دنیا کو ہجوم پر قابو پانے کا فن سعودی عرب سے سیکھنا چاہئے

اشرف علی بستو ی : چیف ایڈیٹر ایشیا ٹائمز  ،  نئی دہلی

Ashraf Ali Bastavi

Advt

اللہ کا بےحد کرم و احسان جس نے مجھے اپنے گھرکی زیارت کے ساتھ ساتھ اس سال حج کی سعادت نصیب کی ۔ رب کریم کی جتنی حمد و ثنا کی جائے کم ہے کہ اس نے مجھ پر خاص رحمت کا نزول کیا ۔ اللہ کا شکربجالانےکے ساتھ ہی حکومت سعودی عرب کی وزارت میڈیا کا بھی دل سے ممنون و مشکور ہوں کہ جنھوں نے مجھے یہ زریں موقع عنایت کیا اور اپنا مہمان بنایا اور بے انتہا اعزاز بخشا ہر لمحہ دل سے خدمت کی ۔ اللہ انہیں اس کا اجر عظیم عطا کرے یقینا یہ سفر میرے دیرینہ خواب کی تعبیر تھا ہر برس موسم حج میں اشتیاق مزید بڑھ جایا کرتا ۔ حج اور عمرہ پر جانے والے دوستوں سے بس ایک ہی گزارش ہوتی کہ خانہ کعبہ میں میرا نام لیکر ضرور دعاکیجیے گا کہ اللہ مجھے بھی اپنے دربار میں بلالے اور وہ دن آہی گیا رب کریم نے میری دعا قبول کرلی ادھر کچھ برسوں سے حج کے ایام میں میری توجہ ارض مقدس سے آنے والی خبروں پر مرکوز رہتی  خاص طور سے اس عالمی مجمع کی رپورٹنگ میں پہلی فرصت میں جدہ میں تعینات بھارتی حج مشن کی روزانہ کے فیس بک ،ٹویٹر یو ٹیوب اپڈیٹ سے خبریں اخذ کرتا اوراسے نشر کردیتا ، انٹر نیٹ کی وساطت سے  گزشتہ تین برسں سے میدان عرفات کے لائیو منظر اور خطبے کو ایشیا ٹائمز پر نشر کرنے کے لیے عرفہ کے دن صبح سے ہی انٹرنیٹ پرجم کر بیٹھ جاتا 2016 میں  پہلی بار عرفات کے میدان میں ہونے والے خطبے کے متن کو اردو میں تیز ی سے نشر کرنے میں مجھے کامیابی ملی جسے ایشا ٹائمز کے قارئین نے بہت پسند کیا تھا ۔

سفر کچھ شروعات کچھ اس طرح ہوئی  

دہلی میں قائم سعودی سفارت خانے کی پہل پر ارض مقدس کے لیے میرا یہ سفر 4 اگست کی شام دہلی سے شروع ہوا 5  اگست کی صبح 4 بجے جدہ ایر پورٹ پرسعودی وزارت میڈیا کے ایک متحرک نوجوان نے میرا گرم جوشی سے استقبال کیا اور فوری طور پرمجھے ایئر پورٹ پر واقع لاونج میں لے جایا گیا وہاں کچھ دیر آرام کرلینے کے بعد عالی شان ہوٹل موین پک جدہ کی 9ویں منزل کمرہ نمبر 5 میں پہونچا دیا گیا یہاں دو دن پہلے سے مہمان ہونچنا شروع ہوگئے تھے ۔ حج کے ایام کو چھوڑ کر پورے سفر میں ہمارا قیام یہیں رہا ۔  سبھوں نے عربوں کی مہمان نوازی کا بھر پور لطف اٹھایا ۔

میڈیا کی وازارت کے مشیر  برادر فہیم الحامد و وزارت میڈیا کے سپروائزر ڈاکٹر خالد بن عبدالقادر الغامدی

میڈیا ڈیلیگیشن کی قیادت میڈیا کی وازارت کے مشیر  برادر فہیم الحامد کے ذمے تھی اللہ انہیں اجر عظیم عطا کرے اپنے امان میں رکھے مترجم سے لیکر ایک بہترین رفیق کی ذمہ داری انہوں نے بخوبی نبھائی سبھی ساتھیوں سے مستقل رابطے میں رہنا سبھی کے مسائل سننا اور سمجھنا ہر ایک کو مکمل مطمئن کرنے کا فن کوئی برادر الحامد سی سیکھے ۔ اعلیٰ حکام اور عہدے داروں کے ساتھ میٹنگوں اور پریس کانفرنسوں کا شیڈیول ٹائٹ ضرور تھا لیکن ہر جگہ وقت مقررہ پر پہونچانے میں برادر الحامد کو کمال حاصل ہے۔ وزارت میڈیا کے سپروائزر ڈاکٹر خالد بن عبدالقادر الغامدی کی محبتوں کے ذکرکے بغیربات مکمل ہو ہی نہیں سکتی روزانہ کی بنیاد پر ہوٹل سے لیکے منیٰ ، عرفات تک پورے ڈیلیگیشن کے آرام و سکون کے لیے فکر مند رہتے ہر ایک سے ملکر خیریت دریافت کرتے رہتے  پورے سفر میں کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ ہم اپنوں سے دور ہیں ۔

Advt

حج ایک ایسا تجربہ ہے جو پھر زندگی میں کبھی نہیں ہوتا

حج ایک نئے تجربے کا نام ہے۔ ایک ایسا تجربہ جو پھر زندگی میں کبھی نہیں ہوتا۔ اس دوران حجاج کرام الگ قسم کے مشاہدات سے روبرو ہوتے ہیں۔ ہم نے اس پانچ روزہ قیام کے دوران دو خاص باتیں نوٹ کیں۔ ایک خانہ بدوشوں کی زندگی کا تجربہ اور دوسرے ایک دوسرے کے خیالات و نظریات اور جذبات و احساسات کو سمجھنے کا موقع ۔ یہ پانچ روزہ عارضی قیام اپنے آپ میں بڑی معنویت رکھتا ہے اور بڑے سبق آموز مراحل سے گزرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

حجاج کرام جمرات کے لیے نکلتے ہوئے

ہم نے جس لمحے سرزمین حجاز پر قدم رکھا اسی وقت سے ہمیں سعودی حکومت کے انتظامات کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ یہ مشاہدہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا ۔ لاکھوں کی تعداد میں پولیس اور سیکورٹی جوان، اور دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے رضاکاروں نے حجاج کے لیے پلکیں بچھا دیں ۔

سیکورٹی سنبھالنے کا یہاں کی پولیس کا نظام زبردست ہے۔ ٹریفک کو کیسے کنٹرول کیا جائے یہ کوئی آکر ان سے ہی سیکھے۔ سیکورٹی، ٹریفک، صحت اور دوسرے معاملات میں مختلف محکموں کی کارکردگی سے حکومت ہر سال  نئے نئے تجربات کرتی ہے۔ جن جوانوں کو ٹریفک کنٹرول کرنے یا دیگر خدمات کے لیے متعین کیا گیا تھا انہیں بے پناہ محبت اور خدمت کے جذبے سے لبریز پایا ۔

منیٰ میں  درجہ حرارت 42 ڈگری تھا ۔ کھلی سڑک پر گزرتے وقت دھوپ کی تمازت پریشان کردیتی ہے لیکن اچانک رم زم  بارش کی پھوا ریں پڑنے لگتی ہیں۔ جگہ جگہ کھڑے جوان پانی سے بھری بوتل سے حجاج کرام کے چہروں پر اسپرے کر تے نظر آتے ہیں ۔ اس طرح دھوپ کی تمازت سے کچھ دیر کے لیے راحت مل جاتی ہے ۔

کامیابی کے ساتھ کنکری مارنے کے بعد حجاج کرام واپس ہوتے ہوئے

جہاں جہاں بھیڑ کا اندیشہ تھا وہاں وہاں اس کو سنبھالنے کے خاص انتظامات کیے گئے تھے ۔ پہلے رمی کرنے کے لیے جمرات پر کوئی منزل نہیں تھی۔ لوگ رمی کرکے اسی راستے سے واپس بھی آتے تھے جس کی وجہ سے بھگدڑ سی مچ جایا کرتی تھی اور جانی نقصان ہو جاتا تھا۔ لیکن اب جمرات پر چار منزلیں تعمیر کر دی گئی ہیں۔ یعنی گراونڈ پلس تھری۔ الگ الگ منزلوں پر جانے اور مڑنے کے راستے بھی الگ الگ بنائے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک طرف کے خیموں کا راستہ گراونڈ فلور پر جاتا ہے اور حجاج کو رمی کرکے وہیں سے فوراً بائیں طرف سے یو ٹرن لے کر واپس آجانا ہوتا ہے۔ کسی اور طرف کے خیموں کا راستہ پہلی منزل پر جاتا ہے اور رمی کرکے گراونڈ سے تھوڑا آگے چل کر یو ٹرن لینا پڑتا ہے۔ اسی طرح تیسری منزل والے کنہی اور خیموں کی طرف سے آتے ہیں اور رمی کے بعد وہ کافی آگے تک جا کر یو ٹرن لیتے ہیں۔ اس طرح بھیڑ کو کئی منزلوں پر منتشر کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہاں اب اژدحام کا کوئی خطرہ نہیں رہ گیا۔ البتہ کچھ لوگ جوش میں آکر پہنچتے ہی کنکری مارنے کے لیے دوڑ پڑتے ہیں جس کی وجہ سے بالکل آگے کی طرف زیادہ بھیڑ رہتی ہے۔ واپسی کا راستہ ایک ہی ہے جو مسجد خیف سے گزرتا ہے۔ بھیڑ کنٹرول کرنے والے جوانوں کے علاوہ بڑی تعداد میں نقشہ بردار رضاکار تعینات ہوتے ہیں ۔ جہاں کوئی شخص اپنے راستے سے بھٹکا اور اس نے ان نقشہ بردار رضاکاروں سے رابطہ قائم کیا وہیں انھوں نے مکتب نمبر پوچھا اور نقشہ دیکھ کر بتا دیا۔

Advt

ڈیوٹی پر تعینات پولیس و والینٹیرس کا قابل دید ضبط و تحمل

حاجیوں کی سہولت اور انہیں راہنمائی کے لیے جگہ جگہ تعینات پولیس و والینٹیرس کا ضبط و تحمل قابل دید ہوتا ہے ۔ حاجیوں کے ساتھ ان کا برتاو انتہائی محبت آمیز ہوتا ہے ۔ پریشان حال حاجی کی مدد کرتے وقت پولیس کے جوان کے چہرے پر ایسا تاثر ابھرتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ جس حاجی کی وہ مدد کر رہا ہے ہے اس کا اپنا کوئی حقیقی رشتہ دار ہو ۔ وہاں حاجیوں کو اللہ کا مہمان کہہ کر پکارا جاتا ہے اسی لیے ان کی مہمان نوازی کا یہ معاملہ جا بجا دیکھنے کو ملتا ہے ۔

حرم شریف میں ہجوم کنٹرول نطام کے سربراہ

اس سفر کو سفر تربیت بھی کہا جا سکتا ہے

حرمین شریفین کی حاضری یقینا ایک مسلمان کی تربیت میں بہت اہم رول ادا کرتی ہے ۔ حرم میں داخل ہوتے ہی تربیت شروع ہوجاتی ہے ۔ خود تکلیف سہہ کر دوسروں کی مدد کرنا ہر کوئی اپنے لیے باعث سعادت سمجھتا ہے ۔ اسی طرح کا ایک واقعہ طواف کے دوران میرے ساتھ بھی  پیش آیا ۔  افریقی حاجیوں کا ایک گروپ ہمارے ساتھ ساتھ طواف کر رہا تھا کہ اسی دوران ایک شخص نے گرمی کی شدت سے پریشان اپنے ایک حاجی ساتھی کے چہرے پر بوتل سے پانی چھڑکنے کے بجائے پانی کی پوری بوتل ہی ان پر ڈال دی ان کے اس عمل سے انہیں ناگوار گزرا یہ منظر جیسے ہی میرے ساتھی شوکت پراچہ نے دیکھا جھٹ اپنے احرام سے چہرہ صاٖف کرنے لگے یقینا یہ منظر دیدنی تھا یہاں میری آنکھوں کے سامنے  اس حدیث کے وہ الفاظ تیرنے لگ گئے جس میں کہا گیا ہے کہ امت مسملہ ایک جسم و جان کے مانند ہے جسم کے کسی ایک حصے پر تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم تڑُپ اٹھتا ہے ۔ اس سفر کو سفر تربیت بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہاں ایثار و قربانی کا یہ جذبہ  جابجا دیکھا جا سکتا ہے ۔ دوران طواف کچھ لمحے کے لیے میں اپنے ارد گرد نظر ڈالتا اور یہ اتحاد اور اخوت کا منظر دیکھ کر آنکھیں بھر جاتیں ، زبان پریہ دعا کے یہ الفاظ جاری ہوجاتے کہ اے اللہ اتحاد کی اس کیفیت کو ہماری پوری زندگی میں قائم و دائم رکھ اور ہر مسلمان کو اپنی اس تربیت گاہ میں بلالے۔

911 سعودی کی لائف لائن

حج کے دوران سعودی ریسکیوٹیمیں کیسے کام کرتی ہیں شاید اس کا اندازہ آپ کو نہ ہو ہم نے 911 کے ہیڈ کوارٹر کا معائنہ کیا ہے ۔  یہاں باقاعدہ ایک حج سیل تشکیل دیا گیا ہے جو صرف حج کے ایام میں ہی سرگرم ہوتا ہے 5900 کیمروں کی مدد سے حج کے سبھی مقامات کی 24 گھنٹے نگرانی کی جاتی ہے ۔ اس ہیڈ کوارٹر میں تعینات پولیس کے عملے نے بتایا کہ یہاں 7 زبانوں میں ہیلپ لائن پر مدد کی جاتی ہے جس میں اردو بھی شامل ہے ۔ ہر کال پر 45 سیکینڈ میں مدد پہونچانے کاکام شروع ہوجاتا ہے ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ خواتین کی بھی قابل اچھی تعداد اس کا م میں مصروف ملیں ۔ اس کے علاوہ جدہ ایئر پورٹ پر تعینات امیگریشن کے نوجوان  افسران کی پھرتی قابل دید تھی آپ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہیں گے یہاں 300 امیگریشن کاونٹر رات دن کام کرکرہے تھے ۔ حرم شریف کی نگرانی پر مامورعملہ عملہ کے سربراہ یحیٰ بن عبدالرحمٰن نے ہمیں بتایا کہ 300 سی سی ٹی وی کیمروں سے  پورے حرم شریف کی 24 گھنٹے گہری نگرانی رکھی جاتی ہے ۔

پولیس ہیڈ کوارٹر میں خواتین ونگ

میرا ذاتی احساس

وزارت میڈیا کے سپروائزر ڈاکٹر خالد بن عبدالقادر الغامدی نے آخری روز ہوٹل میں ہمارے ساتھ دیر تک وقت گزارا اور پورے دس روزہ سفر کے تاثرات حاصل کیے کئی ساتھیوں نے اپنے دس روزہ تجربات کی روشنی میں مستقبل کے  لیے مفید مشوروں سے نوازا ۔ میرا احساس یہ تھا کہ سعودی عرب  سے آنے والی خبروں کو عالمی میڈیا اکثراوقات منفی رخ دے دیتا ہے ،  خاص طور سے اس وقت وزن 2030 کے حوالے سے  سعودی عرب میں جو اقتصای اصلاحات جاری ہیں انہیں خلاف واقعہ توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے ایسی صورت میں سعودی عرب کو چا ہیے کہ  وہ دنیا بھر میں پھیلے مسلم صحافیوں کو جوڑنے کاکام کرے اور انہیں اپنی سرگرمیوں سے راست طور پر واقف کرائے اس کا دائرہ وسیع تر ہو تاکہ صالح فکر کے صحافی  دنیا کے سامنے  تصویر کا صحیح رخ پیش کر سکیں ۔

خود ہندوستان جوکہ سعودی عرب کا اچھا دوست ہے یہاں بھی  سعودی عرب سے متعلق خبروں کو منفی رخ دینے میں ہندی میڈیا کوئی کمی کرتا جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہندوستان ایک ارب 36 کروڑ کی آبادی میں 55 فیصد لوگوں کی زبان ہندی ہے ایسے حالات میں کتنی بڑی آبادی کے ذہنوں  میں سعودی عرب کی سماجی ، معاشی اور تعلیمی  صورت حال کی منفی شبیہ پیش کی جاتی ہے ۔ اس جانب خصوصی توجہ درکار ہے ۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ دہلی میں تعینات  سعودی سفیر ڈاکٹر سعود الساطی نے اس جانب پہل قدمی کی ہے میڈیا کے افراد سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ہے  اپریل 2017 سے  خبروں پر مشتمل ویکلی نیوزلیٹر میڈیا سے وابستہ افراد کو پابندی سے جاری کرتے ہیں ۔ سفارت خانے میں تعینات فرسٹ سیکریٹری محمد ماجد الحربی کافی فعالیت سے کام کر رہے ہیں ۔ پھر بھی ہندوستانی ہندی میڈیا پر خصوصی  توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ہندی لگ بھگ نصف ہندوستانیوں کی مادری زبان ہے اور یہاں لگ بھگ 20 کروڑ اہل ایمان بھی بستے ہیں ۔

عرفات کے میدان سے ایشیا ٹائمز لائیو 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *