ملک بحران سے گذرہا ہے ،مستقبل کیلئے بہتر فیصلہ لیں

Asia Times Desk

نئی دہلی: سینئر کانگریس رہنما اور سابق وزیر طارق انور نے براہ راست وزیراعظم نریندر مودی پر حملہ بولتے ہوئے کہاہے کہ یہ بات کسی کو نہیں پتہ کہ ہمارے وزیراعظم کب کون سا چولا پہن لیں گے ۔انہوں نے کہا کہ آج شہیدوں کی بیویاں یہ کہہ رہی ہیں کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے سرکار دہشت گردوں کی لاشیں تو دکھادے ،کیونکہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے 40 شہیدوں کے لاشیں دیکھی ہیں۔وطن سماچار فورم کی جانب سے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں منعقد ہ کانفرنس’حصار بندی یا کھلا دل ‘ سے خطاب کرتے ہوئے طارق انور نے کہا کہ آج ملک بحران سے گزر رہا ہے، ان حالات میں ہم وطنوں کو ملک کے مستقبل کے لئے بہتر فیصلہ لینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بھارت ایک ایسا ملک ہے جہاں اکثریت کو اقلیتوں سے خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم آئینی اقدار کو پہچانیں اور گاندھی آزاد ، پنڈت نہرو ، پٹیل اور بھگت سنگھ کے نظریات کو فروغ دینے کیلئے کام کریں۔طارق انور نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے پانچ سال میں صرف گمراہ کیا ہے، لوگ اب سمجھ چکے ہیں اور وہ اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں ۔ساتھ ہی انہوں نے امید ظاہر کی کہ 2019 میں ملک میں سیکولر طاقتیں مضبوط ہوں گی ۔

DSC_0134.JPG
دریں اثناء دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ اور دہلی کانگریس کے صدر شیلا دکشت نے فورم کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ، ”ہمیں یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ کون ہندو،مسلمان، سکھ یا عیسائی ہے ہمیں انسانیت کی بنیاد پر لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کانگریس پارٹی پر سب سے بڑا بوجھ ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ لوگ ملک کے مستقبل کیلئے بہتر فیصلہ لیں گے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کے تمام ممالک میں تنہا ہے جہاں تمام مذاہب اور معاشرے کے لوگ رہتے ہیں اور اچھی چیز یہ ہے کہ یہاں لوگ ایک ساتھ متحد ہیں ۔مختلف مذاہب میں شادیوں کا رواج بھی ہے، جن کی مثالیں موجود ہیں اوریہ شادیاں اچھی طرح سے چلی بھی ہیں۔انہوں نے کہاکہ فرقہ پرست اسی کو ختم کرنا چاہتے ہیں ۔
دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے ورکنگ صدر اور سابق وزیر دہلی سرکار ہارون یوسف نے کہا کہ آج لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور انہیں نعرے سے دہشت زدہ کیا جا رہا ہے۔ہارون یوسف نے کہا کہ مسلمانوں اور دلتوں کو نشانہ پر لیاجارہا ہے اور یہ اب زیادہ دن چلنے والا نہیں ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مودی جھوٹ بیچ رہے ہیں اور اس کی حقیقت دنیا کے سامنے آچکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ شہیدوں کی لاشوں پر سیاست بند ہونی چاہئے ،جو کام ہماری فوج اور ایئرفورس نے کیا ہے، اس کا سہرا ایک پارٹی اور ایک شخص کو نہیں دیا جاسکتا ہے ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سابق طلبا یونین (لکھنؤ) کے صدر محمد طارق صدیقی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمیں جمہوریت اور جمہوریہ کے درمیان فرق جاننا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں فیصلہ حکومت کا ہوتا ہے، لیکن فیصلے جمہوریہ میں عوام کے ہوتے ہیں ۔
سینئر وکیل محمود پراچا نے کہا کہ سب کو برابر کا حق حاصل ہے اسی لیے ہم جب کوئی حکومت 5 سال کیلئے منتخب کرتے ہیں اور وہ بے لگام ہو جاتی ہے تو اس کو لگام پہنانے کے لئے ہمارے پاس آئین اورعدالت ہے ۔ آچاریہ پرمود کرشنن نے کہا کہ جو دنیا میں آیا ہے اسے جانا ہے۔انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر وار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کی رجسٹری ہے جبکہ یہ محض لیز ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی ملک کے عوام کو گمراہ کر کے فوج کے کام کا کریڈٹ لینے کی کوشش کررہے ہیں جو کہ شرمناک اور ناقابل برداشت ہے ۔
کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈرحنظلہ عثمانی نے کہا کہ ہمیں اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ گاندھی جی نے پنڈت نہرو نے اس بات کو بہت واضح انداز میں کہا تھا کہ ہم نے ایسی آزادی کا تصور بالکل نہیں کیاہے جس میں ذاکر حسین جیسے لوگ محفوظ نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ آج ہمیں ان کے خیالات کو جگہ جگہ لے جانے کی ضرورت ہے۔ پروگرام کے کنوینر بلال احمد نے لوگوں سے بھائی چارے کیساتھ رہ کر زندگی گذارنے کی اپیل کی اور نظامت فورم کے مینیجنگ کارکن و صحافی محمد احمد نے کی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *