جس آزادی کے لئے ہمارے آباء اجداد نے اتنی قربانیاں دیں آخر اس کا مقصد کیا تھا ؟

وسیم خان وسیم

Asia Times Desk

پندرہ اگست ہندوستان کی تاریخ میں ایک عظیم الشان دن کی حیثیت رکھتا ہے، یہ ایک ایسا دن ہے کہ جس دن ہندوستانیوں نے فرنگیوں کے جبرواستبداد سے نجات پائی تھی ،یہ وہ دن ہے کہ جس دن کے لئے ہمارے آباء واجدادنے اپنی گردنیں کٹائیں ،مالٹا کی جیل میں قیدوبند کی صعوبتیں اٹھائیں ،کالا پانی کی سزائیں کاٹیں،وہیں پہ عمریں گذاردیں ،وہیں پہ مر گئے اور وہیں کی مٹی میں دفن ہو گئے ،ہمارے آباء اجداد کو توپوں سے اڑادیا گیا،انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتوے تک جاری کئے،ہزاروں کی تعداد میں علماء کرام تخت دار پہ چڑھ گئے لیکن ساری ساری کی مشقتوں کوبرداشت کرتے ہوئے بھی ہمارے آباء اجداد کے آہنی ارادے کبھی کمزور نہ ہوئے،

Advt

تاریخ کے صفحات کوبھلے ہی مسخ کرنے کی کوشش کی جائے لیکن یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ ۱۸۵۷ ؁کی پہلی جنگ آزادی ہندوستان کے آخری تاجدار بہادرشاہ ظفر کی قیادت میں ہندو مسلم ایکتاکی بنیادپرلڑی گئی جس میں سارا ملک بلا تفریق مذہب و ملت شامل رہا،یہ وہ جنگ تھی جو درحقیقت ۱۹۴۷ ؁کی بنیاد تھی ،تاریخ میں اسے ۱۹۴۷ ؁کی ریہرسل کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے ،اس جنگ میں اگرچہ کامیابی نہیں ملی لیکن اس جنگ میں ہندوستان کے آخری تاجداربہادر شاہ ظفرکی گرفتاری اور کچھ دیگر عوامل نے ہندوستانیوں کے دلوں میں انگریزوں سے دودوہاتھ کرنے کا جوش بھردیا ،یہ وہ جنگ تھی کہ جس نے ہندؤں اور مسلمانوں کو اور قریب کردیا تھا کیونکہ دونوں کا مقصد ایک اور نیک تھا ،اور وہ مقصد تھا فرنگیوں سے نجات اور مکمل نجات ۔ بہادر شاہ ظفر( جنھیں ہندو مسلم یکساں طور پر اپنا بادشاہ اور قائد مانتے نیز بے پناہ عزت ومحبت کرتے تھے )نے انگریزوں کے خلاف عوام کے دلوں میںآزادی کے شعلے جلا کر انھیں ہوا دیتے ہوئے کہا تھاکہ ’’ہندیوں میں جب تلک باقی ہے بو ایمان کی ۔۔تخت لندن تک چلے گی تیغ ہندوستان کی ‘‘اگراس شعرکی حقیقت پر ذرا بھی غور کیا جائے توصاف طور دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ شعر اپنے اندر ہندو مسلم ایکتا کی کتنی بڑی جیتی جاگتی مثال لئے ہوئے ہے۔

Asia Times Urdu

بہادرشاہ ظفرکایہ شعر صاف طور پر کہہ رہاہے کہ فرنگیوں سے جنگ نہ صرف یہ کہ فرنگیوں کوبھگانے کے لئے ہے بلکہ فرنگیوں سے جنگ کرنا مسلمانوں کے لئے جہاد اور برادران وطن کے لئے دھر م یدھ جیساہے ،یعنی یہ جنگ وہی ہندوستانی کرے گا جس ہندوستانی کے اندر ایمان باقی ہوگا ،یہاں پر بہادرشاہ ظفر نے کسی ایک کمیونٹی کا نام نہیں لیا بلکہ پورے ملک کو ہندوستانی کہہ کے ایک ساتھ مخاطب کیا ،

یہ ہندو مسلم ایکتا کی بہت بڑی مثال ہے ۔یہی وہ ہندو مسلم ایکتاکی طاقت تھی جس نے ہندوستانیوں کو ایک دھاگے میں پروئے رکھا اور اسی ہندو مسلم اتحاد کے بل پر آگے چل کر فرنگیوں سے لوہا لیاگیا یہ الگ بات ہے کہ فرنگیوں نے اس اتحاد کو توڑنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اپنی ناپاک کوشش میں کامیاب نہ ہوسکے اوربالآخرہندوستانیوں کو صبح آزادی کا منھ دیکھنا نصیب ہوا ،اگر باشندگان وطن ہندومسلم اتحاد کی رسی کو مضبوطی سے نہ تھامے ہوئے ہوتے توبلاشبہ آج نہ ہماری آنکھیں ہوتیں اور نہ یہ عروس آزادی ہوتی ۔آج ہم پندرہ اگست کو ایک تہوار کی طرح مناکر خانہ پرُی کرتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے کہ ہم نے اپنے آباء واجداد کا حق ادا کردیا لیکن ہمیں اس بات پربھی غور کرنا ہوگا کہ جس آزادی کے لئے ہمارے آباء اجداد نے اتنی ساری قربانیاں دیں آخر اس کا مقصد کیاتھا آیا ان کا مقصد پورا ہوبھی رہاہے یا نہیں ،تو بیشک یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستان دن دونی رات چوگنی ترقی کرتاہوا آگے بڑھ رہاہے ،

Advt

یہ ملک عالمی پیمانے پر ایک مظبوط طاقت بن کے ابھررہاہے اور یہ ملک دیگر میدان میں بھی خاصی ترقی کررہاہے لیکن ہمیں وہیں اس بات پر بھی غور کرنا نہایت ہی ضروری ہے کہ ہندو مسلم اتحاد اور گنگا جمنی تہذیب جو ہمارے ملک کی روح اور جان ہے جس پر ہمارے ملک کی بقا کا انحصار ہے، ہمارے بزرگوں نے جس نئے ہندوستان کا خواب دیکھا تھا ، اتحاد کا وہ درس جو ہمیں بہادر شاہ ظفر نے اپنے شعر کے حوالے سے دیا تھا ،جس ہندو مسلم اتحادکا مظاہرہ ہمارے آباء و اجداد نے ۱۸۵۷ سے ۱۹۴۷ کے بیچ کیاتھا اور جس ہندو مسلم اتحاد کی طاقت کے سہارے ہمارے بزرگوں نے اس ملک کو انگریزوں سے آزاد کرایا تھا،جوگنگا جمنی ہمیں وراثت میں ملی تھی ہم اس ہندو مسلم اتحاداوراس گنگا جمنی تہذیب کو بچاپانے میں کہاں تک کامیاب ہو پائے ہیں ۔ اس لئے ہمارے لئے پندرہ اگست کادن صرف جشن منانے کا ہی دن نہیں ہے بلکہ حقیقی معنوں میں پندرہ اگست کا دن ہمارے لئے محاسبہ کرنے کا دن ہے ،ایک ایسا محاسبہ جس میں یہ دیکھا جاسکے کہ وطن عزیز کو تمام طرح کی فرقہ پرستی سے پاک کرنے ،گنگا جمنی تہذیب اورہندو مسلم ایکتا کی جڑوں کو مظبوط سے مظبوط ترین بنانے میں ہمارا کیا کردار ہے ۔
 مضمون نگار  کا رابطہ : سنت کبیر نگر اترپردیش ،موبائل نمبر۔9918707808 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *