مستقبل سنوارنا ہے تو حال کو بہتر بنانا ہوگا

سہیل عابدین

admin

موجودہ دور میں سماج شخصیت کو ترجیح دیتا ہے اور اس سے جڑی جوازیت یہ ہے کہ ہم اپنے برتاؤ کے طرز پر اپنی قسمت لکھ سکتے ہیں۔ اور یہی جوازیت ہمیں ایک مشغول زندگی کی طرف گا م زن کرتی ہے۔ کامیابی اور حصولیابی کے سلسلے میں ہماری سونچ اور ہمیشہ صحیح ہونے کی تڑپ ہمیں بے چین کرتی ہے۔ ہم خیالوں میں ہی گھومتے رہ جاتے ہیں۔ کام کچھ خاص نہیں ہو پاتے، لیکن ہم ہمہ وقت مشغول رہنا پسند کرتے ہیں۔ اسمارٹ فون سے ہاتھ نہیں ہٹتا ۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کو یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ فلاں کام کرنا ہے۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کچھ کرنے اور کسی کام میں مشغول رہنے کی اس تڑپ کے پیچھے خود کے سلسلے میں ناممکن خیالات کا ہونا سب سے اہم بات ہے۔
سماج سے وابستگی کے سلسلے میں ہمیں یہ خیال نہیں رہتا کہ بیرونی ہمت افزائی کا ہم پر کتنا اثر ہوتا ہے ۔ اس کے نتائج یہ ہوتے ہیں کہ “کر رہے ہیں”مل جائیگا کے چکر میں پھنس جاتے ہیں۔ وقت مل جائے تو اس بلندی تک پہونچ جاؤنگا۔ نتیجتاً ہر اس بلندی کو جسے ہم پار کر چکے ہوتے ہیں۔ وہ اگلی بلندی کا پہلا پائیدان معلوم ہوتا ہے۔ لہذا ہمیں بہت زیادہ ترقی مل جاتی ہے تو ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں نکل پاتا، جس کا ہم انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ مکمل طور پر جذبہ حاصل نہیں ہو پاتا ، جس کے لئے تڑپ رہے ہوتے ہیں۔ کسی بھی حال میں ہم وہ مقام پانا چاہتے ہیں، اگلا قدم کیا ہو ، آگے ہمیں کون سا کام کرنا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ ہماری یہی تگو دو ہمیں تھکا دیتی ہے ۔ کام کرنے کے طریقۂ کار اور زندگی میں غیر توازن پیدا کر دیتی ہے۔ جب ہم آپ کام کو انجام تک پہونچا نے کے لئے پروگرام بنا رہے ہوتے ہیں۔ تو زندگیاں گزر رہی ہوتی ہیں۔ اس سلسلے کو کمزور کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے مندرجہ بالا سلسلے میں تبدیلی لانا ۔ اہم بات یہ ہے کہ جو ہم بننا چاہتے ہیں ۔ اس کام کو لگن کے ساتھ کرنے کی کوشش کریں۔ جس کو کرنے کے بعد فرحت محسوس ہو۔ اور اس کام کو کرنے کے بعد وہ مجھے حاصل ہو جائے۔ جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ اگر آپ ہر وقت خوش و خرم رہنا چاہتے ہیں تو قصد کریں کہ ہر وہ کام کرنگے جس میں میری اپنی اور اپنوں کی بھلائی ہے۔ جس سے ہم آپ کو ہمہ وقت خوشی فراہم ہوتی رہے گی۔ ہمارے آس پاس میں اس طرح کے متبادل ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں۔
باری تعالیٰ نے ہم انسانوں کو سونچنے سمجھنے کی صلاحیت بخشی ، اسی لئے ہم انسان ہیں، ورنہ جانوروں میں شمار کئے جاتے ۔ آج کا ترقی یافتہ سماج اسی دلیل پر منحصر کرتا ہے۔ ہماری ہر سونچ و فکر میں ایک نہ ایک مقصد چھپا ہوتا ہے۔ میری زندگی کیسی ہو اور میرا ارادہ کیا ہونا چاہئے۔ اگر زندگی میں شفافیت ہو تو زندگی آسان ہو سکتی ہے۔ زندگی گلوب کے مانند ہوتی ہے۔ جو گشت کرتی رہتی ہے۔ جس سے سمت کا با آسانی پتا لگایا جا سکتا ہے۔ ضروری یہ نہیں کہ ہم کس سمت کو جارہے ہیں، ضروری یہ ہے کہ ہم جس سمت کو جا رہے ہیں وہ ہمارے لئے کیا کار آمد ہے۔ کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جس پر ہمیں عبور حاصل نہیں ہوتا ، جو ہو رہا ہوتا ہے اس سے جڑے رہ جاتے ہیں۔ جس کے مرکز میں ہم اپنے آپ کو پاتے ہیں۔ ہمہ وقت ہم آپ ایک دوسرے کو تولتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ تاکہ اس کا اثر ہم پر کیا ہوگا؟ دل ہی دل میں ہم اپنی چیزوں پر فخرکرتے رہتے ہیں، دوسروں کی چیزوں پر عیب جوئی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اپنی اچھائی اور دوسروں کی برائی یہ سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے۔
بہتر ی کے عزم وارادے پر اپنا خیال مرکوز کریں۔ تاکہ دوسرے لوک استفادہ حاصل کر سکیں۔ کسی شخص پر کوئی کام تھونپنا ، اور یہ کہنا کہ یہ کام ہونا ہی چاہئے۔ دباؤ میں آکر وہ شخص اس کام کو انجام تو دے سکتا ہے۔ لیکن اس کام سے استفادہ حاصل نہیں کر سکتا۔ جیسا کہ ہم آپ نے دیکھا ہوگاکہ بچوں کو انکے والدین کسی بھی کام کے لئے زور زبردستی کرتے ہیں ، بچا والدین کے خوف سے وہ کام کر تو لیتا ہے۔ لیکن جبراً ، بہتر ہوگا کہ بچوں یا رشتہ داروں کے ساتھ بہتر حسن و سلوک قائم کیا جائے تاکہ زندگی خوشگوار ہو سکے۔
صبر کی تلقین ہر کوئی کرتا ہے۔ لیکن کیا ہم میں سے کوئی بھی شخص ثابت قدم رہ پاتا ہے ، نہیں بالکل نہیں، کام کرنے کی رفتار الگ ہوتی ہے اور اسکے نتیجے کی رفتار بالکل الگ ۔ اس کے درمیان میں ہماری بے چینی ، جھنجھلا ہٹ، امیدیں آپا کھونے لگتی ہیں۔ اور اگر کچھ نتائج برآمد ہوتے ہیں تو وہ ہے صبر، بے چینی اور چاہت گھٹیا سچائی کو دھند لا کر دیتی ہے۔ اس دھند میں ہم وہ دیکھ یا سن نہیں پاتے، جو ہو رہا ہوتا ہے۔ غصہ آتاہے ، ناکامی بڑھنے لگتی ہے۔ لہذا ہماری زبان تلخ بیانی پر آمادہ ہو جاتی ہے۔ ہمیں جو نہیں بولنا چاہئے وہ بول بیٹھتے ہیں۔ وہ کر گزرتے ہیں جو نہیں کرنا چاہئے۔ بے کار کی جھنجھلاہٹ 10مینٹ کے کام کو گھنٹوں میں تبدیل کردیتی ہے لہذا جھنجھلاہٹ کی وجہ کر منزل دور نظر آتی ہے۔
صبر یعنی Patience لفظ کے معنی میں بغیر آپا کھوئے ہوئے اپنے غصوں پر قابو رکھنا ، یعنی ہمیں ہر اس لمحہ میں صبر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب تک کہ دلی خواہشات پوری نہ ہو جائے ۔ صبر انتظار کرنے کا آلہٰ ہی نہیں ۔ ہم کس طرح کے سلوک کے ساتھ انتظار کرتے ہیں، وہی صبر ہے۔
یہ صحیح ہے کہ نئی تکنالوجی نے ہمارے کام کرنے کی رفتار بڑھادی ہے۔ فوری نتیجہ حاصل کرنے کے طریقۂ کار میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن اپنے حصے کا کام کرلینے کے بعد بھی انتظار برقرار رہتا ہے۔ جو جتنا کوشش کرتا ہے۔ اتنی بلندی حاصل ہوتی ہے۔
صبر کا دوسرا پہلو یقین ہے۔ ایک سائنسداں کو بلب کی کھوج کرنے میں تین سال لگے تھے ۔ اس درمیان ان کے ساتھی انہیں چھوڑ کر جا چکے تھے۔ وہ جب جب تجربہ میں ناکام ہوتے ، انکے ساتھی انہیں پیچھے ہٹنے کے لئے کہتے۔ ایک بار لگے لگے وہ کسی صحیح تار تک پہونچ گئے اور بلب جل اٹھا۔ نتیجتاً یہ روشنی لگن اور محنت کی دلیل ثابت ہوگئی۔ “درد پہ حاوی ہوتی یقین”یقین کی باگ ڈور صبر پر قائم و دائم ہے۔ کبھی کبھی ہماری زندگی درد بھری داستان ہوتی ہے، لیکن یہی صبر درد کو کم کرتی ہے۔
صبر خالی بیٹھنے کا نام نہیں۔ ہمیں جد وجہد کرتے رہنا چاہئے۔ ایک نہ ایک دن کامیابی ضرور بالضرور ہاتھ آئیگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *