مسلمانوں کو معاشرے کی ضرورت بننا چاہئے/عمر افضل

ڈاکٹر عمر افضل---- انٹر ویو

admin

ڈاکٹر عمر افضل ہند نزاد امریکی شہری ہیں ،ان کا آبائی وطن اتر پردیش کا ضلع بستی ہے ۔ موصوف نے 1971 میں امریکہ کا رخ کیا اور کارنل یو نیورسٹی سے وابستہ ہو گئے لسانیات میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد وہیں پر شعبہ لسانیات میں پروفیسر ہوئے یہ سلسلہ  1971 تا 2004 جاری رہا۔ موصوف نے کارنل میں مسلم ایڈوائزر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں ۔ گزشتہ دنوں ہندوستان سفر کے دوران  دہلی میں دوران قیام اشرف علی بستوی   سے انٹر ویو میں امریکہ کی سماجی سیاسی صورت حال پر سیرحاصل گفتگو کی اور امریکی مسلمانوں کو درپیش مسائل پر اظہار خیال کیا ۔ ڈاکٹر عمر افضل نے  بتایا کہ مسلمان دنیا میں جہاں کہیں بھی ہیں انہیں معاشرے کی ضرورت بننا چاہیے ، یہ کام سماجی خدمت کے ذریعے با آسانی کیا جا سکتا ہے۔ 

سوال : آپ  کا امریکہ کا سفر کیسا رہا وہاں کیا مصروفیت رہی ؟

جواب : میں کارنل یونیورسٹی میں لسانیات کا استاذ تھا ساتھ ہی یونیورسٹی نے مجھے مسلم ایڈوائزر کی بھی ذمہ داری دے رکھی تھی ،1971 سے 2004 تک کارنل سے وابستہ رہا بطور مسلم ایڈوائزر مسلم اور اسلامی ایشوز پر مباحثے ، سمپوزیم اور  سیمینار کرانا میرے ذمے تھا حالانکہ اسے وہاں  کام کرنے والے  یہودی اساتذہ کو قطعا پسند نہیں تھا وہاں اسلامیات کے شعبے کے سبھی پروفیسر یہودی تھے ۔ کارنل ہی نہیں بلکہ اب تو امریکہ کی کم و بیش سبھی یو نیورسٹیوں کے شعبہ اسلامیات  پر یہودیوں کا غلبہ ہے 

میں امریکہ پہونچنے کے فوری بعد سے ہی  وہاں سرگرم اکنا جو اس وقت کسی اور نام سے  تھی سمیت مسلم تنظیموں سے وابستہ ہو گیا تھا ، اسلامی  ایشوز پر لیکچرس کا اہتمام کرانا میرے ہی ذمے تھا ۔ کارنل کیمپس میں بطوراسلامی ایڈوائزر وابستگی سے میں نے خوب سرگرمیاں انجام دیں۔ ۔ظاہر ہے یہودی  اسلام دوست تو نہیں ہو سکتے اس لیے یہ لوگ ہمیشہ یہ کوشش کرتے رہے کہ مجھے کسی طرح  بے دخل کر دیں ۔ 

سوال :  امریکہ  9 میں /11 کے بعد کیا تبدیلی آئی ہے ، فی الحال وہاں قبول اسلام کی جانب کیا  رجحان  پایا جا رہا ہے ؟

جواب : میرے مطالعے کے مطابق امریکہ میں  9/11 واقعے سے قبل تک قبول اسلام کا گراف کافی بڑھا ہوا تھا ، گزشتہ چالیس برس میں میرے رابطے میں آنے والے کم و بیش ڈیڑھ ہزارامریکی مشرف بہ اسلام ہوئے ہیں۔ میں ان سے  رابطہ بنائے رکھنے کی  کو شش کرتا ہوں،  لیکن اب میں یہ دیکھ راہ ہوں کہ اس واقعے کے بعد سے قبول اسلام میں کمی واقع ہوئی ہے ، پھر کچھ لوگ نہ جانے کس بنیاد پر 9/11 واقعے کے بعد امریکہ میں تیزی سے قبول اسلام میں اضافے کی بات کرتے ہیں ۔ دراصل ہوا یہ کہ اس واقعے کے بعد سے ہم نے ہر جگہ دفاعی لہجہ اختیار کر لیا بجائے اس کے  ہمیں مثبت انداز میں اپنی بات رکھنی چاہیے تھی اور امریکی معاشرے کو یہ باور کرانا چاہیے تھا کہ  اگر کسی فرد واحد نے  غلطی کی ہے تو اس کی بنیاد پر پورے مذہب  اسلام کو بدنام نہیں کیا جا سکتا ، ہم نے یہ کام نہیں کیا ۔ امریکہ میں 9/11 کے بعد سے امریکی عوام اسلام اور مسلمانوں سے بدظن ہو گئی تھی ، اس دوران حملے کے بھی کئی واقعات ہوئے بلکہ بعض اوقات تو سکھوں پر بن لادن کہہ کر حملہ کر دیا گیا لیکن اب حالات تبدیل ہوئے ہیں ۔ تاہم آج بھی ہم اپنی بات کو مثبت انداز میں امریکی معاشرے کے سامنے کھل کر پیش نہیں کر پا رہے ہیں جس کی وجہ سے بے اعتمادی کو بڑھاوا ملتا ہے ۔

سوال :  امریکہ میں مذہبی آزادی اور حقوق انسانی کی کیا صورت حال ہے ، یہاں بسنے والے مسلمانوں کو کیا مسائل  درپیش ہیں ؟

جواب: ہاں امریکہ میں مذہبی آزادی ہندوستان سے کہیں زیادہ ہے ، آپ یہاں سوچ بھی نہیں سکتے ، وہاں مذہبی آزادی کا تصور مسلم ممالک پاکستان اور مصر وغیرہ سے بھی کہیں زیادہ ہے ،  یقینی طور پر دہشت گردی امریکہ میں بڑا ایشو ہے ۔ امریکہ کے زیادہ تر اخبارات پر یہودی لابی کا کنٹرول ہے جو مستقل مسلم اور عرب مخالف پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں اور کسی نہ کسی حوالے سے انہیں دہشت گردی سے جوڑ دیتے ہیں ، یہ منفی پروپیگنڈہ مستقل جاری رہتا ہے ، دوسری جانب مسلمانوں کی جانب سے کمزوری یہ ہو رہی ہے کہ یہ لوگ خود کو الگ تھلگ کر لیتے ہیں ، جبکہ مضبوط  باہمی ربط وو تعلق سے مسلمانوں کے تئیں غلط پروپیگنڈے کا دفاع ککیا جا سکتا ہے ۔ یہ بھی درست ہے کہ ہمارے پاس اپنی مثبت کار کردگی اور باتوں کو دوسروں تک پہونچانے کے لیے اپنا کوئی اخبار یا میڈیا نہیں ہے  لیکن ہمیں کوئی اپنی اچھی باتیں انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلانے سے تو نہیں روک سکتا ! ہمیں نماز، روزہ اور دیگر مذہبی تعلیمات کی دعوت کے ساتھ ساتھ  سماجی  خدمت کے کاموں کو دوسروں تک لے جانا چاہیے اور انہیں یہ بتانا چاہیے کہ اسلام صرف نماز اور روزے کا ہی نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل نظام حیات ہے ، ہمیں اپنے عمل سے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ ہم بلا تفریق مذہب  و ملت ، نسل اور ذات سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی بھلائی کے لیے  کام کرتے ہیں ۔ اپنے عمل سے یہ ثابت کر یں کہ ہم پوری انسانیت کی بھلائی کے لیے کام کرنے والے لوگ ہیں ۔

 سوال : وزیر اعظم نریندر مودی کا امریکہ دورہ  کیسا رہا ،امریکہ  میں عدم رواداری کی صورت حال کیا ہے  ؟

گزشتہ دنو ں ہندوستانی وزیر اعظم کو امریکہ دورے کے دوران ہندوستان میں بڑھتی عدم رواداری پر سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا، گجرات فسادات سے متعلق بھی سوالا ت کیے گئے جس کی وجہ سے انہوں نے اس طرح کے بہت سے سوالات کے جوابات نہیں دیے ۔ امریکہ میں کسی خاص مذہب کے تئیں کو ئی عدم برداشت کا رویہ نہیں پایا جاتا میں نے دوران سفر بارہا  سڑک کے کنارے نماز ادا کی ہے  مجھے کبھی کسی نے نہیں ٹوکا ۔ یہاں جن لوگوں نے  اپنے ووٹ سے نریندر مودی کو وزیر اعظم بنایا ہے انہیں لگتا ہے کہ انہیں کسی خاص طبقے کے خلاف کچھ بھی کر گذرنے کی پوری آزادی ہے ، بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ لوگ کھل کر اپنی تقریروں میں مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرتے ہیں لیکن امریکہ میں نفرت انگیز بیانات دینے والے چند افراد کو چھوڑ کر جن کی عادت میں یہ برائی داخل ہو چکی ہے  کے علاوہ بقیہ امریکی معاشرہ اچھا ہے ۔ فلوریڈا میں ایک شخص ایسا ہے جنہوں نے ٹی وی اسٹیشن لگا رکھا ہے  ہر روز مسلمانوں کو نشانہ بناتا رہتا ہے ۔

سوال : امریکی معاشرے کا سب سے اہم  و مثبت پہلو کیا ہے ؟

جواب: امریکی معاشرے  میں قانون سب کے لیے برابرہے پر عمل کرکے دکھایا ہے وہاں امریکی اور غیر امریکی، ہندو ،مسلم ،سکھ ،عیسائی کے درمیان قانون فرق نہیں کرتا ہے سب پر قانون کا نفاذیکساں طور پر ہوتا ہے امریکہ کا یہی امتیازاسےدنیا کے دوسرے  ملکوں سے الگ کرتاہے ہر فرد کو کسی بھی کچھ بھی کرنے کی آزادی ہے لیکن یہ آزادی اسی وقت تک ہے جب تک وہ اپنے کسی عمل سے قانون شکنی نہ کرے ۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس طرح کا قانون پر عمل کا جامع تصور ہندوستان میں پایا جاتا ہے ، یہاں پر کھلی قانون شکنی کی جاتی ہے اور قانون توڑ والے بڑی اسانی سے بچ نکلتے ہیں ۔ تازہ واقعہ دادری کا ہی لے لیں محض افواہ کی بنیاد پر محمد اخلاق کو  قتل کردیا گیا لیکن کسی نے اس بات معاملے کی تحقیق کر نے کی کوشش نہیں کی ، جبکہ کسی کو بھی قتل کا حق نہیں پہونچتا بھلے ہے اس کی فریج میں بیف ملتا  جبکہ سبھی شہریوں کا تحفظ اسٹیٹ کی ذمہ داری ہوتی ہے ، یہی وہ خاص بات ہے جو امریکہ کو ہندوستان سے الگ کرتی ہے۔

سوال:  امریکہ معاشرہ کن انسانی مسائل سے دوچار ہے  یہاں خاندانی نظام کی کیاصورت حال ہے ؟

جواب : امریکہ میں خاندانی نظام کی بنیادیں دن بدن کمزور ہو تی جا رہی ہیں بچوں اور والدین کے درمیان بڑھتے فاصلے سے سماجی مسائل بڑھ رہے ہیں ، رشتوں کو نبھانے کا بحران پایا جاتا ہے  بڑے ہونے کے بعد سے  بچے اپنے والدین کے پاس نہیں رہ پاتے اس کمی کا وہاں کے لوگوں کا شید احساس ہورہا ہے ۔ ایسا اس لیے ہے کہ ہم  مذہب کی اصل روح سے دور ہو گئےہیں ۔ اس معاملے میں عیسائی ،مسلم اور یہودی سبھی یکساں مسائل سے دوچار ہیں  ۔ مثال کے طور پر میرے  ہی  پانچ بچے  ہیں سبھی اعلی تعلیم  حاصل کی سبھی کو عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کا بھی درس دیا ہے لیکن اس وقت سب اپنے اپنے کام پر ہیں ہمارے ساتھ کوئی نہیں رہتا ، کبھی کبھی ہمیں اکیلا پن کا احساس ستاتا ہے ۔ کبھی  کبھی وہ ہم سے ملنے آجاتے ہیں اور بعض اوقات ہم خود ہی وہاں چلے جاتے ہیں۔ ہر والدین کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے پاس رہیں ۔ اس طرح امریکہ میں خاندانی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے اور دن بدن مزید تشویش ناک صورت حال بنتی جا رہی ہے ۔  بگڑتے حالات پر قابو پانے کے لیے چرچ  بھی تشویش میں مبتلا ہے  اور گزشتہ ایک دہائی میں حلات مزید خراب ہوئے ہیں ۔ موقع بموقع  چرچ سے  خاندانی  رشتوں کے احترام اور اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے  لیکچر کا اہتمام کیا جاتا ہے  لیکن تمام تر کو ششوں کے باوجود حا لات دگر گوں ہوتے جا رہے ہیں ۔

سوال : امریکی صدر براک حسین  اوباما کے دور اقتدار میں  اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے کیا تبدیلی واقع ہوئی ہے ؟

جواب: گزشتہ آٹھ برس میں امریکہ میں اوباما نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مسلم  اور عرب مخا لف پالیسی کو دبانے کا کام کیا ہے اس کی کچھ  مثالیں اس طرح ہیں  ۔ انہوں نے جس ماحول میں پرورش پائی ہے انہیں اس بات کا تجربہ خود بھی رہا ہے اس لیے انہوں نے مسلم مخا لف پالیسیوں پر قدغن لگانے کا کام کیا ۔ حکومت اور انتظامیہ کے لوگ مخالف پالیسیوں سے خوب اچھی طرح سے باخبر ہوتے  ہیں ، نیز ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اوباما کے دور اقتدار  میں چیزیں بدلی ہیں ۔

سوال:  آپ کے والد محترم جماعت اسلامی ہند کے قائد تھے آپ نے جماعت کو بہت قریب سے دیکھا اور سمجھا ہے    اس تعلق سے کیا کہنا چاہیں گے ؟

جواب : والد صاحب کے دور میں جماعت اسلامی ہند کے پاس  بڑی اعلیٰ قیادت تھی، معیار کو برقرار رکھنے اور مزید بہتر بنانے کے لیے مسقل بنیادوں پر کام کام کرتے رہنا چاہیے ، ملت اسلامیہ کی کسی بھی تنظیم  یا تحریک کو وقت کے ساتھ ساتھ  تنظیم نو کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے اور ایسے  طریقوں کو اپنانا چاہیے تاکہ ملت اسلامیہ کے لیے  ثمر آور ثابت ہو ۔  سماجی خدمت ہماری اولین ترجیح ہو نی چاہیے ہمارا یہی عمل دوسروں کے دلوں میں جگہ  بنانے اور انہیں اپنے سے قریب لانے کا موثر ذریعہ ثابت ہوگا ۔ مسلمان دنیا میں جہاں کہیں بھی ہیں انہیں معاشرے کی ضرورت بننا چاہیے اور یہ کام سماجی خدمت کے ذریعے با آسانی کیا جا سکتا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *