آسام کا احمد علی: کیسے ایک انپڑھ رکشہ چلانے والا تعلیم کا پیامبر بن گیا۔

Asia Times Desk

 ایک دن رکشہ چلاتے ہوئے ، آسام کے کریم گنج کے باشندہ احمد علی کو یہ سوچ کر بڑی تکلیف ہوئی کہ اس کی طرح کا اس کا ہونے والا بچہ بھی انپڑھ رہ جائے گا اور شاید روزی روٹی کے لیے اسے بھی رکشہ چلانا پڑے گا۔
مدھوربند گاؤں کا رہنے ولا علی جواب 82سال کا ہے۔ کریم گنج شہر منتقل ہوگیا ہے، جو ریاست کی راجدھانی گوہاٹی سے 300کیلومیٹر دور ہے۔ وہ اکثر بچوں کو اسکول جاتے ہوئے اور تعلیم حاصل کرتے دیکھتا تھا اور کبھی بھی ان بچوں کو گھر سے اسکول اور اسکول سے گھر لے جایا کرتا تھا۔
یہ سوچ کر کہ اس کا بچہ تعلیم نہیں حاصل کرپائے گا ۔ اس بات نے اسے اس طرح متزلزل کردیاکہ اس نے کچھ ایسا کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ آنے والی نسل کے غریب بچے اور خود اس کے بچے ، اس کی طرح تعلیم سے محروم نہ رہ جائیں۔

تب سے اب تک اس نے اپنے بل بوتے پر 9؍اسکولوں کی تعمیر کردی اور وزیر اعظم نریندرمودی نے اپنی ماہانہ ریڈیوپروگرام ’من کی بات‘میں احمد علی کا ذکر بھی کیاہے۔
’’میں سوچتا ہوں کہ اللہ کی مرضی اور مقامی باشندوں کے تعاون کی بدولت میں وہ سب کرسکا جو میں کرنا چاہتا تھا۔منکسرالمزاج احمد علی کہتے ہیں۔‘‘

’’میں غریبی کی وجہ سے اسکول نہیں جاسکا۔ میرے گاؤں کے لوگ غریب تھے اور یہ دیکھ کر مجھے تکلیف ہوتی تھی کہ غریبی کی وجہ سے بچے اسکول نہیں جا رہے تھے۔ اب میں اور نہیں دیکھنا چاہتا کہ غریب بچے اسکول نہ جائیں۔‘‘علی نے دہلی کے ایک پروگرام میں کہا جہاں اسے ایک مہمان کے طورپر بلایا گیا تھا۔
پہلا اسکول قائم کرنے کے لیے علی کو اپنی زمین کا ایک حصہ بیچنا پڑا اور دوسرا حصہ عطیہ کے طور پر دے دیا ،جہاں پر آج اسکول کی عمارت کھڑی ہے۔ دیگر اسکولوں کے لیے اس نے اپنی کمائی ، بچت اور کچھ عمومی تعاون سے پیسے اکٹھا کئے۔

اس نے کہا: ’’میرے علاقے میں کچھ لوگ تھے جنھوں نے میرے مشن کی حمایت کی اور ہر ممکن مدد کی۔‘‘
اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ اسکول کے لیے پیسہ کی کمی نہ ہو ،وہ دن میں رکشہ چلاتا تھا اور رات میں لکڑیا ں کاٹتا تھا۔ وہ ان لکڑیوں کو بیچ کر پیسے اکٹھا کرتا ، اسکول بناتا اور اسے چلاتا۔

علی نے کہا:’ ’اس علاقہ میں ایک بھی اسکول نہیں تھا۔ مجھے اس بات کا سخت احساس تھا ، جب میرے بچے پیدا ہوں گے تو انھیں بھی کوئی اسکول نہیں ملے گا۔ میرے پہلے بچہ کی پیدائش کے بعد جو ایک لڑکا تھا ، لاچاری کا احساس اور شدید ہوگیا۔‘‘
اس نے مزید کہا کہ اسکول لڑکیوں کے لیے زیادہ اہم تھا ۔ کیوں کہ لڑکوں کو باہر جانے اور تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے مگر لڑکیو ں کو نہیں!
اس عزم صمیم کے ساتھ کہ اسے کچھ کرنا چاہیے علی محکمۂ تعلیم کے ایک افسر سے ملا جن کو وہ اپنے رکشہ میں لے جایا کرتا تھا اور اس افسر کی مدد سے اس نے ایک ثانوی درجہ کا اسکول اپنے گاؤں میں1978میں قائم کیا۔

علی نے کہا:’’اس اسکول کے قیام کے فوراً بعد میں نے محسوس کیا کہ ہمیں پہلے ایک ابتدائی اسکول کی ضرورت ہے۔ جب تک بچے ابتدائی اسکول میں نہیں پڑھیں گے تو وہ ثانوی میں کیسے داخلہ لیں گے؟ 1980میں تین ابتدائی اسکول کھولے گئے ۔‘‘
مجموعی طور پر علی نے اپنے گاؤں مدھوربند اور آس پاس کے گاؤں میں ابتدائی اسکول (درجہ 1-5) پانچ ثانوی اسکول (درجہ 6-8)اور ایک ہائی اسکول قائم کیا ہے۔
علی کا کہنا ہے کہ تعلیم ایک بہت ہی اہم چیز ہے اورہر کسی کو اسے حاصل کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ تعلیم حاصل نہ کرنا ایک گناہ ہے۔
علی نے کہا: ’’حالانکہ میں جاہل ہوسکتا ہوں ، لیکن مجھے لوگوں سے عزت ملتی ہے۔ اب وہ مجھ سے دعائیں لینے آتے ہیں۔ مجھے خوشی ہوتی ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ میرے گاؤں کے لڑکے اور لڑکیاں اسکول جاتے ہیں۔ اس خوشی نے میرا حوصلہ بڑھایا اورمیں کبھی نہیں تھکا۔‘‘

’’مجھے دلی اطمینان ہوتا ہے جب لڑکیاں آکر مجھے بتاتی ہیں کہ ان اسکولوں نے ان کی کتنی مدد کی ہے۔ ہر سال ان اسکولوں میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے زیادہ رہتی ہے۔‘‘
وہ ہائی اسکول جسے علی نے 1990میں قائم کیا تھا۔اس میں رواں تعلیمی سال میں 228بچے ہیں۔ ہر سال سینکڑوں بچے دسویں بورڈ کے امتحان میں بیٹھتے ہیں ۔ لیکن آگے کی تعلیم کے لیے ان کے پاس مواقع نہیں ہیں۔
’’میں صرف دسویں درجہ تک کی تعلیم کا انتظام کرسکا ہوں۔ درجہXIاور XIIکے لیے انتظام نہیں ہے۔ہائر سکنڈری اسکول قائم کرنے کے لیے حکومت کی منظوری بھی چاہیے اور مالی امدا بھی ‘‘ یہ کہنا ہے علی کا اور اسے امید ہے کہ اس کا یہ خواب بھی پورا ہوجا ئے گا۔
’’پاس میں کوئی کالج نہیں ہے۔ سب سے نزدیکی کالج 15کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ میں بچوں کے لیے ایک کالج بھی قائم کرنا چاہتا ہوں ۔ لیکن وہ بعد میں کیا جائے گا۔ پہلے ہمیں ایک جونیئر کالج کی ضرورت ہے۔ ان بچوں کے لیے جو درجہ Xکا امتحان پا س کرتے ہیں۔‘‘

علی کو اس وقت شہرت ملی جب مارچ 2018میں وزیراعظم مودی نے اپنے ماہانہ قومی ریڈیونشر یہ ’من کی بات‘میں اس کا ذکر کیا۔
علی کو فخر ہے کہ وزیر اعظم نے اس کے کام کی تعریف کی، وہ ایک دن ان سے ملنے کی خواہش رکھتا ہے۔
جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ وزیر اعظم سے کیا بولنا چاہتا ہے تو علی نے کہا: وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ اس کے اسکول حکومت سے منظور شدہ ہوجائیں تاکہ کبھی مالی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔’’میں ان سے ایک جونیئر کالج اور ایک کالج کا مطالبہ بھی کروں گا۔‘‘

IANSاور Frank Islam Foundation

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *