میری جوانی رخصت ہو رہی تھی اور زندگی کی شام رفتہ رفتہ نزدیک آ رہی تھی

پرویز اشرفی

Asia Times Desk

میں چھوٹی لائن ہوں. آج چالیس سال بعد یکایک میں نے اپنی تصویر جب فیس بک پر دیکھی تو پہلی بار احساس ہوا کہ میں لوگوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہوں. چار دہائیوں کے بعد اپنی تصویر دیکھ کر آنکھوں میں آنسو آ گئے.میں چالیس سال پیچھے ماضی میں کھو گئی. بات 1914 کی ہے جب ہندوستان میں انگریزی حکومت تھی. آمد و رفت اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے جہاں سڑکوں کی تعمیر ہوئ وہیں تاریخی شہروں کو ریلوے لائن سے بھی جوڑنے پر بھی غور کیا گیا.

سہسرام کی یادیں

اس کے لیے بہار کے شاہ آباد ضلع میں میرے نیٹ ورک کی بنیاد رکھی گئی. لوگ مجھے چھوٹی لائن کے نام سے پکارتے تھے. مارٹن کمپنی نے دو تاریخی علاقوں کو چھوٹی لائن سے جوڑنے کا منصوبہ بنایا. جس میں ڈہری آن سون اور روہتاس گڑھ کے علاوہ آرہ وسہسرام کے درمیان. لیکن سب سے پہلے 1914 میں آرہ سے سہسرام لائٹ ریلوے کا سفر ویر کنور سنگھ کے آرہ شہر سے شروع ہو کر شیر شاہ کی نگری سہسرام میں ختم ہوتا تھا.


تقریباً تیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے لوہے کی پتلی پٹری پر چھک چھک کرتی بڑی شان سے منزل کی طرف بڑھتی جا تی تھی. میں جن راستوں سے گزرتی تھی آس پاس کے علاقوں کے لئے آمد و رفت کا میں ہی واحد اور اہم ذریعہ تھی. حالانکہ میری پٹری کے برابر آرہ سے سہسرام جانے کے لیے بل کھاتی شاہراہ بھی تھی مگر اس وقت نہ بس تھی نہ ٹیکسی اور نہ ہی کاریں، اس لیے آرہ سے سہسرام اور سہسرام سے آرہ جانے والے مجھ پر ہی سواری کرتے تھے.

پرویز اشرفی


مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب ہر تہوار میں لوگ بکرم گنج، گڑھ نوکھا اور کھیرا ڈیہہ سے تماشہ دیکھنے مجھ پر سوار ہو کر سہسرام آتے تھے. ایسے موقع پرمیرے ڈبے میں پاؤں رکھنے کی جگہ نہ ہو تی تھی. لوگ پاودانوں اور چھتوں پر سفر کرتے تھے. وہ ہمارا سنہری دور تھا. مارٹن کے خزانے بھرتے گئے.

میری مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسکول کے بچے مجھے بہت پسند کرتے تھے. ان کے لیے میں ایک کھلونا تھی. اسکول سے چھٹی کے بعد اکثر شریر بچے میرے

لوکو شیڈ پہنچ جاتے اور یارڈ میں کھڑے گارڈ کے ڈبے پر کھیلتے، نزدیک میں قدم کاایک بڑا درخت تھا. جس پر آس پاس کے بچے پتھر مارتے اور پکے ہوئے قدم کے پھل کو بڑے شوق سے کھاتے تھے. بعض بچے تفریح کے لیے مجھ پر سوار ہو کر کھیرا ڈیہہ چلے جاتے اور دوسری ٹرین سے واپس آ جاتے.


جن لوگوں کا بچپن اور جوانی میری چھک چھک کے ساتھ گزرا ہے ان کے ذہن میں میری یادیں آج بھی تازہ ہونگی. ایک زمانہ تھا جب میں بھوجپوری سماج کے لوک رنگ کا حصہ بن گئی تھی. کئی گاؤں کے لوگوں کو میں اتنی محبوب تھی کہ مجھ پر لوک گیت لکھے گئے تھے Hunslet نام کی کمپنی نے میرے انجن کو بنایا تھا. جب میں اپنی پوری رفتار میں چلتی تو
سائیکل سوار میرے مقابلے پر آجاتے. وہ منظر بھی میری آنکھوں میں محفوظ ہے.


میری جوانی رخصت ہو رہی تھی اور زندگی کی شام رفتہ رفتہ نزدیک آ رہی تھی 1974 کے سال میں نے زندگی کی ساٹھ بہاریں دیکھ لی تھیں. 1975 کے آس پاس سواریاں کم ہونے لگیں. وجہ یہ تھی کہ اب بسیں اور ٹیکسیاں بھی سواریاں اٹھانے لگیں. ان کی رفتار مجھ سے زیادہ تھی اس لیے مجھ سے سفر کرنا وقت کی بربادی سمجھا جانے لگا. ویسے بھی میں 64 سال کی کمزور اور بوڑھی ہو چکی تھی. میری گرتی صحت کا کسی نے خیال نہیں رکھا. میرا انجن چار ڈبے کھینچنے کے صلاحیت بھی کھو چکا تھا. اس کے باوجود مزید چار سال تک میں نے عوام کی خدمت کی.

آخر کار 15 فروری 1978 کو آخری بار پیسنجر کو لیکر سہسرام سے آرہ کا سفر مکمل کیا اور پھر میں تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہو گئی. میری پٹریاں اکھاڑ دی گئیں، لکڑی کے سلیپر ہٹا لیے گئے، باقی رہ گیا مٹی کا ٹیلہ. لوکو شیڈ ویران ہو گئے قدم کا درخت بھی اپنی شادابی کھو کر سوکھ چکا تھا. بڑے تالاب کے کنارے نیم دائرہ بناتا ہوا راستہ اور اس کے کنارے کھڑے کھجور کے دو لمبے درخت کا نشان بھی مٹ گیا. ان کی جگہ پر چاروں طرف کنکریٹ کے جنگل اگ آئے ہیں. بس سہسرام کے لوگوں نے مجھے اپنے دلوں سے نہیں ہٹایا.!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *