مشن سرسید کی ہار یہودی سوچ کی جیت

Asia Times Desk

ٓآگرہ ، سر سید احمد خان کی روح اُس وقت اپنے اُ پ کو شرمندہ محسوس کر رہی تھی ، جب انہی کی قائم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرکے دبئی کے اونچے عہدوں پر فائد حاصل کر نے والے سابق طلباء نے سرسید ڈے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، ایک دوسرے کونیچا دیکھا نے کے مقصد سے ایک ہی روز ایک ہی وقت میں دبئی میں سر سید کی یار میں ۲ تقریب کاانعقاد کیا گیا،

واضح ہو کہ گزشتہ ۲۳ نومبر ۲۰۱۸ کو علی گڈھ یونیورسٹی کے دو سابق طالب علم کتبررحمن اُور یاسر نے اپنے رسوک کے دم پر علی گڈھ یونبورسٹی کے سابق طلباء کو دو حصوں میں تقسم کر یہودی سوچ کر بلند کر تے ہوئے پروگرام کے بعد اپنی پیٹھ تھنتھپائی،

ایک طرف یاسر خان نے کنوینر بن اپنے پروگرام میں سابق مرکزی وزیر بھارتی حکومت یشونت سنہا، بھارتی صحافی پرسون باجوپائی اور عارفہ خانم کو مہمان کے طور پر مدعو کیا ،
وہیں دوسری طرف کتبررحمن نے دبئی کے ایک پرتعیش مقام پر سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید ، سینئر صحافی سمیراخان ، محمد سلمان امتیاز صدر علی گڈھ یونیورسٹی ، سابق ایم ایل اے ضمیر اللہ وغیرہ کو مہمان کے طور پر مدعو کیا،دونوں ہی نے اپنے اپنے نام کو بلند کیا ،

واضح کو کہ بین الاقومی سطح پر سر سید احمد خان سے محبت اور احترام کرنے والے لوگ صرف ۱۷ اکتوبر کو حقیقی سرسید ڈے مناتے ہیں، مگر دبئی کے دو پرگرام میں کنوینروں نے اپنے کو بلند سرسید کے مشن کو بھولتے ہوئے اچھا علیگ  بننے کے لئے ہزاروں کی تعدا میں دبئی میں رہ رہے علی گڈھ یونیورسٹی کے سابق طالب علم کو مایوس کیا، غیرممالک میں رہنے والے ۲۵ ہزار سابق طلباء رکمائی کے مقصد سے یہاں ہیں،

اہم بات یہ ہے کہ خود مختار سابق طلباء لیڈروں نے پروگراموں کا نعقاد کر کے تالی کی آواز تو سنائی دے گئی ، لیکن ان دو تقریب نے سر سید احمدخان کے مشن کوکمزور کر دیا، بیرون ملک میں رہنے والے سابق طلباء اپنے آپ کو شرمندہ محسو س کر رہے ہیں،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *