آٹھ لاکھ سے زائد ٹورسٹوں نے کشمیر کی سیر کی جبکہ پچاس ہزار غیر ملکی سیاح بھی آئے 

Asia Times Desk

 سرینگر  🙁 نسار رسول ) سال 2018میں وادی کشمیر میں سیاحوں کی تعداد گذشتہ برسوں سے کافی بہتر رہی غیر ریاستی سیاحوں کی تعداد 8.50 لاکھ سے زائد رہی جبکہ غیر ملکی سیاحوں کی تعداد بھی خاصی دیکھنے کو ملی ۔ ڈائریکٹر ٹورازم نے بتایا کہ سیاحتی ڈھانچہ کی جانب توجہ دی جارہی ہے اور وادی کی طرف زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو لانے کےلئے محکمہ برسر عمل ہیں ۔ 2018میں وادی میں حالات مخدوش رہنے کے باوجود بھی سیاحوں کی تعداد اچھی خاصی رہی اور ملکی وغیر ملکی سیاحوں کی اچھی خاصی تعداد نے وادی کا دورہ کرکے قدرتی مناظر کا نظارہ کرکے اس سے لطیف اندوز ہوئے ۔ اس حوالے سے ناظم سیاحت” ڈائریکٹر ٹورازم“ نثار احمد وانی نے کہا کہ رواں برس 8لاکھ پچاس ہزار سے زائد ملکی سیاحوں نے وادی کی سیر کی اور یہاں کے قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوئے ۔
اس کے علاوہ غیر ملکی فارنر ٹورسٹوں کی تعداد 50ہزار کے قریب رہی۔ انہوںنے کہا کہ وادی کشمیر میں سیاسی خلفشار کے باوجود بھی سیاحوں کی اچھی خاصی تعداد نے وادی کی سیر کی ۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کاانکشاف کیا کہ سیاحوں کو وادی کی سیر کرنے کےلئے زمینی سطح پر تشہیر نہ ملنے کے نتیجے میں اس قدر سیاح نہیں آئے جس کی امید کی جارہی تھیں ۔ انہوںنے کہا کہ سیاحتی ڈھانے کو بنیادی سطح پر مضبوط کرنے کےلئے محکمہ کئی اقدامات اُٹھارہا ہے انہوںنے کہا کہ وادی میں حالیہ برفباری کی وجہ سے بھی سیاحوں نے وادی کا رُخ کرنا شروع کیا اور گلمرگ و دیگر سیاحتی مقامات پر سکیٹنگ کا مزہ لے رہے ہیں ۔ انہوںنے اس بات کی امید ظاہر کی کہ آنے والے سال 2019میں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو وادی کی سیر کرنے کےلئے مائل کرنے کےلئے کئی اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں اور بیرون ریاست ٹور آپریٹوں کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت چل رہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ محکمہ نے سیاحوں کےلئے کئی دلچسپ سکیمیں بھی متعارف کی ہیں ہے اور کئی پروگرموں کا انعقاد بھی زیر غور ہے ۔ انہوںنے اس بات پر افسوس کااظہار کیاذرائع ابلاغ کا ایک حصہ وادی کے حالات کو اس قدر پیش کررہا ہے کہ سیاح یہاں آنے سے کتراتے ہیں۔ ناظم سیاحت نے کہا کہ وادی کشمیر سیاحوں کےلئے بلکل محفوظ جگہ ہے یہاں پر سیاحو کو کوئی خطرہ نہیں ہے سیاح یہاں پر بلا روک ٹوک کے کسی بھی جگہ آسانی کے ساتھ جاسکتے ہیں خاص کر سیاحتی مقامات پر کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اگلے برس کئی نئے ڈسٹنیشنوں کو سیاحتی نقشے پر لایا جارہا ہے جس سے سیاحت کو فروغ ملنے کی امید ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *