انجمن اُردوصحافت جموں وکشمیر کا اہم اجلاس ایوان ِ صحافت سرینگرمیں منعقد

پیشہ وارانہ صلاحیتوں کونکھارنے پراتفاق   ; ماہ جنوری کے پہلے ہفتے میں تنظیمی انتخابات کاعمل شروع کیاجائیگا:نسار رسول 

Asia Times Desk

سری نگر: اُردوصحافت سے وابستہ صحافیوں ،مدیران ِمعاون اورنامہ نگاروںکی نمائندہ تنظیم انجمن اُردوصحافت جموں وکشمیر کاایک اہم اجلاس منگل کے روزایوان ِ صحافت (پریس کلب)سرینگرمیں منعقدہوا،جس میں انجمن کے عبوری ذمہ داروں اورمستند ممبران نے شرکت کی ۔انجمن اُردوصحافت جموں وکشمیر کے عبوری صدرریاض احمدملک کی زیرصدارت اجلاس میں سری نگرنشین صحافیوں ونامہ نگاروں کے علاوہ وادی کشمیرکے اطراف واکناف میں سرگرم مختلف میڈیااداروں بشمول پرنٹ والیکٹرانک سے وابستہ نامہ نگاروں نے شرکت کی ۔
انجمن اُردوصحافت کے جھنڈے تلے منعقدہ اس مشاورتی اجلاس میں جوسینئرصحافی موجودتھے ،اُن میں ریاض ملک ،راشدمقبول ،منوہرلالگامی، زاہدمشتاق،اظہررفیقی،شبیرملک ،طارق علی میراورشاہدمسعودبخاری کے علاوہ مختلف اخبارات سے وابستہ مدیران ِ معاون اورنامہ نگاربھی شامل ہیں ۔نظامت کے فرائض زاہدمشتاق نے انجا م دئیے اورانہوں نے اسبات پرزوردیاکہ اُردوصحافت سے جڑے صحافیوں،مدیران ِ معاون اورنامہ نگاروں کوکسی بھی نوعیت کی احساس کمتری کاشکارہونے کے بجائے اپنی خامیوں اورکمزوریوں کودورکرنے پرزیادہ توجہ دینی چاہئے ۔زاہدمشتاق نے کہاکہ ہم سب کواسبات پرفخرہوناچاہئے کہ ہم سرکاری زبان اُردوکی حفاطت کیلئے کی جارہی کوششوں میں اہم رول اداکررہے ہیں ۔
اجلاس میں موجودسبھی شرکاءنے اُردوصحافت اوراس سے وابستہ صحافیوں ونامہ نگاروں کودرپیش مسائل ومشکلات کے ساتھ ساتھ پیشہ وارانہ خامیوں اورکمزوریوں کے بارے میں کھلے ذہن سے اپنے خیالات کااظہارکیاجبکہ کئی شرکاءنے پیش آئے سخت مشکلات کے بارے میں بھی اپنے اپنے تجربات بیان کئے ۔زاہدمشتاق ،راشدمقبول ،طارق علی میراورشاہدبخاری نے اسبات کی جانب توجہ مبذول کروائی کہ اُردوصحافت سے وابستہ صحافیوں اورنامہ نگاروں کواپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں بہتری لانی ہوگی اوراس ضمن میں انجمن کوآگے چل کربہت اہم رول اداکرناپڑے گا۔انہوں نے کہاکہ اُردوصحافت میں پیشہ واریت کی کمی پائی جاتی ہے اوراسکی ایک بنیادی وجہ اخبارات کے مالکان کاخودغیرپیشہ ورہونابھی ہے ۔
سینئرصحافیوں کاکہناتھاکہ پیشہ واریت یاProfessionalismکابنیادی تقاضایہی ہے کہ ایک پیشہ ورشخص کواپنے کام کی معقول اُجرت فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوںمیں نکھارلاسکیں ۔تاہم انہوں نے یہ بھی کہاکہ اُردوصحافت سے جڑے صحافیوں اورنامہ نگاروں کوخودبھی اسبات کی کوشش جاری رکھنی چاہئے کہ وہ خودکوکیسے ایک بہترپیشہ ورکے بطورسامنے لاکرمنواسکتے ہیں ۔اظہررفیقی ،شوکت ساحل،بلال فرقانی ،ناظم نذیر،بشیراحمدبیگ ،میرعرفان اوردیگرمعززشرکاءنے اپنے خیالات کااظہارکرتے ہوئے کچھ اہم اورتوجہ طلب تجاویزپیش کیں ۔اجلاس میں موجود کچھ دیگرصحافیوں اورنامہ نگاروں نے گلہ کیاکہ اُنھیں محنت کاپورامعاوضہ نہیں دیاجاتاہے اوریہ بھی بتایاکہ اُردواخبارات اورمختلف نجی نیوزچینلوں کے مالکان اپنے ہاں پیشہ واریت کوپروان چڑھانے یاکہ اسکوفروغ دینے میں غیرسنجیدہ رہے ہیں ۔
لگ بھگ2گھنٹے تک شرکاءکی آراء،تجاویزاوردرپیش مشکلات کوبغورسننے کے بعدانجمن اُردوصحافت جموں وکشمیرکے عبوری صدرریاض ملک نے کہاکہ انجمن ھٰذانے اُردوصحافت کونکھارنے اوراس سے وابستہ صحافیوں ونامہ نگاروں کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کونکھارنے نیزصحیح سمت دینے کیلئے ایک لائحہ عمل مرتب کیاہے ،جسکے تحت ریاستی ،صوبائی اورضلعی سطح پرورکشاپ اورتربیتی پروگرام منعقدکئے جائیں گے اوران پروگراموں میں شامل ہونے والے نامہ نگاروں کوتربیت ولازمی پیشہ وارانہ جانکاری فراہم کرنے کیلئے ماہراساتذہ کی خدمات حاصل کی جائیں گی جبکہ ایسے ورکشاپوں کے دوران سینئرصحافی اورصحافت کامضمون پڑھانے والے اساتذہ لیکچردیاکریں گے ۔
ریاض ملک کاکہناتھاکہ یہ ہم سب کیلئے ایک حوصلہ افزا بات ہے کہ کم قلیل وقت میں ہی ہم اس انجمن کوایک تنظیمی شکل دینے کی پوزیشن میں آگئے ہیں کیونکہ ریاست کے تینوں خطوں کشمیروادی ،صوبہ جموں اورخطہ لداخ سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ 100صحافی اورنامہ نگارانجمن اُردوصحافت کی ممبرشپ حاصل کرچکے ہیں ۔انہوں نے اعلان کیاکہ ماہ جنوری 2019کے پہلے ہفتے میں ہی انجمن اُردوصحافت جموں وکشمیرکے عہدیداروں کاانتخاب عمل میں لانے کیلئے الیکشن کاعمل شروع کیاجائیگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *