پریس کلب آف انڈیا کے عہدے داران کا اردو صحافیوں سے تبادلہ خیال، کہا ؛ قریب آئیں اور مل بیٹھ کر مسائل کے حل کے لیے کام کریں

ابو انس کی رپورٹ

Asia Times Desk

نئی دہلی : (ایشیا ٹائمز) ہندوستان میں اردو صحافت انگریزی  صحافت کے بعد اعداد و شمار کے اعتبار سے دوسرے  نمبر  پر آتی ہے ۔ جنگ آزادی میں شہید ہونے والا پہلا صحافی اردو کا ہی تھا، پہلی جنگ آزادی کے بعد  انگریزوں  نے جن 35 اخباروں پر  پابندی عاید کی تھی  ان میں 26 اخبار اردو  کے تھے  اسی سے یہ پتہ چلتا ہے کہ  اردو نے جنگ آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا تھا اور آج  بھی اردو صحافت  اسی طرح زندہ جاوید ہے  اورہم  اسی طرح خون جگر سے اس کی آبیاری کرتے رہیں گے ۔

 گزشتہ ایک دہائی کے جائزے سے  یہ بات  عیاں ہوتی ہے کہ عصر حاضر کی اردو صحافت کسی طور پر انگریزی ہندی و دیگر زبانوں سے کم تر  نہیں ہے  تو پھر آخر کیا وجہ کہ ہمیں دیگر زبانوں کے صحافیوں کے مماثل  نہیں سمجھا جاتا اردو صحافت کے سنہری ماضی کو یاد دلانے والے  یہ احسا سات  اردو صحافیوں کے ایک  گروپ  کے ہیں جس نے آج   پریس کلب آف انڈیا  میں منعقد ایک  خصوصی تقریب  میں  پریس کلب کے نومنتخب عہدے داران کے ساتھ تبادلہ خیال میں اظہار کیا ۔

دراصل گیارہ جون 2015 کی شام  موبائل پر  پریس کلب کے رکن سینئر جرنلسٹ اے یو آصف اور ایم اے خالد  کی جانب سے ایک میسیج  موصول ہوا جس میں درج تھا کہ پریس کلب کے نو منتخب عہدے داران اردو کے صحافیوں سے تبادلہ خیال کے خواہاں ہیں ، بات مکمل واضح نہیں ہوئی  سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر ماجرا کیا ہے  کس معاملے پر بات ہو گی آخر کیا وجہ ہے کہ صرف اردو صحافیوں کو ہی مدعو کیا گیا ہے ؟

بہر حال پورے معاملے کو سمجھنے کے لیے کال بیک کیا تو اے یو آصف  صاحب نے  تفصیل سے بتا یا ۔ دل چسپی ہوئی کہ اس تاریخی لمحے کا گواہ  ضرور بننا چاہیے یہ دیکھنا چا ہیے کہ اردو صحافت کی سربلندی کے لیے قومی سطح کا یہ ادارہ کیا رول ادا کرے گا ۔

خالص اردو  صحافیوں  کے ساتھ پریس کلب کے عہدے داران  کے ساتھ تبادلہ خیال کا شاید یہ پہلا موقع  تھا ۔ اس اعتبار سے  اسے تاریخی قرار دیا  جا سکتا ہے ۔   پریس کلب کے جنرل سکریٹری ندیم احمد کاظمی  نے میٹنگ کا اصل مقصد اردو صحافیوں کی پریس کلب سے  قربت  اور باقاعدہ ان کی پریس کلب سے وابستگی  قرار دیتے ہوئے  کہا کہ ابتک پریس کلب میں اردو صحافیوں کی نمائندگی بہت  کم رہی ہے یہ پریس کلب  جتنا انگریزی ہندی و دیگر زبانوں  کے صحافیوں کا ہے اتنا ہی اردو والوں کا بھی ہے لہذا اردو صحافی  اس سے  وابستہ ہوں۔ ہمارا مقصد اردو صحافیوں کی شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔ تاکہ ہم اردو صحا فت اور صحافیوں کے مسائل  پر مل بیٹھ کر بات کر سکیں ایک دوسر ے کے قریب آئیں باہم ربط و تعلق بڑھنے سے ایک دوسرے کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔

میٹنگ میں شریک جرنلسٹ 

پروگرام  کے کنوینر اے یو آصف  نے میٹنگ کی غرض و غایت اور پریس کلب کی مختصر تاریخ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی گھڑی ہے کہ پریس کلب نے اردو جرنلسٹوں کو جوڑنے کے لیے یہ مجلس منعقد کی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پریس کلب آف انڈیا کا قیام یکم جنوری 1950 کو ہی ہو گیا تھا تب تک ہمارا آئین بھی نہیں نافذ ہوا تھا  ۔ یہ موقع ہے کہ اردو میڈیا کے افراد اس سے وابستہ ہوکر ملک کی تعمیر وترقی میں اہم کر دار ادا کریں ۔ مسٹر ایم جے خالد نے کہا کہ  اردو والے اپنا خون جگر دیکر اخبار چلارہے ہیں  ہم چاہتے ہیں کہ اردو صحافیوں کی وابستگی بڑھے  پریس کلب کے وسائل سے اردو والے بھی فائدہ اٹھائیں ۔

میٹنگ میں شریک جرنلسٹ

روزنامہ خبریں کے چیف اڈیٹر قاسم سید نے ورکنگ جرنلسٹوں  کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بڑی حیرت ناک بات ہے کہ اردو اخبارت  کی بدحالی کا رونا رونے والے  اخبارات کے مالکان تو ہوائی اسفار کرتے ہیں اپنی ذاتی زندگی بھر پور طریقے سے گزارتے ہیں لیکن ان کے اخبارات میں کام کرنے والے جرنلسٹوں کے حا لات انتہائی قابل رحم ہوتے ہیں ، اس طرح کی  سوچ سے اردو والوں کو نکلنا ہوگا ۔

ہمارا سماج  کے بیرو چیف  عامر سلیم خان نے نوجوان نسل کے صحافیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا قطعی درست نہیں ہے کہ ہمارے اردو جرنلسٹوں میں صلاحیتوں کی کمی ہے  گزشتہ ایک دہائی میں حا لات یکسر تبدیل ہوئے ہیں اردو جرنلزم نے نئی بلندیاں طے کی ہیں اچھے لکھنے والوں اور جرنلسٹوں کی کمی نہیں ہے  ضرورت ان کی قدر کر نے کی ہے۔ تمام تر دشواریوں کے باو جود اردو صحافت آگے بڑھ رہی ہے  ۔

پریس کلب آف انڈیا کے صدر  سینئر جرنلسٹ راہل جلالی نے کہا کہ ہم اردو صحافیوں کو پریس کلب سے  باقاعدہ جوڑنا چاہتے ہیں ۔ اردو زبان کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی یہ ہوئی کہ اسے  بھگوا حلقے نے ایک سازش کے تحت  مسلمانوں کی زبان قرار دے دیا ،اردو اس ملک کی زبان ہے اور رہے گی ،اردو کسی ایک مذہب کی زبان کبھی نہیں رہی  اردو کا اسلام سے تعلق ہے لیکن اردو اسلامی زبان نہیں ہے ۔

اس  خصوصی تقریب میں لگ بھگ 40 صحافیوں نے شرکت کی میٹنگ کی صدارت  سینئر جرنلسٹ  دھیریندر جھا  نے کی ۔ اس موقع پر تبادلہ خیال کے دوران کئی اہم تجاویز سمانے آئیں  جس میں پریس کلب کی میگزین میں اردو کا بھی گوشہ شامل کیا جانا، پریس کلب میں اردو اخبارات و رسائل کا باضابطہ نظم  مرزا غالب ، مولانا حسرت موہانی اور جنگ آزادی میں شہید اردو کے پہلے صحافی مولانا باقر علی کی یاد میں تقریابت کا اہتمام اور لائبریری کا قیام ،اردو صحافیوں ممبر سازی سمیت دیگر امور زیر بحث آئے ۔ امید کی جاتی ہے کہ پریس کلب کا یہ قدم اردو صحافت اور اس سے وابستہ صحافیوں کے لیے ثمر آور ثابت ہو گا۔ اردو والوں کی یہ محفل  دیرینہ روایت کے  مطابق شکوے شکایات  کے ساتھ ظہرانے پراختتام پذیر ہوئی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *