بھاری برف باری کے باعث وادی کشمیر کا بیرون دنیا سے رابطہ منقطع

شہر سرینگر سمیت شمال و جنوب میں رواں برس اور چلہ کلاں کی پہلی برفباری ،پیر پنچال کے آر پار سفید چادر بچھ گئی 

Asia Times Desk

سری نگر : جمعہ کی دوپہر سے شروع ہوئی بھاری برف باری کے باعث وادی کشمیر کا بیرونی دنیا سے زمینی وفضائی رابطہ منقطع ہوا ہے۔
ٹریفک پولیس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ وادی کشمیر کو بیرون دنیا کے ساتھ جوڑنے والی واحد سرینگر۔ جموں شاہراہ ہفتہ کو بھی بھاری برف باری کی وجہ سے بند رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ کے متعدد مقامات بشمول جواہر ٹنل، بانہال، شیطانی نالہ اور قاضی گنڈ پر بھاری مقدار میں برف جمع ہوئی ہے جس کے باعث شاہراہ کو بند رکھنے کا فیصلہ لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ شاہراہ گذشتہ روز کے دوپہر سے ہی پھسلن پیدا ہونے کی وجہ سے شاہراہ ٹریفک کی نقل وحمل کیلئے بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ برف باری جاری رہنے کی وجہ سے بارڑر روڑس آرگنائزیشن کو بھی برف ہٹانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ محکمہ موسمیات نے مزید برف باری کی پیش گوئی کی ہے لہذا شاہراہ کو ٹریفک پولیس اور بارڑر روڑس آرگنائزیشن کی طرف سے گرین سگنل حاصل ہونے کے بعد ہی تریفک کی نقل وحمل کیلئے کھولا جاسکتا ہے۔
دریں اثنا سرکاری ذرائع کے مطابق جموں کی طرف رواں بھاری تعداد میں ٹرکیں اننت ناگ اور قاضی گنڈ کے مقامات پر درماندہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز زائد از گیارہ سو ٹرکیں اور تیل ٹینکر دن کے دو بجے سے قبل ٹنل کو پار کرنے میں کامیاب ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ مسافر بردار گاڑیوں جو اننت ناگ اور قاضی گنڈ کے درمیان درماندہ ہیں ،کو واپس اپنے اپنے مقامات کی طرف چلنے کو کہا جائے گا۔
بھاری برف باری کی وجہ سے درجنوں دور افتادہ دیہات کا ضلع صدر مقامات سے سڑکیں بند ہونے وجہ سے رابطہ منقطع ہوا ہے۔ سدھنا ٹاپ پرگزشتہ روز ایک خاتون اس وقت سردی کی وجہ سے از جان ہوئی جب گاڑی برف کی وجہ سے بند ہونے کی وجہ سے کم سے کم چالیس مسافر پیدل سفر کررہے تھے۔
ادھر بھاری برف باری کے باعث وادی میں ریل سروس بھی معطل ہے-
دوسری جانب   پیرپنچال  سے بھی خبر ہے کہ   ایک مرتبہ پھر بھاری برفباری کے نتیجے میں واد ی کے طول و عرض میںمعمول کی زندگی بری طرح سے متاثر ہوئی۔جمعہ کی اعلیٰ صبح سے ہوئی برفباری کی وجہ سے سرینگر جموں شاہراہ سمیت درجنوں رابطہ سڑکیں ٹریفک کی آمد رفت کیلئے بند ہوئی جبکہ کم روشنی کی وجہ سے سرینگر کے بین الاقوامی ہوئی اڈے پر فضائی ٹریفک کی بھی متاثر رہا جبکہ بجلی کا نظام پوری طرح درہم برہم ہو گیا ۔تازہ برفباری کے ساتھ ہی پوری وادی شدید سردی کی لپیٹ میں آگئی ہے جبکہ جمعہ کو بھی انتہائی شدت کے ساتھ جاری رہا جس کے نتیجے میں شہر کے بازاروں میں مجموعی طور پر ویرانی چھائی رہی اور خریداروں کی بہت کم تعداد بازاروں میں نظر آئی۔ اس دوران محکمہ موسمیات نے آنے والے مزید دو دنوں تک بارشیں اور برف باری کی پیشنگوئی کرتے ہوئے لوگوں سے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے ۔
محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے عین مطابق وادی کے شمال و جنوب کے بالائی علاقوں کے ساتھ ساتھ میدانی علاقوں میں بھی جمعہ کو برفباری کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے جاری رہا ۔شہر سرینگر سمیت وادی کے دوسرے اضلاع میں جمعہ کی اعلیٰ صبح سے برفباری کا تازہ سلسلہ شروع ہوا جو شام گئے تک جاری رہا ،برفباری ہونے کے ساتھ ہی سڑکوں اور مکانوں اور دیگر تعمیرات کی چھتوں اور کھلے میدانوں میں برف کی پرت بچھ گئی ۔تازہ برفباریکے  نتیجہ میں شہر سرینگر میں عام اور کاروباری زندگی پر اثر پڑا اورشہر کی سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے عام لوگوں کو عبور و مرور کے حوالے سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔وادی کے شمال و جنوب میں واقع دیگر اضلاع میں بھی تازہ برفباری ہوئی ہے ۔میدانی علاقوں کے برعکس بعض بالائی علاقوں میں بھاری برفباری ہوئی ہے۔کپوارہ،بارہمولہ ،بڈگام ،گاندربل ،پلوامہ ،اننت ناگ ،شوپیان اور کولگام سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ان تمام اضلاع کے میدانی علاقوں میںہلکی سے درمیانی درجہ تک کی برفباری ریکارڈ کی گئی ، ۔اس دوران سونہ مرگ،لداخ کے بیشتر علاقوں ، پہلگام ، مڑھل ، ٹیٹوال ، گریز ،زوجیلااور اوڑی کے بالائی علاقوں میں بھی تازہ برفباری کی اطلاعات ملی ہیں۔ پہلگام ،آڑو، چندن واڑی ،سونہ مرگ ،زوجیلا ، گگن گیر ،گنڈ ،یوسمرگ ،افروٹ ،سادھنا ٹ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *