مسئلہ کشمیر پر امریکہ کا ’ٹرمپ کارڈ‘

امریکہ نے صرف جھوٹ کی بنیاد پر ایک خوشحال اور ترقی یافتہ ملک عراق کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا، وہ کیا کشمیر کے مسئلہ کاحل دے گا؟

Asia Times Desk

ڈاکٹر یامین انصاری
ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ امریکہ یا اس کے سربراہوں کی ہر بات قابل اعتبار نہیں ہوتی۔نہ ہی ان کی باتوں پر آنکھ بند کر کے یقین کیا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا میں کچھ لوگ ہیںجو اپنے اپنے مفادات کے حساب سے اس پر یقین کرتے بھی ہیں۔ در اصل یہ لوگ وہ ہیں جو امریکہ کی جارحانہ، قاتلانہ اور جاہلانہ پالیسیوں کی طرف سے اپنی آنکھیں ہی بند کئے ہوتے ہیں۔ یا پھریقین کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیںجو امریکہ کے تابع رہ کر یا خائف ہو کراس کے اشاروں پر اپنی حکمرانی چلانا چاہتے ہیں اور اقتدار کی ہوس میں ڈوبے رہتے ہیں۔ ورنہ آج جو مملکتیں یا ان کے سربراہان امریکہ کے خوف یا خوشنودی میں اس کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں، ذرا وہ ایک مرتبہ اس سلسلہ میں اپنے عوام کی رائے لے کر بھی دیکھ لیں کہ امریکہ کے بارے میں وہ کیا رائے رکھتے ہیں۔ پچھلی کچھ دہائیوں کے واقعات بتاتے ہیں کہ امریکہ نے یا تو اپنے مفاد کے لئے یا پھر ناجائز یہودی ریاست اسرائیل کے مفادات کے لئے ہر حربہ استعمال کیا اور دنیا کو استعمال کیا۔ کیا ہم نے امریکہ کے جھوٹ کی بنیاد پر مسلم دنیا کے طاقتور حکمراں صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ اور عراق کو کھنڈرات میں تبدیل ہوتے نہیں دیکھا ہے؟ کیا ہم نے اسی جھوٹ کی بنیاد پر ایک خوشحال اور ترقی یافتہ ملک عراق میں لاشوں کے انبار اور خون کی ندیاں بہتے ہوئے نہیں دیکھیں؟

یہ وہی صدام حسین تھے، جو کبھی امریکہ کی آنکھوں کا تارہ اور ’دوست‘ ہوا کرتے تھے۔ یہ وہی عراق تھا، جو ایران کے خلاف ۱۰؍ سالہ جنگ میں امریکہ کا سب سے بھروسہ مند ملک تھا۔ لیکن یہ اسی وقت تک تھا جب صدام حسین اور رعراق ، امریکی مفادات کے لئے کام کر رہے تھے۔ پھر ایک دن جب یہی عراق اور صدام حسین امریکہ کو آنکھ دکھانے لگے تو اس کے پاس اچانک انسانوں کی تباہی کے ہتھیار آ گئے، صدام حسین دنیا کے سب سے خونخوار حکمراں بن گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جھوٹ کا جال بچھا کر صدام حسین کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا اور عراق کو بھی تباہ و برباد کر دیاگیا۔ اب اسے صدام حسین کی امریکہ سے دوستی کا نتیجہ کہیں یا پھر اس کے جھانسے میں آنے کا انجام۔ لہذا، آج جو لوگ بھی امریکہ اور اس کے موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے دوستی کا دم بھرتے ہیں اور ان کی کامیابی کے لئے پوجا اور ہَوَن کرتے ہیں، وہ امریکہ کی تاریخ اور اس کی پالیسیوں پر ایک نظر ضرور ڈال لیں۔ صرف مسلم دشمنی کی بنیاد پر ٹرمپ کو دیوتا سمجھ لینے والے اپنی آنکھیں کھول کر دیکھیں کہ انھوں نے منصب صدارت سنبھالنے کے بعد ابھی تک ہندستان کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا ہے۔

اب مسئلہ کشمیر پر امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ کیمرے کے سامنے جو بیان دیا ہے، وہ نہ صرف ہندستان کے موقف کے منافی ہے، بلکہ دیرینہ خارجہ پالیسی کے بھی خلاف ہے۔ اگرچہ ہندستان نے مسئلہ کشمیر میں ثالثی کو لے کر امریکی صدرکے دعوے کو پوری طرح خارج کر دیا ہے، لیکن اس پر نہ صرف ہندستان بلکہ پاکستان میں بھی بحث و مباحثہ ہونا فطری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیر کو دیر رات ٹرمپ کا بیان آنے کے بعد ہندستان کی سیاست میں تو جیسے بھونچال آگیا۔وہیں پاکستان اسے اپنی بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ٹرمپ نے عمران خان سے پیر کو واشنگٹن میں ملاقات کے دوران یہ دعویٰ کیا تھا کہ’دو ہفتے پہلے میں پی ایم مودی کے ساتھ تھا۔  ہم نے اس موضوع پر بات کی۔  انہوں نے کہا کہ کیا آپ ثالث بننا پسند کریں گے؟ میں نے پوچھا کہاں؟ انہوں نے کہا کشمیر ، کیونکہ یہ برسوں سے چل رہا ہے۔‘ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد ’کچھ تو لوگ کہیں گے‘ کی طرز پر مودی حکومت پر سوالات کی بوچھار ہونے لگی۔پہلا سوال یہ پیدا ہوا کہ کیا مودی حکومت نے کئی دہائیوں سے چلی آ رہی کشمیر پالیسی میں بنیادی تبدیلی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟ کیا مودی حکومت نے مسئلہ کشمیر پر امریکہ کو ثالثی کرنے کی پیشکش کی ہے؟ سوال یہ بھی پیدا ہوا کہ کیا حکومت ہند نے یہ تسلیم کر  لیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل دو طرفہ مذاکرات سے نہیں نکالا جا سکتا ہے؟ حالانکہ ہندستان نے ٹرمپ کے دعوے کو مکمل طور مسترد کر دیا ہے۔

پہلے وزارت خارجہ کے ترجمان رويش کمار نے کہا کہ ’وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ایسی کوئی اپیل  امریکی صدر ٹرمپ سے نہیں کی گئی ہے۔  ترجمان نے کہا، ہندستان کا رخ اس بارے میں مکمل طور واضح ہے کہ پاکستان کے ساتھ تمام مسائل پر دو طرفہ بات چیت کی جائے۔ اگر ہندستان  پاکستان کے ساتھ کسی طرح کی بات چیت کرے گا تو اس کے لئے شرط یہی ہے کہ پاکستان کو سرحد پار کی دہشت گردی کو ختم کرنا ہوگا۔  ہندستان  اور پاکستان کے درمیان تمام مسائل کا دوطرفہ طور پر حل شملہ معاہدہ اور لاہور منشور کی بنیاد پر ہوگا۔اس بارے میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پارلیمنٹ میں اسی طرح کا  بیان دے کر اپوزیشن کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ امریکی وزارت خارجہ نے بھی اشاروںاشاروں میں اپنے ہی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دعوے کی تردید تو کی، لیکن ٹرمپ کے جھوٹ کا اعتراف نہیں کیا۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی بات چیت کا خیر مقدم کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ کشمیر ہندستان اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ مسئلہ ہے،

حالانکہ اس نے کہا کہ امریکہ کسی بھی مدد کے لئے تیار ہے۔امریکی وزارت خارجہ نے یہ نہیں کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے جھوٹ بولا ہے اور نہ ہی ہندستانی وزارت خارجہ نے ایسا کہا، لیکن دونوں کے بیانات سے صاف ہے کہ ٹرمپ کی باتوں میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ بہر حال،ہندستان کا ہمیشہ سے واضح موقف رہا ہے کہ کشمیر ہندستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور اسے کسی تیسرے ملک کی ثالثی منظور نہیں ہے۔  جبکہ پاکستان شروع سے ہی مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی مسئلہ بنانے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے،لیکن اسے کبھی کامیابی نہیں ملی۔ اب ٹرمپ کا بیان سامنے آنے کے بعد وہ اسے اپنی بڑی کامیابی مان رہا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے ساتھ ملاقات کے دوران امریکہ نے مسئلہ کشمیر پر اپنے موقف میں تبدیلی کی ہے اور وہ اس مسئلہ کے حل کے لئے ثالثی کرنے کو تیار ہے۔ در اصل ٹرمپ نے جھوٹ ہی صحیح ، صاف طور پر کہا، ’میں ہندستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اگر میں کسی بھی طرح سے مدد کر سکوں تو مجھے خوشی ہوگی۔‘ امریکہ ابھی تک ہند، پاک کے درمیان ثالثی سے بچتا رہا ہے۔ وہ مسلسل کہتا رہا ہے کہ کشمیر ہندستان اور پاکستان کے درمیان کا مسئلہ ہے اور دونوں ممالک کو آپس میں مل بیٹھ کر حل نکالنا چاہیے، لیکن ٹرمپ کے اس بیان سے و ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ اب اپنی اس پرانی پالیسی چھوڑنے کے لیے تیار ہے۔

اس لئےاب ٹرمپ پر کسی خاص مقصد کے تحت آنکھیں بند کرکے بھروسہ کر لینے والوں کو دیکھنا چاہئے کہ ہندستان کے ساتھ ابھی تک ٹرمپ کا کیا رویہ رہا ہے۔ حال ہی میںٹرمپ نے باقاعدہ دھمکی دی تھی کہ اگر چین اور ہندوستان جیسے ممالک نے امریکہ کے مطابق ڈیوٹی میں رعایت نہیں دی تو ان کا ملک بھی ان پر جوابی ٹیکس عائد کرے گا ۔ ٹرمپ نے کئی مرتبہ ہندوستان کے ذریعہ درآمد کی جانے والی مہنگی موٹر سائیکل پر تقریبا۵۰؍ فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کا سوال اٹھایا ہے ۔اسی طرح ٹرمپ نے ایران پر پابندیوں کے نفاذ کے بعد اس کے ساتھ کاروباری روابط رکھنے والے ممالک کے لیے سخت تنبیہ جاری کی تھی۔ یہ امریکی دباؤ کا ہی نتیجہ تھا کہ ہندستان کی موجودہ حکومت نے اپنے دیرینہ دوست ایران پر امریکہ کو ترجیح دی۔ شاید یہ بھی امریکہ کے اشارے پر ہی ہوا کہ مسئلہ فلسطین میں پہلی بار ہندستان نے کئی دہائیوں قدیم پالیسی کو ترک کرکے ناجائز یہودی ریاست اسرائیل کے حق میں اور مظلوم فلسطینیوں کے خلاف ووٹ کیا۔ لہذا اب لوگوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ امریکہ صرف اور صرف اپنے مفادات کے تحت کام کرتا ہے، کسی سے ’دوستی‘ کی بنیاد پر نہیں، خاص طور پر ڈونالڈ ٹرمپ۔

مضمون نگار روزنامہ انقلاب دہلی کے ریزیڈینٹ ایڈیٹر ہیں 
yameen@inquilab.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *