےگا  ۔

ایک تو اس وقت ملک میں روزگار کی ویسے ہی بہت کمی ہے ، اس کےمواقع پیدا کرنےپر حکومت خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہی ہے ،دوسرے جو بھی روزگار ہیں وہ بھی ختم ہورہے ہیں یا ان کو ختم کیا جارہا ہے ۔تب ہی تو ملک میں بے روزگاری کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ بے روزگاری کی شرح گزشتہ 45 برسوں میں سب سے اوپر پہنچ گئی ہے ۔نیشنل سمپل سروے آفس کی 18۔2017 کی رپورٹ کےمطابق ملک میں بے روزگاری کی شرح 1ء6 فیصد تک پہنچ چکی ہے ۔یہ صورت حال اس وقت ہے جب وزیراعظم نریندر مودی  نے 2014 کے پارلمانی انتخابات میں وعدہ کیا تھا کہ اگر ان کی سرکار بنی تو ہر سال دوکروڑ لوگوں کو روزگار دیا جائے گا لیکن اب سرکار اس پر بولنےسے کتراتی ہے اورسوالات کا جواب نہیں دیتی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *