پروفیسر جینا بڑے نے ادارہ ادب اسلامی ہندکے سیمینار میں دیا کلیدی خطبہ کہا ؛ تعمیری ادب کی بنیاد اسلام ہے

Asia Times Desk

نئی دہلی :  ادارہ ادب اسلامی ہندکے زیر اہتمام دوروزہ قومی سیمیناربعنوان ’’ ہندوستان میں اردو افسانہ 1980کے بعد‘‘منعقد ہوا سیمینار میں افتتاحی خطبہ پیش کرتے ہوئے سیمینار کے کنوینر ڈاکٹر نعیم فلاحی نے کہا کہ ’’ افسانہ دیگر اصناف سخن کے مقابلہ زندگی سے زیادہ قریب ہے اور زندگی کو متاثر کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے ،المیہ یہ ہے کہ 1980سے پہلے افسانہ نے اپنا کہانی پن کھو دیا تھا جس کی بازیابی 1980کے بعد کے افسانوں میں نظر آتی ہے او رموضوعات میں رنگا رنگی نے افسانہ کے فن کو قدر اور قبولیت عطا کی ہے ‘‘

ادارہ ادب اسلامی ہند کے صدر ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’تحریک اسلامی جوزندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہے ،شعبۂ ادب کو نظر انداز نہیں کرسکتی تھی اسی بنا پر ادارۂ ادب اسلامی وجود میں آیا لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ برصغیر میں اسلامی ادب تحریک اسلامی کی مرہون منت ہے ،پروفیسر معین الدین جینابڑے نے کلیدی خطبہ میں کہا کہ تعمیری ادب کی بنیاد اسلام ہے،تعمیری ادب کی اصطلاح ہماری زبان میں ترقی کی اصطلاح کے جواب میں استعمال ہوئی ،

مہمان اعزازی پروفیسر ابن کنول نے اپنے خطاب میں ادب کو زندگی کا آئینہ قراردیا اور اس بات پر زور دیا کہ اردو ادب اسلامی تہذیب کی عکاس ہے ،ادب کے مطالعہ میں ہم ماضی کی تحریکات کو نظر انداز نہیں کر سکتے آج کے افسانہ نگار نے ترقی پسندوں سے بھی سیکھا ہے اور علامت کے فن کو جدیدیوں سے بھی حاصل کیا ہے ،

مہمان خصوصی سید محمد اشرف نے اپنے خطاب میں کہا کہ کسی بھی ادب کو سنوں میں قید نہیں کیا جا سکتا سمجھنے اور سمجھانے کے لیے ایک حد مقرر کر سکتے ہیں ،حقانی القاسمی نے اپنے تاثراتی خطاب میں کہا کہ ادب کا بنیادی مقصد اخلاقی قدروں کا فروغ دینا ہے ،ادب کو نظر سے زیادہ نظریے کی ضرورت ہے ۔

پروگرام کا آغاز مولانا احمداللہ قاسمی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا افتتاحی نشست کی نظامت ڈاکٹر خالد مبشر نے کی جبکہ صدارت کے فرائض ڈاکٹر حسن رضا نے انجام دیے  شکریہ ڈاکٹر سلیم خاں نے ادا کیا ،سیمینارکا پہلا اجلاس اردو افسانے کے اہم رجحانات کے عنوان سے ہوا اس نشست کی صدارت دہلی یونیورسٹی کے سابق صدر شعبۂ اردو پروفیسر توقیر احمد خاں نے جبکہ نظامت کے فرائض آفتاب احمد منیری نے انجام دیے اس اجلاس میں عالیہ ،ڈاکٹر مسعود جامی ،ڈاکٹر محمود شیخ ،ڈاکٹر اسلم جمشید پوری اور پروفیسر غضنفر نے مقالات پڑھے ،

دوسرا اجلاس موضوعات اور اسالیب کے عنوان سے ہوا اس نشست کی صدارت پروفیسر کوثرمظہری اور نظامت فیضان شاہد نے کی اس نشست میں عمران عاکف خاں،ڈاکٹر محمد حسین ،ڈاکٹر ہمایوں اشرف اور ڈاکٹر محمد کاظم نے مقالات پیش کیے ،اس اجلاس کے شام افسانہ کے عنوان سے افسانہ خوانی کی مجلس کا انعقاد کیا گیا اس کی صدارت پروفیسر غضنفر اور نظامت امتیاز عالم نے کی اس نشست میں ڈاکٹر وقار انور،پروفیسر ابن کنول اور سید محمد اشرف نے افسانے پڑھے ،

تیسرا اجلاس نمائندہ افسانہ نگار اور نمائندہ افسانے کے عنوان سے ہوا اس نشست کی صدارت ڈاکٹر محمود شیخ جبل پور اور نظامت عرفان وحید نے کی اس اجلاس میں ڈاکٹر اسداللہ ،معصوم عزیز کاظمی اور ڈاکٹر اسما مسعود نے شرکت کی ،چوتھا اجلاس اردو افسانہ اقدار کے حوالہ سے کے عنوان پر منعقد کیا گیا اس نشست کی صدارت پروفیسر عبدالحق اور نظامت خان محمد رضوان نے کی ،

اس میں ڈاکٹر ابوبکر عباد ،ڈاکٹر عزیر احمد اور نسیم احسن نے مقالات پیش کیے جبکہ حقانی القاسمی نے تاثرات کا اظہار کیا اختتامی اجلاس کی صدارت پروفیسر عبدالحق اور نظامت سید ریاض تنہا نے کی ،اس پروگرام کا آغاز عبدالباری قاسمی کی تلاوت اور ترجمہ سے ہوا ،اس اجلاس میں سمینار کی روداد ڈاکٹر وقار انور نے پیش کی اور سامعین کی طرف سے چند لوگوں نے اپنے تاثرات میں اس طرح کی نشستوں کے مسلسل ہونے پر زور دیا اور کہا کہ اس سے اردو کے طلبہ کی معلومات میں نہ صرف یہ کہ اضافہ ہوا ہے بلکہ ان کے لیے مشعل راہ بھی ہے ،

آخر میں پروفیسر عبدالحق نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ محض چند باتوں کی وجہ سے ہمیں ادیبوں و فن پاروں کو اپنے سے الگ کرنے کے بجائے انہیں اپنے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے اس موقع پر مقالہ نگاروں ،تنظیم کے عہدیداروں اور مہمانوں کو مومنٹو سے بھی نوازا گیا ،آخر میں ڈاکٹر خالد سجاد نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *