مسلکی مناظرے میں تشدد کی بھینٹ چڑھ گئی ایک زندگی

Asia Times Desk

نئی دہلی : (ایشیا ٹائمز ) مصنوعی اعضا کے سہارے دوبارہ  اپنے پیروں پر کھڑے ہونے ، کی کوشش کرتے یہ جناب ٓسام کے ہوجائی ضلع نواسی  شریف الدین ہیں ۔شریف الدین ۲۰۱۰ میں مسلکی تشدد کا اس وقت شکار ہوگئے تھے جب ان کے علاقے کی ایک مسجد میں اہل ھدیث اور جمعیت علما ٗ ہند کے علما ٗ کے مابین جاری مناظرہ تشدد کی شکل اختیار کر گیا تھا ، شریف الدین ہنگامہ سن کر وہاں پہونچے کی اسی درمیان موقع پر پہونچی سی ٓآ ر پی ایف نے گولی چلادی ۔

شریف الدین بری طرح زخمی ہوگئے گولی ان کے دائیں پاوں میں گھٹنے کے اوپر لگی اور ہڈیوں اور نسوں کو چھلنی کرتی پار ہوگئی ۔ شریف الدین بری طرح زخمی ہو گئے ۔

علاج میں ان کا سب کچھ تباہ و برباد ہوگیا گھر اور زمیںں سب فروخت ہوگئیں لیکن ۸ برس بعد اب بھی شریف الدین اپنے پیروں پر کھڑے نہں  ہو سکے ہیں ۔

آسام کے ڈاکٹروں نے مکمل علاج کے لیے شریف الدین سے موٹی رقم طلب کیا تو پریشان شریف الدین نے کسی طرح دہلی میں ہیومن ویلفیر فاونڈین سے رابطہ کیا ،اب فاونڈیشن ان کو دوبارہ ان کے پیروں پر کھڑا کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔

 ایشیا ٹائمز کو جب ان کے بارے میں اطلاع ملی کہ وہ علاج کے لیے دہلی میں ہیں تو ہم نے ان کی درد بھری داستان آپ سب تک پہونچانے کے لیے ان سے رابطہ کیا۔

 آئیے جانتے ہیں کہ کہ ایک خاندان مسلکی تشدد کی بھینٹ کیسے چڑھ گیا۔  شریف الدین بتارے ہیں کہ مسلکی تشدد کی آگ میں ان کا سب کچھ کیسے تباہ ہو گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیورو رہورٹ ایشیا ٹائمز نئی دہلی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *