تو کیا مالدیپ میں ہندوستان اور چین انتخاب لڑ رہے تھے؟

اشرف علی بستوی

Asia Times Desk

 یہ بات نوٹ کی گئی کہ  پچھلے دنوں عالمی سطح پر ہونے والے اہم واقعات میں ہندوستانی میڈیا کی دلچسپی مالدیپ کے صدارتی انتخاب میں کافی گہری رہی جس کا اثر نتائج کے اعلان کی خبروں کی پیش کش میں بخوبی دیکھا گیا ۔

ہندوستانی میڈیا نے نتائج کے اعلان کی خبر دیتے وقت سرخی میں ہی اس بات کی وضاحت کردی لکھا ،’ ہندوستان حامی مالدیپ کے صدارتی امیدوارمحمد ابراہیم صالح جیتے اور چین نواز یامین عبد اللہ ہارے ‘  میڈیا کی جانب سے اس طرح کی باتیں پہلی بار سامنے نہیں آئیں ہیں بلکہ  یہ اسی طرح کی خبریں ہمیں اس وقت بھی دیکھنے کو ملتی ہیں جب کوئی حادثہ پیش اس وقت لکھا جاتا ہے کہ  اتنے ہندو یا مسلمانوں کی جانیں ہوگئیں ۔

سوال یہ ہے کہ مالدیپ کے انتخبات میں  ہندوستانی میڈیا کی اتنی دلچسپی کیوں رہی ؟ ایسا تاثر دینے کی کوشش کیوں کی گئی کہ کی گئی  کیہ جیسے  یامیں اور صالح  آمنے سامنے نہیں تھے بلکہ مالدیپ میں ہندوستان اور چین انتخاب لڑ رہے تھے ۔

کسی بھی پڑوسی ملک کے داخلی سیاسی سرگرمیوں میں حد سے زیادہ ہندوستانی میڈیا کی دلچسپی گزشتہ چار برس میں کچھ زیادہ ہی دیکھنے کو ملی ہے اس کا پہلا معاملہ اپریل 2015 میں نیپال میں زلزلہ کی تباہی کے وقت سامنے آیا تھا جب ہمارے چینل مستقل دکھائے جا رہے تھے کہ نیپال کا اپنا نظام پوری طرح مفلوج ہوچکا ہے اور ہم ہی ان کی بازآبادکاری کر رہے ہیں ، اس کا نقصان یہ ہوا تھا کہ وقت سے پہلے ہی ہندوستان کو نیپال سے نکلنا پڑا تھا اور پھر اس کے بعد کی صورت حال ہم سب کے سامنے ہے کہ اس وقت نیپال ہم سے کوسوں دور چلا گیا ۔

توکیا مالدیپ  کے انتخاب میں ہندوستانی میڈیا کی دلچسپی اس وجہ سے رہی کہ یہاں ایک اسلامی فکر کے حامی سیاسی گروپ کے امیدوار کی شکست ہوئی ہے ؟ مالدیپ ہندوستان کے لیے آج کتنا اہم ہوگیا ? کیا اس سے  قبل بھی کبھی مالدیپ کی اہمیت کے بارے میں ہندوستانی میڈیا نے ہمیں بتایا ؟ ہندوستانی میڈیا کا یہ رویہ  اکثر ہندوستان کو عالمی  سطح پر شرمندہ کر تا ہے ۔

ہندوستانی میڈیا کی اسی اوچھی حرکت پر جسٹس مارکنڈے کاٹجو اکثر اپنے تبصروں میں ہدف تنقید بناتے ہیں ،  کیا میڈیا کا کام یہی رہ گیا ہے کہ وہ اس طرح بے شرمی سے اپنا ایجنڈا آگے بڑھائے اس سے عالمی سطح پر ملک کی شبیہ خراب ہوتی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *