اصلاً ہم سب ایک ٹیم ہیں اور اس ٹیم کا گول اقامت دین ہے / سید سعادت اللہ حسینی 

ہماری تحریک انسان کو چاند پر پہنچانے سے کہیں زیادہ عظیم کام کررہی ہے۔ ہم اس ملک کے 125 کروڑ انسانوں کو جنت تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ یہ بہت عظیم مشن ہے

Asia Times Desk

نئی دہلی : (ایشیا ٹائمز )   مرکز جماعت اسلامی ہند کے کانفرنس ہال میں نومنتخب امیر جماعت اسلامی ہند  سید سعادت اللہ حسینی  کی صدارت میں ذمہ داران مرکز اور تمام کارکنان کے لیے ایک اجتماعی تعارفی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ پروگرام کا آغاز 11:15بجے  ضمیر اللہ فلاحی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔   قیم جماعت ٹی عارف علی نے تمام شرکاء کا استقبال کیااور نشست کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی۔ اس کے بعد شرکاء کا تفصیلی تعارف پیش ہوا۔

اس موقع پر امیر جماعت نے  کہا  کہ آج کا یہ تعارفی اور استقبالیہ پروگرام بہت مفید محسوس ہوا۔ آپ میں سے اکثر حضرات سے ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ لیکن آج کی اس نشست میں تفصیل سے آپ کا تعارف اور خدمات کا علم ہوا ہے۔ آپ تمام کا تحریکی جذبہ قابل قدر ہے۔ آپ پورے خلوص کے ساتھ تحریک کے مقاصد کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب سے خدمات لے، اسے قبولیت بخشے اور اس کا اجر اور خیرو برکت عطا کرے آمین۔

تحریک اسلامی دراصل انبیائی تحریک اور انبیائی مشن کی علم بردار ہے۔ اس تحریک کو 125کروڑ انسانوں تک خدا کا پیغام پہنچانا ہے۔ اس ملک کو بدلنا اور دین کو قائم کرنا ہے۔ جس پاکیزہ معاشرے کا خواب انبیاء اکرام نے، بالخصوص حضرت محمد ﷺ نے دیکھا اور اس کا نمونہ بھی قائم فرمایا، اس خواب کی ہمیں تکمیل کرنی ہے۔یہ کوئی عام دفتر نہیں بلکہ اس مقدس انبیائی تحریک کا مرکز ہے۔

ہمارے ہر کارکن پر واضح رہنا چاہیے کہ اس پر بڑی بھاری ذمہ داری ہے۔وہ یہاں کوئی بھی کام کررہا ہو، اصلاً وہ اس تحریک کی قیادت و رہنمائی کے کام میں اپنا حصہ ادا کررہا ہے۔ ایک مقدس کام کررہا ہے۔اس مرکز سے پورے ملک میں پھیلی ہوئی تحریک کی رہنمائی کرنی ہے۔ حوصلہ اور تحریک فراہم کرنا ہے۔ اور اس میں ہر کارکن کو اپنا رول ادا کرنا ہے۔

امریکہ کے سابق صدرجان ایف  کینڈی کا حوالہ دیتے ہوئے امیر محترم نے فرمایا کہ جب امریکہ میں چاند پر جانے کی مہم چل رہی تھی صدر موصوف نے ناسا کا دورہ کیا۔ وہاں کے سائنسدانوں سے بات چیت کرکے واپس ہوتے ہوئے، انھیں فرش صاف کرنے والا صفائی ملازم ملا۔ انھوں نے اس سے پوچھا کہ وہ یہاں کیا کرتا ہے؟ صفائی کرنے والے نے جواب دیا کہ میں انسان کو چاند پر پہنچانے کے مشن میں مدد کرتا ہوں۔

جب تک ہمارے کارکن میں اپنے نصب العین کا ایسا شعور پیدا نہیں ہوگا ،یہ مرکز موثر نہیں ہوسکتا۔ ہماری تحریک انسان کو چاند پر پہنچانے سے کہیں زیادہ عظیم کام کررہی ہے۔ ہم اس ملک کے 125 کروڑ انسانوں کو جنت تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ یہ بہت عظیم مشن ہے۔

ہم سب اس عظیم مشن میں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔ہم میں سے کوئی امیر جماعت، کوئی نائب امیر، کوئی قیم، کوئی استقبالیہ کا کارکن، کوئی مرکزکی کار چلانے والا اور کوئی یہاں صفائی کرنے والا ہوسکتا ہے۔ لیکن اصلاً ہم سب ایک ٹیم ہیں اور اس ٹیم کا گول اقامت دین ہے۔

کرکٹ کی ٹیم میں کوئی وکٹ کیپر ہوتا ہے، کوئی بالر اور کوئی کسی متعین جگہ فیلڈر۔ لیکن وہ سب مل کر اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرنے کے جذبہ اور مقصد سے کام کرتے ہیں۔مرکز جماعت میں ہر فرد کا ایک اہم رول ہے اور اسے اپنا رول ادا کرنا ہے۔

آخرت میں اللہ تعالی منصب کو نہیں دیکھے گا۔ یہ نہیں دیکھے گا کہ کون امیر جماعت تھا اور کون صفائی کے کام پر مامور تھابلکہ صرف یہ دیکھے گا کہ جس کو جو کام دیا گیا تھا، اس نے اس کا کتنا حق ادا کیا؟ ہم میں سب قربانی کے جذبے سے یہاں آئے ہیں ۔ یہاں کوئی ملازم نہیں ہے۔ کسی کا مقصد محض تنخواہ حاصل کرنا نہیں ہے۔ اگر چہ ہماری ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے تنخواہ بھی دی جاتی ہے لیکن ہمارا محرک تنخواہ نہیں ہے۔ہمارا اصل محرک دین کی اقامت ہے۔

پروگرام کے اختتام پر قیم جماعت  ٹی عارف علی نے اظہار تشکر پیش کیا  پروگرام کی نظامت   محمد اقبال ملا سکریٹری شعبہ دعوت نے انجام دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *