اس پروپیگنڈے میں خیر کا پہلو بھی ہے

اسلام دشمن قوتوں کا رویہ  باہمی اختلاف کے باوجود  اسلام  کے معاملے میں ایک ہے

Asia Times Desk

اشرف علی بستوی 

گزشتہ دو دہائیوں سے خاص طور سے 2001کے بعد سے دنیا بھر میں اسلام اور مسلمان ایک ایسا موضوع بنادیا گیا ہے جس پر آئے دن منفی فکر اور تنگ ذہن خود کو روشن خیال کہنے والی مہذب دنیا  کسی نہ کسی حوالے سے نشا نہ بناتی رہتی ہے ۔  اذان ، نماز ، روزہ پردہ ، رہن سہن  مسلمانوں کا  ہر وہ  عمل جو اسلامی شریعت کے تعارف کا ذریعہ  بنتا ہے کو کسی نہ کسی  حوالے سے نشانہ بنایا جا رہاہے ۔ خود کو مہذب کہنے والے لوگ کتنے غیر مہذب واقع ہوئے ہیں اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے میں عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنا نے کے تین  واقعات سامنے آئے ہیں۔ اہل یورپ کو اذان میں فضائی آلودگی کا عنصر نظر آنے لگا ہے ۔

چین جو کہ اسلام کے تئیں سختی کے معاملے میں یورپ سے بھی دو قدم آگے  ہے نے اسی ہفتے یہ فرمان سنایا ہے ہے  کہ اب ہر مسجد میں حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے قومی جھنڈا نصب کرنا ہوگا۔ اسی طرح  ڈنمارک کی وزیرانگر سوزبرگ نے مسلمانوں کو صلاح دی ہے کہ رمضان  میں باقاعدہ چھٹی لیکر گھر رہیں  دس گھنٹے سے زیادہ وقت تک بھوکے پیاسے رہ کر کام کرنا ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے ۔  ان تینوں واقعات میں ایک چیز مشترک ہے کہ دنیا  بھر کی اسلام دشمن قوتوں کا سوچنے کا رویہ  فکری اختلاف کے باوجود  اسلام  کے معاملے میں ایک ہی ہے ،  سبھی  اسلام کو اپنا مشترک دشمن مانتی ہیں ۔

اہل یورپ  2015 کے بعد سے اپنے یہاں پناہ گزینوں کی تیزی سے بڑھتی آمد سے  خائف ہیں انہیں اس بات کا خوف ستا رہا ہے کہ اگر یہی صورت حال رہی تو ان کی آبادی کم ہو جائے گی ۔  جبکہ اگر جائزہ لیاجائے کہ تو اس صورت حال  کا ذمہ دار یہی یوروپی ممالک خود ہی ہیں ، جن ممالک سے لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں وہاں جنگ کی صورت حال کس نے پیدا کی ہے ؟

سویڈن میں اذان بندی مہم زورو وشور سے چلائی جارہی ہے ، اس سے قبل  جرمنی سے بھی  اس طرح کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں ، ناروے میں بھی اس طرح کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں ۔  تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس طرح کے مطالبات  کرنے والے اب بڑھتے جا رہے ہیں۔

اہل یوروپ میں اس خوف کی وجہ کیا ہے ؟ کیا یوروپ میں بسنے والے مسلمانوں نے اچانک اسلامی اعمال کی جانب تیزی سے رخ کر لیا  ہے ، یا اسلام دشمن قوتیں مسلمانون کو اپنے رنگ میں ڈھال لینے میں ناکامی ہاتھ لگنے کی وجہ  سے اس طرح کا بے بنیاد پروپیگنڈہ کر رہی ہیں ؟  آبادی کے لحاظ سے بھی  تو مسلمان  اتنا زیادہ تو نہیں ہیں جو مسقبل قریب  میں وہاں کا تناسب تبدیل کر دیں گے ۔

دراصل اہل یوروپ کو ڈرانے والی ایسی کچھ رپورٹیں  وقفے وقفے سے آتی رہتی ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ  مسلمان بہت تیزی بڑھے جارہے ہیں  امریکہ کا ادارہ پیو ریسرچ سینٹر اس طرح  کے جائزے پیش کرتا رہتا ہے ۔

  اس کی حالیہ رپورٹ بتاتی ہے کہ 2050 تک یروپ کی آبادی میں ساڑھے سات فیصد مسلمان ہوں گے ۔ اس وقت یوروپ  میں سب سے زیادہ مسلمان فرانس میں رہتے ہیں  جہاں 57 لاکھ  مسلمان آباد ہیں ۔ اس کے بعد جرمنی 49 لاکھ ، برطانیہ 41 لاکھ ، اتلی 28 لاکھ اور نیدر لینڈ 12 لاکھ  مسلمان آباد ہیں ۔ آخر  اس طرح کے منفی پروپیگنڈے کے خاتمے کا حل کیا ہے  کیا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف  اس طرح کے عالمی تصورات کو توڑنے کی کیا کوششیں کی جارہی ہیں ؟

ہمیں اس پوری مہم کا دو حصوں میں تجزیہ کرنا چاہئے  ایک حصہ تو وہ ہے  جو جان بوجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنا رہا ہے  جس  میں اس کے اپنے سیاسی مقا صد ہیں یہ طبقہ دنیا بھر میں سرگرم ہے ۔ خود ہمارے ملک میں بھی ایک طبقہ  2050 تک مسلمانوں کی آبادی کو دوگنا  حد تک بڑھنے کی بات کرتا ہے یہاں کی  اکثریتی آبادی کو خوف دلاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی  ترغیب دیتا ہے ۔

اور اس طرح کے بے بنیاد پروپیگنڈے  پر سیاست کرتا ہے ۔  لیکن ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو انجانے میں اس پرو پیگنڈے کا حصہ بن جاتا ہے اس کی غلظ فہمی دور کی جا سکتی ہے ۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے اس پروپیگنڈے میں خیر کا پہلو بھی ہے ہمیں کرنا صرف یہ ہے کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں اہنے آس پاس کے لوگوں سے خیر خواہی کے جذبے سے پیش آئیں ۔ معاشرے میں لوگوں کے کام آنے والے کی ہماری پہچان بنے  یہی اس پروپیگنڈے کا کامل جواب  ہے ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *