اردو میں تلفظ: معنویت اور مسائل

مبصر : نوشاد منظر، جامعہ نگر،نئی دہلی

Asia Times Desk

کتاب کا نام:۔ اردو میں تلفظ: معنویت اور مسائل
مرتب :۔ یوسف رام پوری
قیمت :۔ 300 روپے
سال اشاعت: 2018
ملنے کا پتہ:۔ مرکزی پبلی کیشنز، جامعہ نگر، دہلی۔ ۵۲

مبصر : نوشاد منظر، جامعہ نگر،نئی دہلی

”اردو میں تلفظ: معنویت اور مسائل“ یوسف رام پوری کی مرتب کردہ ایک اہم کتاب ہے۔اس کتاب میں مقدمہ اورپیش لفظ کے علاوہ ۶۱ مضامین، دو فرہنگ اور اردو میں مستعمل عربی تراکیب کے حوالے سے ایک مضمون شامل ہے۔یوسف رام پوری کو تعلق رام پور اتر پردیش ہے۔
”اردو میں تلفظ: معنویت اور مسائل“زیر نظر کتاب کئی اعتبار سے اہمیت کی حامل ہے۔ اردو میں اس موضوع پر بہت کم کام ہوا ہے۔اردو ایک شیریں زبان ہے اور اس کا حسن اس کے تلفظ میں پوشیدہ ہے۔ہر زبان کی درست ادائیگی میں اس کے تلفظ کا بہت اہم رول ہے، کئی بار تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ محض تلفظ کی غلطی سے لفظ کے معنی ہی بدل جاتے ہیں۔باوجود اس کے اکثر لوگ گفتگو کے دوران غلط تلفظ استعمال کرتے ہیں۔اردو میں تلفظ کے بہت سے مسائل ہیں، مگر اس جانب سنجیدگی کے ساتھ توجہ نہیں دی گئی۔ زیر نظر کتاب”اردو میں تلفظ: معنویت اور مسائل“ اس کمی کو پورا کرتی ہے۔اس کتاب کے مرتب یوسف رام پوری نے اپنے مقدمے میں نہایت سنجیدگی کے ساتھ اردو تلفظ اور اس سے وابستہ مباحث پر گفتگو کی ہے۔ان کا خیال ہے کہ موجودہ وقت میں اردو کو در پیش مسائل میں ایک بڑا مسئلہ تلفظ کی ادائیگی کا ہے، انہیں لگتا ہے کہ وقت کے تلفظ کو برتنے میں بے اعتدالیاں ہو رہی ہیں۔اور اس کے لیے عوام و خاص سب ذمہ دار ہیں۔یوسف رام پوری نے ان نکات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے جس کے سبب تلفظ کی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بعض لوگوں سے تلفظ کی غلطیاں اس لیے بھی ہوتی ہیں کیونکہ وہ عربی زبان اور اس کے مخرج سے واقف نہیں اور بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو اردو پڑھتے اور بولتے وقت عربی زبان کی طرح ’ع، ق وغیرہ ادا کرتے ہیں۔ دراصل یہ دونوں طریقے غلط ہیں۔ اردو میں تلفظ کی غلطیاں ہونے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہم الفاظ کے صوتیات سے واقف نہیں۔ یوسف رام پوری نے تلفظ کی اصلاح کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہمیں اہل زبان اساتذہ کی صحبت، لغت اور مستند مقرر کی گفتگو سننی چاہیے تاکہ ہمیں اپنی غلطیوں کا اندازہ بھی ہو اور اس کی اصلاح بھی ہوجائے۔
”اردو میں تلفظ: معنویت اور مسائل“ کا پہلا مضمون ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی کا ”اردو تلفظ: چند مشاہدات“ کے عنوان سے شامل ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں تلفظ کے بعض اہم مسائل کی جانب اشارہ کیا ہے۔
اس کتاب میں پروفیسر علیم اشرف خان کا مضمون”اردو میں مستعمل فارسی و عربی الفاظ کا تلفظ اور املا“بھی شامل ہے۔یہ مضمون بنیادی طور پراردو تلفظ اور املا دونوں کا احاطہ کرتا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا ہے کہ عام طور پر فارسی اور عربی الفاظ جو اردو میں مستعمل ہے، ان کو درست ادا نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ بعض غلطیاں علاقائی سطح پر رونما ہوتی ہیں مثلاََ پورب کے بعض علاقوں میں کوشش کو ’کوشس‘ کہتے ہیں مگر لکھتے وقت اس کا املا ”کوشش“ ہی ہوتا ہے، ویسے ہی بہار کے بعض اضلاع میں ’ر‘ کے بجائے ’ڑ‘ اور ’ڑ‘ کے بجائے’ر‘بول دیتے ہیں مگر جب اسی لفظ کو تحریر میں لاتے ہیں تو اس کا املا درست ہوتا ہے، ہمیں اس جانب سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور اپنی کوتاہیوں کو دور کرنا چاہیے۔ پروفیسر علیم اشرف خان نے بعض اہم مثالوں کے ذریعے تلفظ اور املاکے مباحث پر روشنی ڈالی ہے۔ان کا خیال ہے کہ تلفظ اور املا کی درستگی کے لیے بڑے پیمانے پر ورکشاپ کے انعقاد کی ضرورت ہے تاکہ تلفظ اور املا کے حوالے سے پائی جانے والی غلطیوں کو نشان زد کرتے ہوئے اس کو دور کرنے کے تدابیر سامنے آئیں، یہی نہیں ورکشاپ اور سیمینار کی سفارشات کو علمی حلقوں میں زیادہ مقبول اور مفید عام بنایا جاسکے۔
اس کتاب میں فاروق اعظم کا مضمون”اردو کا صوتیاتی نظام“ بھی شامل ہے۔مضمون نگار نے اردو حروف اور اس کے مخارج پر گفتگو کی ہے۔ان کا خیال ہے کہ زبان کے طالب علموں کے لیے لسانیات کا علم بے حد ضروری اور اہم ہے، بالخصوص علم صوتیات سے واقفیت،خواہ اس کی نوعیت سرسری ہی کیوں نہ ہو۔
کتاب میں شامل ایک اہم مضمون امیر حمزہ کا ہے۔ ان کے مضمون کا عنوان”اردو لغت میں تلفظ کی صورت حال“ ہے۔’لغت‘ کا اہم کام معنی فراہم کرنا ہے۔جب ہم کسی فن پارے کا مطالعہ کرتے ہیں اور کوئی مشکل لفظ سامنے آجاتا ہے تو فوراََ لغت کا سہار لیتے ہیں، اور بیشتر اوقات ہمیں ہمارے مطلوبہ لفظ کا معنی و مفہوم مل جاتا ہے۔ امیر حمزہ نے اپنے اس مضمون میں اردو لغت نویسی کے ساتھ ساتھ لغت نویسی کی تاریخ پر بھی گفتگو کی ہے۔ مضمون نگار نے اردو کے اہم لغت کی مثال پیش کرتے ہوئے ان کی خوبیوں اور خامیوں کو پیش کیا ہے۔ان کا خیال ہے کہ چونکہ اردو میں فارسی اور عربی کے تمام حروف تہجی کے ساتھ ہندی کے بھی بعض حروف تہجی شامل ہیں،ایسے میں حرف بہ حرف کسی تبدیلی کی امید کرنا مناسب نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر ہمارا لہجہ قابل قبول ہے تو تلفظ بھی قابل قبول ہوگا۔
غلام نبی کمار کا مضمون”کشمیر میں اردو تلفظ کے مسائل“ بھی کتاب میں شامل ہے۔ یہ مضمون اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس میں اردو زبان اور اس کے تلفظ پر ہونے والے علاقائی اثرات کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ تلفظ پر ہونے والے علاقائی اثرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے نصیر احمد خان نے لکھا تھا کہ’اردو زبان کے تلفظ کی یہ علاقائی تفریق فطری ہے اور ان کے علاقائی معیار بھی درست ہیں لیکن معیاری اردو کا ایک الگ تلفظ ہوتا ہے۔‘اس لحاظ سے دیکھا جائے تو تلفظ پر علاقائی اثرات کا مرتب ہونا نہ کوئی نئی بات ہے اور نہ ہی بری۔جہاں تک غلام نبی کمار کے مضمون کا تعلق ہے تو انہوں نے اپنے مضمون میں اہل کشمیر کے یہاں پائی جانے والی غلطیوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ان کا خیال ہے کہ بعض غلطیاں ایسی ہیں جن کو تھوڑی کوشش کے بعد درست کیا جاسکتا ہے مگر اردو کے بعض الفاظ ایسے ہیں جو کشمیری زبان میں بھی رائج ہے، مگر کشمیری لب و لہجہ کی وجہ سے اس کا اردو تلفظ بگڑ جاتا ہے۔ غلام نبی کمار نے صحیح اور غلط تلفظ کو ایک ٹیبل کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ان کا خیال ہے کہ اگر اہل کشمیر اپنا تلفظ درست کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اردو اور کشمیری زبان کے ڈکشن کے فرق کو سمجھنا ہوگا۔ عوام میں بیداری لانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس موضوع پر ورکشاپ اور سیمینار کا انعقاد کیا جائے۔
مذکورہ مضامین کے علاوہ کئی دیگر مضامین بھی اس کتاب میں شامل ہیں۔کتاب میں شامل ہر مضمون قابل مطالعہ ہیں۔بالخصوص نایاب حسن کا مضمون”سوشل میڈیا پر اردو تلفظ:مسائل، اسباب اور تدارک“، شہاب الدین قاسمی کا مضمون ”قومی میڈیا اور اردو زبان وتلفظ“ اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کیونکہ آج میڈیا انسانی زندگی کا حصہ بن گئی ہے، اگر میڈیا کی زبان اور اس کے تلفظ درست ہوئے تو یقینا عوامی سطح پر ایک بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔
اس کتاب میں شامل مضامین کے مطالعے سے ہمیں تلفظ کی اہمیت اور اس کی معنویت کا اندازہ ہوتا ہے ساتھ ہی اس کے مطالعے سے ہم اہنی غلطیوں کو نہ صرف نشان زد کرسکتے ہیں بلکہ ان خامیوں کو دور کرنے کے تدابیر پر غور کرکے خود کی اصلاح بھی کرسکتے ہیں۔میں ”اردو میں تلفظ: معنویت اور مسائل“کے مرتب یوسف رام پورکو ایک اچھی کتاب کے لیے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔اور امید کرتا ہوں کہ یہ کتاب اردو زبان و ادب کے طلبا کے لیے مفید اور مشعل راہ ثابت ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *