یوپی ایس سی نتائج 2018- آئیے کچھ سوالات خود سے بھی کر لیں

اشرف علی بستوی

Asia Times Desk

مسلم آبادی کے تناسب سے یو پی ایس سی میں کامیاب امیدواروں کی  تعداد 27 نہیں  175 کے قریب ہونی چاہیے تھی

نئی دہلی : (ابو انس کی رپورٹ ) “میں نے یہ کامیابی پانچویں کوشش میں حاصل کی ہے” ۔ ” میں ایک دینی مدرسے کا فارغ ہوں میں نے بھی یہ کامیابی پانچویں کوشش سے حاصل کی ہے “۔ ” یہ میری تیسری کوشش تھی” ۔ “میں ایک بچے کی ماں ہوں جب میں کامیاب ہو سکتی ہوں تو دوسرے کیوں نہیں ہوسکتے”۔ “میں 12 ویں میں فیل ہوگیا تھا لیکن آج آپ کے سامنے ہوں “۔ متذکرہ بالا احساسات بے چین کر دینے والے ہیں ، ان نوجوانوں کے لیے زاد راہ ہیں جو اس میدان میں خود کو آزمانا چاہتے ہیں ۔

5 اپریل  کی شام جب یونین پبلک سروس کمیشن نے سال 2018 کے نتائج کا اعلان کیا تو اس خبر کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر فوری طور پر یہ جاننے کے لیے لوگ بے چین نظر آئے کہ کتنے مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں کتنوں کو آئی اے ایس رینک ملا ؟ مسلم لڑکیوں کی نما ئندگی کتنی ہے ؟ اس بے چینی سے یہ اندازہ ہوا کہ لوگوں کو سول سروسیز میں کامیاب مسلم امیدواروں کی تعداد جاننے میں گہری دلچسپی ہے ۔

ہر بار نتائج کے اعلان کے بعد اس طرح کے سوالات زیر بحث آتے ہیں اورالگ الگ زاویے سے نتائج کا تجزیہ شروع ہوتا ہے اپنی تعلیمی پسماندگی اور کم حوصلگی کا محاسبہ کیا جاتا ہے ۔ آگے بڑھنے کے عزم کا اظہارکیا جاتا ہے ۔ اس بحث و مباحثے کا ایک بڑا فائدہ ہوا ہے اس درمیان کچھ ایسے ادارے اور افراد سامنے آئے ہیں جو مسلسل اس پر کام کر رہے ہیں۔

دہلی کے سوریا ہوٹل میں یو پی ایس سی 2018 کے بیچ میں زکوٰۃ فاونڈیشن آف انڈیا کے 18 کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں منعقد تقریب میں یہ بات سامنے آئی کہ ہمیں اپنا نام تلاش کرنے سے قبل یہ جاننا چاہئے کہ کتنے مسلم امیدواروں نے امتحان میں شرکت کی ہے ۔ معلوم ہو کہ ہماری  آبادی کے تناسب یہ فیصد بمشکل ایک فیصد بنتا ہے ۔

 سال 2014 میں یو پی ایس سی کے لیے درخواست دہندگان کی کل تعداد ساڑھے 9 لاکھ تھی جس میں 2 ہزار سے بھی کم مسلم امیدواروں نے شرکت کی تھی فیصد کے لحاظ سے مسلم امیدواروں کا تناسب صفر اعشاریہ دو ایک رہا اور کامیاب امیدوار 3 فیصد رہے ۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے بس انہیں صحیح رخ دینے کی ضرورت ہے ۔

 اس موقع کامیاب ہونے والے امیدواروں نے اپنے تجربات کچھ اس طرح شیئر کیے ، تقریبا سبھی لوگوں کا تعلیمی سماجی اور معاشی بیک گراونڈ کمزورضرور تھا لیکن سبھی عزم واستقلال میں کامل یقین رکھنے والے تھے اور جہد مسلسل ان کا مشن تھا ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا

اس بار 2018 میں 759 کامیاب امیدواروں میں سے 27 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں ۔ گزشتہ کچھ برسوں کے نتائج بتاتے ہیں کہ مسلم امیدوراوں کی کامیابی کا فیصد لگ بھگ 3 فیصد کے آس پاس ہی ہے ۔ حالیہ کچھ برسوں کے اعداد و شمار اس طرح ہیں ۔  سال 2017 میں 52 اور  2016 میں 50 سال  2015 میں1078 کامیاب امیدواروں میں سے 37 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے تھے ۔ 2014 میں 1236 کامیاب امیدواروں میں سے 38 مسلم نوجوانوں نے کامیابی حاصل کی تھی کل تین فیصد مسلم کامیاب ہوئے تھے ۔ 2013 میں 1122کامیاب امیدواروں میں 34 مسلمان شامل تھے ، فیصد 3اعشاریہ تین رہا ۔ 2011 میں 920 کامیاب امیدواروں 31 مسلم امیدواروں نے کامیابی حاصل کی تھی ۔ 2012 میں کامیابی کا یہ فیصد تین اعشاریہ ایک صفر رہا 998 میں 30 مسلم امیدورا کامیاب ہوئے تھے  2009 میں 875 میں سے 21 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے تھے کم و بیش یہی تناسب سال2010 میں بھی رہا ۔ نتیجہ حوصلہ افزا ضرور ہے لیکن ابھی کامیابی کا یہ تناسب بہت کم ہے ۔ جبکہ ملک میں مسلم آبادی کے تناسب سے یہ تعداد 175 کے قریب ہونی چاہیے ۔

یہاں کچھ سوالات ہمیں خود سے کرنا چاہئے ۔ پہلا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے یہاں گریجویٹ نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد ہے ؟ نہیں ، سچر کمیٹی رپورٹ کتی ہے کہ مسلم گریجویٹ 4 فیصد سے بھی کم ہیں۔ اسکول کی سطح پر  ہمارے یہاں  ڈراپ آوٹ بچوں کی تعداد تقریبا پچاس فیصد ہے ۔

بارھویں تک اسکول کی تعلیم کا مناسب بندوبست ہمارے پاس نہیں ہے ، اعلی تعلیم کی اسکالر شپ کے لیے کچھ ادارے تو ہیں لیکن بنیادی تعلیم کو مستحکم کرنے کا ہمارے پاس کوئی منظم اسکالر شپ پروگرام نہیں ہے۔ جب تک ہم پرائمری تا کالیج سطح تک کی تعلیم کی فکر نہیں کی جائے گی یو پی ایس سی کے امتحان میں ہماری شمولیت کا تناسب نہیں بڑھ سکتا ؟

یو پی ایس سی 2018 کے امتحان میں 448 ویں رینک لانے والے محمد ہاشم ایک انٹرویو میں کہتے ہیں کہ ہر سال نتائج کے بعد مسلم آبادی کے تناسب سے اردو میڈیا میں کامیاب مسلم امیداوروں کے فیصد پر بحث ہوتی ، اچھی بات ہے ،خود احتسابی کی فکر ضرور کیجے لیکن یہ بھی دیکھیے ناکہ یو پی اسی سی میں آپ کی شرکت کا فیصد کیا ہے ۔

وہ کہتے ہیں کہ اس بار45 فیصد  مسلم امیدوار کامیاب ہوئے انٹرویو میں 64 نے شرکت تھی ۔ جبکہ غیر مسلم بچوں کا کامیاب فیصد 38 تھا ۔ ہمیں اپنی شرکت بڑھانے کی فکر ہونی چاہئے ۔ محمد ہاشم کا تعلق اتر پردیش میں ضلع سنت کبیر نگر سانتھا بلاک کے پرسونیا گاوں سے ہے والد وسیع اللہ قاسمی ایک مدرسے  میں استاذہیں ۔

اس لیے ہمیں اپنا احتساب کرنا چاہئے  ہم ان سے مقابلے کی بات کرتے ہیں جن کے یہاں 17 ہزار سے زائد ششو مندروں کا نیٹ ورک ہے ڈی اے وی کالیجوں کا ملکی سطح پر مستحکم نطام ہے ۔

جب بنیادی تعلیم تا 12 ویں تک کا بہتر نظم نہ ہوگا ، ڈراپ آوٹ پر قابو نہیں پایا جائے گا حالات بہت زیادہ تبدیل ہونے والے نہیں ہیں ۔

یو پی ایس سی میں اپنی شرکت کو بڑھائے بغیر اپنی آبادی کے تناسب سے نتائج میں حصہ داری کی تمنا پوری نہیں ہو سکتی ۔ تعلیمی بیداری کے ساتھ ساتھ تعلیم گاہیں مہیا کرانے کی کوششوں ہو ۔ ہم یہ بھی جائزہ لیں کہ سچر کمیٹی کے بعد مسلم گریجویٹس کے فیصد میں کتنا اضافہ ہوا ہے ؟ اس کے علاوہ سیاسی اور معاشی سمیت دیگر کئی پہلوسے بھی لیا جا نا چاہیے ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *