ایس آئی اوکی کل ہندکانفرنس۔ ایک جائزہ

محمد صبغۃ اللہ ندوی ،نئی دہلی  

admin

ایس آئی اویعنی اسٹوڈنٹ  اسلامکآرگنائزیشن آف انڈیا جیساکہ نام سےظاہر ہےاس کا مشن ہےکہ اسلامی فکر کےساتھ نوجوانوں کی تربیت کی جائےاور ملک وملت خصوصااسلام کی خدمت کے لئےتیار کیا جائے۔ جماعت اسلامی ہندکی طلباء تنظیم جو 19اکتوبر 1982 سےطلباء اورنوجوانوں میں سرگرم اورعصری تقاضوں کےساتھ ان کی روحانی تربیت میں مصروف ہے۔ اس کی جڑیں کتنی مضبوط ہوچکی ہیں اور نوجوانوں وطلباء میں یہ کتنی مقبول ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتاہےکہ اس کی آواز  پر 10000سے زیادہ نوجوان مرکز جماعت اسلامی ہند کےکیمپس میں جمع ہوگئے۔ موقع تھا تنظیم کی کل ہند سہ روزہ کانفرنس کا ۔ کیا وقت تھا اورکیسا منظر تھا۔ہر طرف نظم وڈسپلن ، کسی کو کسی سے شکایت نہیں ایسالگ رہا تھاجیسے کانفرنس میں جو بھی آیا ہے اپنی ایک ذمےداری سمجھ کرآیا اور کام کررہا ہے۔ وقفے وقفے سے فضا میں گونجتی نعرہ تکبیر اوردیگرنعروں کی صدائیں اوران کی بازگشت الگ ہی سماں باندھ رہی تھیں ۔ایک تو ویسے ہی جمنا ندی کے کنارےپروگرام ہورہا تھااورندی کےکنارےجو بھی ایونٹ ہوتا ہے اس کا منظر خصوصا شب میں کافی دلکش ہوتاہے۔ اتنا بڑا پروگرام ،اس میں نوجوانوں کی شرکت اورانتظامیہ کےلئے لااینڈآرڈرکا کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔سہ روزہ کانفرنس کے دوران  مختلف عناوین پر مختلف مکاتب فکر کےعلماء ودانشوراورتنظیم کےموجودہ اورسابق ذمےداران کی تقریریں ہوئی لیکن تمام تقریروں کا نچوڑ ایک ہی تھاکہ کس طرح نوجوانوں کی تربیت اوررہنمائی کی جائے۔کانفرنس ختم ہوگئی ، شرکاء اپنے گھروں کو جاچکےلیکن کانفرنس کا منظر اوراس میں کہی گئی باتیں آسانی سے کوئی نہیں بھول سکےگااوربھولےگاکیسے جب وہ بھلانےکےلائق نہیں ۔

بڑوں کی رہنمائی ،ایس آئی اوکی آواز ،کچھ کرنےکا جذبہ اورحوصلہ ہی تھا جن کی وجہ سے ملک کےکونےکونےسے نوجوان اورطلباء کانفرنس میں شریک ہوئے۔ یہ وہ شرکاء تھےجن میں مستقبل دیکھا جاتا ہےجیساکہ محترم امیر جماعت مولانا جلال الدین عمری نے اپنی افتتاحی تقریرمیں فرمایاکہ آپ ملک وقوم کےمستقبل ہی نہیں اسلام کےمستقبل بھی ہیں ۔کہیں بھی نوجوان قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں کیونکہ کسی بھی قوم اور ملک کا مستقبل ان ہی پر منحصرہوتاہے۔ اسی لئے ان کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ جس قوم کی نوجوان نسل تباہ ہوگئی وہ قوم تباہ ہوجائےگی ۔کانفرنس کےشرکاء کی اتنی بڑی تعداد میں کوئی نہیں جانتاکہ آگے چل کر ان میں سے کون کیا بنےگا۔ہوسکتاہےکہ آج ان کی تربیت ورہنمائی کی جارہی ہے کل وہ یہی کام انجام دیں ۔مستقبل کےبارے میں کسی کی پیشانی پر بھلےہی کچھ نہیں لکھا ہوتالیکن کچھ بھی بننےکےلئے تربیت کی اشدضرورت ہوتی ہے،یہی کام ایس آئی اوکرتی ہےاور اس طرح کےپروگراموں کےذریعہ بڑے پیمانےپر یہ فریضہ اداکیا جاتاہے ۔جب  موضوع “عزت نفس کی بازیافت اورمستقبل کی تشکیل “ہو تواندازہ لگایا جاسکتاہےکہ کانفرنس کتنی اہمیت کی حامل تھی ۔ نوجوانوں نےاس اہمیت کو سمجھا تب ہی تو کثیر تعداد میں  شریک ہوئے۔کچھ گروپ کی شکل میں تو کچھ انفرادی طور پر آئے اوربہت سے اسکولوں نےکسی کو ذمے داربناکر طلباء کو کانفرنس میں تربیت  ورہنمائی کےلئے بھیجاجو وقت کا تقاضاہی نہیں ضرورت بھی ہے۔سماج میں بیداری بہت ضروری ہےورنہ غلط پیغام جاتا ہے۔

اسی کانفرنس کے تعلق سے میں اپنا تجربہ بیان کرتاہوں جو کافی سبق آموز ہے۔کانفرنس شروع ہونےسے محض چند گھنٹے پہلےمیں قرب وجوار سے گزررہا تھا تو تین مزدورآپس میں بات کررہےتھے ، ان میں سے پہلےنےکہا کہ مرکزمیں کوئی بڑی شادی ہورہی ہےدوسرےنےکہا کہ نہیں شادی میں اتنےٹینٹ کہاں ہوتےہیں ،تیسرےنےکہا کہ کوئی جلسہ ہورہا ہوگا ۔

غرضیکہ کسی کو بھی کانفرنس کی صحیح جانکاری نہیں تھی اورنہ وہ سمجھ رہےتھےلیکن دماغ ہرکوئی استعمال کررہاتھا کہ آخر کیا ہورہا ہے۔مطلب یہ ہے کہ ہمارےاندراورسماج میں یہی کمی ہے کہ بیداری کے لئے ہم مؤثر طریقےسے کام نہیں کرپاتے جس کی وجہ سے جو دماغ صحیح جگہ استعمال ہونا چاہئے غلط استعمال ہوتاہےاورغلط مطلب نکالےجاتےہیں ۔

ہم یہ کہہ کر نظر انداز نہیں کرسکتےکہ وہ غیر متعلق لوگ تھے۔ ٹھیک ہےوہ غیرمتعلق تھے لیکن ان کےبچے غیر متعلق نہیں ہوسکتےجب سرپرستوں کو کسی پروگرام کی جانکاری نہیں ہوگی تووہ اپنےبچوں کو کیا بتائیں گے۔

تین دن (23، 24 اور25 فروری )کی کانفرنس اورصبح سے رات ساڑھے دس بجے تک پروگرام ایک عجیب  منظر ہوتاتھا۔ کانفرنس گاہ بھری رہتی تھی ۔جس جذبے اورمشن کےتحت نوجوان آئےتھےوہ اسی میں منہمک رہے۔ اس کے علاوہ سوچاہی نہیں ۔اسی لئے کانفرنس گاہ کےباہر خالی خالی منظررہتاتھاوہاں چہل پہل اسی وقت ہوتی تھی جب وقفہ ہوتاتھا۔پروگرام میں ایک ٹھوس پیغام نوجوانوں کو یہ دیاگیا کہ وہ حالات سے مایوس نہ ہوں اپنی کوششیں جاری رکھیں ،ہدف پر توجہ دیں اوراپنی ذمےداری کو محسوس کریں جو آگے چل کر انہیں اداکرنا ہے ۔مایوسی کو ویسے بھی  کفر کا کہا گیا ہے۔قرآن مجید میں ایک مومن کی پہچان یہ بتائی گئی ہےکہ وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتا ۔تنظیم کے سرپرست اعلی محترم امیر جماعت نےبھی نوجوانوں سے یہی فرمایا کہ ملک کےنامساعد حالات سے مایوس ہونےکی چنداں ضرورت نہیں ۔ یہ آزمائشی دورآتےرہتےہیں ۔ جس نےثابت قدمی سے حالات کا مقابلہ کیا وہی کامیاب ہوا ۔ آپ کو اپنےعمل سے ملک وملت دوونوں کا نام روشن کرنا ہے۔مسائل اورپریشانیوں کا ماتم کرنےکےبجائے حالات کا مقابلہ کرتےہوئے  نئے مستقبل کی تعمیر کی فکر کریں ۔کچھ اسی طرح کی نصیحت تنظیم کےسابق صدر اورنائب امیر جماعت اسلامی ہندسید سعادت اللہ حسینی نے کی ۔ انہوں نےنوجوانوں سے کہا کہ اگر ہم صرف حالات کا ماتم کرتےرہے تو مسائل حل نہیں ہوں گے ۔ ہمیں خود کو حالات کےرحم وکرم پر چھوڑنےکےبجائےاس ماہرتیراک کےمانند ہونا چاہئےجو لہروں کا مقابلہ کرتےہوئےہر حال میں منزل تک پہنچ جاتاہے ۔ہم برادران وطن میں پائی جانےوالی غلط فہمیوں کو دور کرنےکا کام کریں ۔اگر ہر مسلم طالب علم یہ طے کرلے کہ اپنےتعلیمی کیریئر میں کم از کم چھ غیرمسلم بھائیوں تک اسلام کی حقانیت پہنچاکر رہےگا توپندرہ برسوں میں ملک کا منظر نامہ تبدیل ہوجائےگا اور اسلام اورمسلمانوں سے نفرت خود بخود ختم ہوجائےگی ۔ایس آئی اوکےکل ہند صدر نہاس مالا نےبھی نوجوانوں کو یہی پیغام دیا کہ حالات سے مایوس ہونےکی ضرورت نہیں ۔ جو لوگ مایوس ہوکر ہتھیار ڈالنے کےلئے تیارہوجاتےہیں وہ زندگی میں کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کاشجاعت کا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *