اجودھیاکیس ۔ایک ٹیڑھی کھیر

محمد صبغة اللہ ندوی

Asia Times Desk

اجودھیاایک مسئلہ بھی ہے اور مصالحہ بھی ۔ عام لوگوں کیے لئے یہ ایک سنگین مسئلہ ہے لیکن سیاست کے لئے سب سے لذیذمصالحہ ،چنانچہ جتنامصالحہ اس میں ڈالا جاتا ہے، دوسرے الفا ظ میںاس کی جتنی سیاست کی جاتی ہے اتنا ہی ایشوسیاست کے لئے مزیدار بنتا ہے اورعوام کے لئے سنگین ۔وقت کے ساتھ یہ مسئلہ جس طرح ناسور بنا ہے اس میں سیاست ہی کا دخل ہے ۔اس کی حالت ایسی ہوگئی ہے کہ اسے حل کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو گیا ہے ۔ اجودھیا کے مسئلے میں نشیب وفراز تو بہت کم آئے،یہ یکطرفہ ایک ہی سمت میں چلا،ہمیشہ مندراورپوجاپاٹ کے حق میں راہ ہموارہوئی ، حالات کو جوں کا توں رکھنے کے سارے فرمان اسی کے حق میں صادر ہوتے رہے، مورتی کے نام پر مسلمانوں کے قبضے سے ایک بار بابری مسجد کیادورہوئی ، وہاں نماز پڑھناتو دورمسجد کا نام ونشان بھی مٹادیا گیا ۔نقض امن کے سارے خطرات مسلمانوں کے نام کرکے مسجد کی اراضی تک مسلمانوں کی رسائی ایک طرح سے ناممکن بنادی گئی ہے حالانکہ حتمی فیصلے تک ہندووں کی طرح وہاں مسلمانوں کو بھی نماز پڑھنے کی اجازت سپریم کورٹ سے حاصل ہے لیکن حکومت کی طرف سے نہیں ۔ وقت کے ساتھ یہ مسئلہ پیچیدہ ہوتا چلا گیا البتہ مصالحت کی ابتدائی کوششوں کے دوران ایک بار ایسا وقت ضرورآیا تھا جب یہ حل ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا لیکن سیاسی بددیانتی اورحقیر سیاسی مفادات کی ہوس نے حل ہونے نہیں دیا ۔اس کے بعد بات چیت کے کسی بھی دور میں معمولی پیش رفت بھی نہیں ہوئی حتی کہ سپریم کورٹ نے باقاعدہ سماعت سے قبل اپنی نگرانی میں میڈیا اور سیاست سے دور رکھ کر سہ رکنی کمیٹی کے ذریعہ مصالحت کا ایک ریہرسل کرایا تو وہ بھی ناکام ثابت ہوا۔مصالحت کمیٹی کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سپریم کورٹ کو معاملہ کی یومیہ سماعت شروع کرنی پڑی ۔اس طرح اجودھیا کا کیس نچلی عدالت سے الہ آباد ہائیکورٹ اوروہاں سے حتمی فیصلہ کے لئے سپریم کورٹ پہنچ گیا ۔آگے اس کا انجام کیا ہوگا ،اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا بلکہ بیٹھے گا بھی کہ نہیں ،کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ مسئلہ اب اپنے اصلی رنگ میں آگیا ہے ،اس پر سے عقیدہ اورآستھا کی چادر ہٹ گئی ہے، یہ خالص اراضی کی ملکیت کا مسئلہ بن گیاہے اورقانون کی نظر میں نہ عقیدہ اورآستھاکی کوئی اہمیت رہی اورنہ ان لوگوں کی باتوں کی جو ذاتی فائدے کے لئے اپنی برادری یا مذہب سے ہٹ کر متنازعہ اراضی دوسرے کے حوالہ کرنے کا ڈھنڈوراپیٹ رہے تھے ۔

سپریم کورٹ میں اجودھیا کا مسئلہ جس رخ پر جاتا ہوا دکھائی دے رہا ہے اسے ٹیڑھی کھیر ہی کہیں گے کیونکہ عدالت نے مسئلہ کو صرف اراضی کی ملکیت کا مسئلہ بنا دیا ہے ، اس پر طرہ یہ کہ اس نے نماز اورپوجا پاٹ کو کیس سے دور رکھنے کی ہدایت دے رکھی ہے یعنی اس کی بنیاد پر کسی کی ملکیت ثابت نہیں ہوگی ۔یہ خط فاصل ہر فریق کے لئے کافی مشکل ہوگئی ہے اوراسے اپنا موقف عدالت کے سامنے رکھنا اوراپنی ملکیت کو ثابت کرنا مشکل ہوگیا ہے ۔کورٹ نے ایک اوربات واضح کردی ہے کہ فریقین کے علاوہ جو لوگ کسی بھی وجہ سے متنازعہ اراضی مخالف فریق کے حوالہ کرنے کی باتیں کررہے ہیں ، اس کے لئے کورٹ میں عرضیاں بھی داخل کیں ، نہ تو ان کی باتوں کی اورنہ ان کی عرضیوں کی قانونی حیثیت ہے ۔ایک اوراہم بات کورٹ نے فریقین سے یہ کہی ہے کہ وہ نئی چیزیں پیش کریں یعنی وہ باتیں دوبارہ نہ پیش کریں جو الہ آباد ہائیکورٹ میں پیش کرچکے ہیں ۔اب عرضی گزاروں کے سامنے مسئلہ یہ ہے کہ نئی باتیں کہاں سے لائیں یا پیدا کریں ۔وقت کے ساتھ یہ مسئلہ جتنا پیچیدہ ہوا اب فریقین کے لئے بھی اپنے موقف کو ثابت کرنا اتنا ہی مشکل ہورہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی بات ثابت کرنے میں ناکام ہورہے ہیں اورمستقبل کے تعلق سے مایوس ہورہے ہیں ۔سب نے دیکھا کہ کورٹ نے جب پوجا پاٹ کو کیس سے الگ کردیا اورخالص اراضی کی ملکیت پر سماعت کی تو کیس کاایک اہم فریق نرموہی اکھاڑہ اپنی ملکیت ثابت کرنے میں ناکام رہا ۔یہی حال مندر کے دوسرے فریق رام للا کا رہا ۔آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔۔۔

اجودھیاکیس میں بنیادی طور پر تین فریق ہیں ، ایک نرموہی اکھاڑہ دوسرا رام للا کی مورتی اورتیسرا اترپردیش سنی سنٹرل وقف بورڈ ۔دوفریق اجودھیا میں متنازعہ اراضی پر رام مندر کے حامی ہیں جبکہ تیسرافریق مسلمان ہیں جو وہاں پھر سے بابری مسجد کی تعمیر چاہتے ہیں ۔مسلمانوں کی طرف سے کیس میں ایک اہم فریق جمعیتہ علما ہند بھی ہے جس کو مقدمات لڑنے کا بہت زیادہ تجربہ بھی ہے اوراس کے پاس تجربہ کار وکلاکی ٹیم بھی ۔کیس کی جب سماعت شروع ہوئی تو مسلمانوں نے اپنا موقف آخر میں پیش کرنے کی درخواست کی جو کورٹ نے منظور کرلی اس لئے شروع میں نرموہی اکھاڑے نے اپنا موقف اوردلائل پیش کئے اوروہ اراضی کی ملکیت ثابت کرنے میں ناکام رہا اپھر دوسرے فریق رام للا کے وکلانے اپنے دلائل پیش کئے اورآخر میں مسلمانوں کی باری آئی ۔دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ کون اپنی بات ثابت کرنے میں کامیاب ہوتا ہے ویسے مقدمہ جس سمت میں جارہا ہے لگتا نہیں کہ کوئی اپنا موقف ثابت کرسکے گا ۔سپریم کورٹ کی کسوٹی پر اپنی بات ثابت کرنے کی پریشانی سب کے سامنے ہے ۔اسی میں کیس کے فریقوں کی آزمائش ہے ۔وہ عقیدہ اور مقدمہ لڑنے والے تمام فریقوں کا وقار داوپر لگا ہوا ہے ۔

اجودھیا کے کیس میں ایک دلچسپ اوراہم سوال یہ ہے کہ اگر تمام فریق اراضی پر اپنی ملکیت ثابت کرنے میں ناکام رہے تو اس وقت سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا ہوگا ؟ کیا کی سماعت کرنے والی پانچ رکنی آئینی بنچ کے جج بھی اپنااپنا فیصلہ الہ آباد ہائیکورٹ کی طرح اپنی صوابدید یا آستھا کی بنیاد پر سنائیں گے ؟ اکثریت کی بنیاد پر تین طلاق کی طرح فیصلہ ہوجائے گا ؟پھر اس فیصلہ پر بھی الہ آباد ہائیکورٹ کی طرح رائے زنی ہوگی ؟کیس کی جو صورت حال ہے اس میں اس کی نوبت آسکتی ہے ۔ایک اوربات ہے کہ اس کیس میں حکومت اپنا موقف غیرجانب دار ہوکر پیش کرتی ہے یا فریق کی طرح کسی کے حق میں ۔بہرحال کیس کو کسی منطقی انجام تک پہنچانا فریقوں کے لئے بھی مشکل ہوگا اورکورٹ کے لئے بھی ۔کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہوگا اس پر ملک میں اتفاق رائے قائم کرنا ، لوگوں کو راضی کرنا اوراسے نافذ کرنا حکومت کے لئے مشکل ہوگا کیونکہ اس پر ملک کے حالات ایسے بنادیئے گئے ہیں کہ فیصلہ کے نفاذ کے لئے ماحول بنانا آسان نہیں ہوگا ۔جب سے اجودھیا کے کیس کی یومیہ سماعت سپریم کورٹ میں شروع ہوئی ، ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا کی نظریں اس پر مرکوز ہیں کہ کیس کا انجام کیا ہوتا ہے اورفیصلہ کس کے حق میں آتا ہے نیز جو فیصلہ آئے گا اسے حکومت کس طرح نافذ کرتی ہے ۔اجودھیاکے تعلق سے مشکل اورپیچیدہ حالات پہلے بھی تھے، آج بھی ہیں اورآگے بھی ہوں گے، اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *