نظریاتی اور انقلابی تحریکوں کی نظر مستقبل پر ہوتی ہے

سید سعادت اللہ حسینی

Asia Times Desk

   یہ تصاویر کیرلہ کے ایک انوکھے اور بڑے دلچسپ اجتماع کی ہیں۔ کیرلہ میں جماعت کے زیر اہتمام بچوں کی دو الگ الگ تنظیمیں کام کرتی ہیں۔ مانرواڑی بال سنگم جو ساتویں جماعت تک کے بچوں کے لئے ہے اور ٹین انڈیا جو ہائی اسکول کے بچوں کے لئے ہے۔ اس ہفتہ ٹین انڈیا نے اپنا کنونشن کیا جس میں ریاست بھر سے تقریبا بارہ ہزار بچے شریک ہوئے۔

Image may contain: 17 people, people standing and outdoor
‎جب مجھے اس اجتماع میں شرکت اور اس کے افتتاح کی دعوت ملی تومیں نے معذرت کرلی تھی۔۔ اس ماہ کئی سفر درپیش تھے اور کیرلہ کا بھی ایک سفر، مہینہ کے آخر میں،عالمی زکٰوۃ کانفرنس میں شرکت کی غرض سے پہلے سے طئے تھا۔ لیکن بچوں نے بے حد اصرار کیا اور کئی ذمہ دار لوگوں نے بھی فون کرکے پرزور سفارش کی تو مجھے جانا ہی پڑا۔

پہلے تو مجھے حیرت تھی کہ بچوں کے اس پروگرام میں شرکت کے لئے مجھ سے کیوں اتنا اصرار کیا جارہا ہے لیکن وہاں جانے کے بعد پتہ چلا کہ یہ کتنا غیر معمولی پروگرام تھا۔ کیرلہ میں بچوں کے کام کو کتنی اہمیت دی جاتی ہے،اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اس پروگرام مین کئی ذمہ داران موجود تھے۔میرے علاوہ نائب امیر جماعت جناب ٹی عارف علی، امیر حلقہ جناب ایم آئی عبد العزیز، معاون امیر حلقہ جناب پی مجیب، کارکنو صاحب، کیرلہ کی شوریٰ کےاکثر ارکان، ایس آئی او کے کل ہند صدر، ایس آئی او، جی آئی او، حلقہ خواتین، سالڈریٹی کے ریاستی صدور اور کیرلہ جماعت کے مختلف اداروں کے سربراہ، یہ سب پہلی صف میں موجود تھے۔ مختصر تقریریں دوتین لوگوں ہی کی تھی۔ باقی سب بچوں کی ہمت افزائی کے لئے اور ان کی کارکردگی سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے وقت فارغ کرکے تشریف لائے تھے۔

‎ نظریاتی اور انقلابی تحریکوں کی نظر مستقبل پر ہوتی ہے اور آدمی کی نظرمستقبل پر ہو تو اسے سب سے زیادہ آنے والی نسلوں کی فکر ہوتی ہے۔ تحریک اگر مینٹیننس آرگنائزیشن میں بدلنے لگے تو اس کی ایک اہم علامت یہ ہوتی ہے کہ نئی نسل سے خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ ان کو آگے بڑھانے، ان کی ہمت افزائی کرنے، شفقت و محبت کے ساتھ ان کی غلطیوں کو درست کرنے اور ان کی تربیت و رہنمائی کرنے سے زیادہ،خامیاں نکال نکال کر ان کو ذلیل کرنا اور ان کی ہمتوں کو پست کرنا اور اپنے رویوں سے تحریک اور جماعت سے ان کو دور بھگانا معمول بن جاتا ہے۔

یہ صورت حال اس وقت ملک کے بعض مقامات پر بہت واضح طور پر نظر آتی ہے اور اس کا خمیازہ بھی تحریک کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ ان مقامات پر تحریک کی صفوں سے کئی نسلیں غائب ہوگئی ہیں۔ اگر صورت حال یہی رہی توبظاہر یہاں تحریک چند سالوں کی مہمان ہے۔اور پرانی نسلیں اپنا کام مکمل کرکے اللہ کے دربار میں جواب دہی کے لئے پہنچیں گی تو بقول سابق امیر جماعت مولانا سراج الحسن صاحب، افراد کے جنازوں کے ساتھ تحریک کا جنازہ بھی نکلے گا۔ خدا نخواستہ۔۔۔اللہ تعالی اس صورت حال کے حل کی طرف متوجہ ہونے کی ہم سب کو توفیق بخشے۔

‎نوجوانوں اور بچوں کی رہنمائی، ہمت افزائی، انہیں مواقع فراہم کرنے اور انہیں آگے بڑھانے کے معاملہ میں بلاشبہ کیرلہ ملک کا ممتاز ترین حلقہ ہے۔ ہر دورہ میں بزرگوں کی عالی ظرفی و وسعت قلبی اور ان کی جانب سے نوجوانوں کے لئے والہانہ شفقت و محبت کے نہایت دلربا نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں.

یہ شفقت و محبت یقینا اللہ کے لئے اور اس کے دین کے حوالہ سے ہے اور اس کا نتیجہ اللہ تعالی اس حلقہ کو دنیا ہی میں یہ دے رہا ہے کہ ہر ایج گروپ کے نہایت باصلاحیت افراد کار کی پوری کہکشاں یہاں تحریک کو میسر ہے اور زندگی کے ہر شعبہ میں کام ہورہا ہے۔

‎ٹین انڈیا کی کانفرنس بھی ایسے دلربا نظاروں سے مالا مال تھی۔ اس کانفرنس کے کئی پہلو ملک کے دیگر حلقوں کے لئے قابل تقلید ہیں۔
‎ اس کانفرنس کی کچھ ضروری تفصیلات ان شاء اللہ اگلی قسط میں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *