مسلمانو! اپنا قیمتی ووٹ پرساد کی طرح نہ بانٹو 

طاھر مدنی

Asia Times Desk

2019 کا جنرل الیکشن قریب آرہا ہے. ملکی پیمانے پر دو ہی محاذ ابھی تک سامنے ہیں؛ UPA اور NDA. ایک کی قیادت کانگریس کے ہاتھ میں اور دوسرے کی باگ ڈور بھاجپا کے ہاتھ میں ہے. تیسرے محاذ کی سگبگاہٹ کبھی کبھی سنائی دیتی ہے لیکن ابھی تک کوئی وجود نظر نہیں آرہا ہے.
موجودہ تناظر میں مسلمانوں سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ بھاجپا کو روکنے کے لیے اپوزیشن کے محاذ کا ساتھ دیں. بلکہ ایسا باور کرایا جاتا ہے کہ مسلمان جائیں گے کہاں؟ ان کی مجبوری ہے کہ نام نہاد سیکولر پارٹیوں کو ووٹ دیں، اگرچہ یہ پارٹیاں ان کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرتی ہیں اور ان کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دیتیں. اس کی مثال تیز پات جیسی ہے کہ کھانا تیار کرنے کیلئے سب سے پہلے اس کا استعمال ہوتا ہے، مگر جب کھانے کی باری آتی ہے تو سب سے پہلے اسے نکال کر باہر پھینک دیا جاتا ہے.
الیکشن کا موقع ہی ایسا موقع ہوتا ہے جب اپنے مطالبات پوری قوت کے ساتھ رکھے جا سکتے ہیں اور باقاعدہ معاہدہ کیا جاسکتا ہے. اس لیے دانش مندی کا ثبوت دینا چاہیے اور اپنا ووٹ پرساد کی طرح نہیں بانٹنا چاہیے. مسلمانوں کے وہ بنیادی مسائل جن کو اس وقت اٹھانا چاہیے، وہ کیا ہوسکتے ہیں؟ اس پر چنتن اور منتھن کی ضرورت ہے. چند نکات ذیل میں پیش کیے جارہے ہیں؛
1… آرٹیکل 341 سے مذہبی قید ہٹائی جائے اور مسلمانوں و عیسائیوں کو بھی اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے.
2… او بی سی کے لیے 27% ریزرویشن میں آبادی کے لحاظ سے مسلم برادریوں کا سب کوٹہ الگ کیا جائے.
3 … مختلف کمیٹیوں اور کمیشنوں کی رپورٹ کے بموجب پس ماندہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کو ریزرویشن کی سہولت مہیا کی جائے.
4… برسوں سے زیر التواء انسداد فرقہ وارانہ فسادات بل کو جلد از جلد پاس کیا جائے اور موثر طریقے سے نافذ کیا جائے.
5 … ہجومی تشدد اور عصمت دری جیسے واقعات کو روکنے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتی کارروائی ہو اور مجرمین کو عبرتناک سزا دی جائے.
6.. مسلم پرسنل لاء میں کسی طرح کی مداخلت نہ کی جائے.
7… اقلیتی کمیشن کو مزید اختیارات دیئے جائیں اور اس کی سفارشات پر لازماً عمل ہو.
8… دہشتگردی کے الزام میں گرفتار بے گناہوں کی رہائی یقینی بنائی جائے اور ان کی زندگی برباد کرنے والے افسران پر مقدمہ درج ہو.
9 … فرضی انکاونٹر س کی اعلی سطحی جانچ کرائی جائے اور متعلق پولیس افسران کے خلاف کارروائی ہو.
10… بابری مسجد شہید کرنے والوں پر مقدمہ کی کاروائی میں تیزی لائی جائے اور جلد از جلد سزا کو یقینی بنایا جائے.
11.. اقلیتی اداروں کے اختیارات کو نہ چھیڑا جائے اور ان کے ساتھ کوئی بھید بھاؤ نہ ہو.
12… اقلیتی طلبہ و طالبات کے تعلیمی وظائف میں اضافہ کیا جائے اور اس کا حصول آسان بنایا جائے.
13 … پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز میں اقلیتوں کو مناسب ریزرویشن دیا جائے.
14… قبرستانوں کی زمینوں سے ناجائز قبضے ہٹائے جائیں اور ان کے تحفظ کا نظم کیا جائے.
15… اوقاف کا تحفظ کیا جائے اور ان کا استعمال مسلمانوں کے فلاح و بہبود کے لئے یقینی بنایا جائے.
16… حج کے انتظامات کیلئے ایک آزاد ادارہ بنایا جائے اور حکومتی دخل اندازی سے اسے محفوظ رکھا جائے.
17 .. مدارس اسلامیہ کی اسناد کو سرکاری سطح پر تسلیم کیا جائے اور تعلیمی اداروں میں داخلہ اور سرکاری ملازمت کیلئے اعتراف شدہ مانا جائے.
18… اردو کے تحفظ اور ترقی کیلئے موثر اقدامات کیے جائیں اور اسے روزگار سے جوڑ دیا جائے.
19… مسلم علاقوں میں گرلز کالج اور فنی تعلیم کا نظم کیا جائے.
20… اقلیتی وزارت کو زیادہ اختیارات دیئے جائیں اور آزادانہ طور پر فلاح و بہبود کے امور انجام دینے کے مواقع فراہم کئے جائیں.
یہ چند نکات برائے غور ہیں، مسلم قیادت کی یہ ذمہ داری ہے کہ باقاعدہ طور پر مشاورت کے بعد جامع مطالبات کی دستاویز تیار کرائے اور سیاسی جماعتوں سے صاف صاف کہدے کہ جو ہمارے مطالبات تسلیم کرے گا اور باقاعدہ علی الاعلان اگریمنٹ کرے گا، ہم اس کیلئے متحد ہوکر ووٹ کرنے کی اپیل کریں گے اور پورے ملک میں اس کیلئے کمپین چلائیں گے، ہمارا ووٹ 20% ہے جو انتہائی اہمیت کا حامل اور فیصلہ کن ہے. ہم کسی کو مفت میں نہیں دینے والے ہیں. اس وقت ہماری قیادت کی فراست، بصیرت اور عزیمت کا امتحان ہے. ملت امید بھری نظروں سے دیکھ رہی ہے…
امتحاں ہے تری عظمت، تری خودداری کا
وقت آیا ہے، فراست کا، نگہ داری کا…….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *