محمد ابوالفضل فاروقی کے انتقال پر تعزیتی نشست

admin

نئی دہلی، 26 مارچ۔ عالمی یومِ اردو آرگنائزنگ کمیٹی کی جانب سے جامعہ نگر، نئی دہلی میں واقع ابوالفضل انکلیو اور ابوالفضل اپارٹمنٹ کے بانی محمد ابوالفضل فاروقی  کے انتقال پر ایک تعزیتی نشست کا اہتمام دریاگنج، نئی دہلی میں کیا گیا۔ اظہار تعزیت کرتے ہوئے عالمی یومِ اردو آرگنائزنگ کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے کہا کہ وہ ہماری تحریک کے سرپرستوں میں شامل تھے۔ مرحوم انتہائی ملنسار، مخیر اور خداترس انسان تھے۔ عام طور سے سماجی اور رفاہی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔

مسلمانوں میں تعلیمی بے داری اور اس کے حصول کے لیے آخری دم تک کوشاں رہے۔ انہوں نے اپنی سوانح حیات نشیب و فرازکے نام سے جنوری 2000 میں شائع کرائی تھی جسے اردو بک ریویو کے ایڈیٹر محمد عارف اقبال نے ایڈٹ کیا تھا، جس کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔ مرحوم نے اس کا ہندی اور انگریزی ایڈیشن بھی شائع کرایا جسے ابوالفضل انکلیو میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے اس کتاب میں سوانح عمری کے علاوہ کاروباری زندگی، تلخ و شیریں واقعات، تجربات و احساسات کو بحسن و خوبی بیان کیا ہے نیز پراپرٹی خریدو فروخت کرنے والوں کے لیے بھی اہم معلومات کو شامل کیا ہے۔ معروف صحافی سیّد منصور آغا نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ محمد ابوالفضل فاروقی مرحوم جیسے افراد بہت کم نظر آتے ہیں جن کی بدولت دہلی کے جامعہ نگر علاقہ میں مسلمانوں کی اتنی بڑی آبادی قائم ہوگئی جس میں بے شمار تعلیمی ادارے اور مدرسوں کے علاوہ 35 سے زیادہ مساجد ہیں جن میں مسجد دعوت اسلام، جامعہ سنابل کی مسجد، چار مینار مسجد اور بلال مسجد وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان کی بڑی بڑی اہم ملی جماعتوں کے صدر مراکز بھی یہاں قائم ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس علاقے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسا عظیم ملّی ادارہ بھی ہے اور ماحولیات کے اعتبار سے بھی بہت صاف ستھرا علاقہ ہے۔ انہی خوبیوں کی وجہ سے سیّد حامد صاحب جیسی عظیم شخصیت بھی ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھی۔ ممتاز و معروف صحافی محفوظ الرحمن صاحب کی سفارش پر انہیں 1999 میں عالمی یومِ اردو کے موقع پر ثانی شاہجہاں کے خطاب سے نوازا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے اور ان کے ورثا کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ دیگر اظہار خیال کرنے والوں میں معروف قلم کار سالک دھامپوری، سیّد حامد علی اختر، سیّد عثمان بدایونی، عبید بستوی، اشرف علی بستوی، حکیم عطاء الرحمن اجملی، ندیم عارف اور محمد عمران قنوجی وغیرہ کا نام قابل ذکر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *