قانونی رہنمائی کی تنظیم اے پی سی آر کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے ؟  

خصوصی فیچر

Asia Times Desk

ایسوسئیشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کا قیام پورے ملک میں شہری حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کےلئے منظم جدوجھد کے مقاصد کے پیش نظر عمل میں آیا، جو ۲۰۰۶ سے پورے ملک میں پیرا لیگل ورکرس تیارکرنے کے ساتھ ساتھ قانونی صلاح و مشورے نیز قانونی چارہ جوئی کا ایک منظم و مستحکم نظام تیار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

حالیہ رپورٹ کے مطابق اےپی سی آر ہندوستان کے سترہ صوبہ جات میں اپنے تربیت یافتہ سوشیولیگل والینٹئرس کے ذریعہ حقوق انسانی و شہری حقوق کی بالادستی و تحفظ کے لئے سرکرداں ہے، ان صوبہ جات میں جھارکھنڈ، کرناٹک، گوا، مہاراشٹر، راجستھان، گجرات، دہلی، آسام، ویسٹ بنگال، اترپردیش، تیلنگانہ، کیرلہ، بہار اور ہریانہ سرفہرست ہیں۔

کیسا بنتا جا رہا ہے ہندوستان ؟

اے پی سی آر کے مقاصد کے حصول کے لئے ضروی ہے کہ کارکنان کو سماجی مسائل کو سمجھنے نیز قانونی دائرہ کار میں کام کرتے ہوئے مروجہ قوانین سے باقاعدہ واقفیت اور تربیت فراہم کی جائے، جس کی غرض و غایت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہندوستان کے مختلف صوبوں میں اب تک سات سو سے زائد سوشولیگل ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ہے۔ ملک میں تین ہزار سے زائد تربیت یافتہ کارکنان کے ذریعے قومی سطح پر اے پی سی آر سوشیو لیگل ورکرس کا سب سے بڑے ادارہ کی حیثیت سے کام کر رہی ہے۔

جیل سے چھڑائے گئے افراد

جھارکھنڈ صوبہ میں گزشتہ تین سال میں رانچی، جمشید پور، دھنباد، صاحب گنج، پاکوڑ، گوڈا، ہزاری باغ، جام تاڑا، گملا، چھترا وغیرہ اضلاع میں ستر، کرناٹک میں اسی سے زائد، تلنگانہ میں دوسو چوہتر،مہاراشٹر میں چھبس، راجستھان میں نو، اترپردیش میں چونتس،ویسٹ بنگال میں ستاسی و دیگر صوبوں میں بھی سوشولیگل ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ہے، جس کے ذریعہ قانونی تربیت کے ساتھ ساتھ قانونی بیداری پیدا کرنے کی بھی کوششیں ہوئیں تاکہ عام شہری اپنے دستوری حقوق سے بخوبی باخبر ہوں تاکہ کسی بھی طرح کی حقوق انسانی کی خلاف ورزی کی صورت میں اس کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

موب لنچنگ و حراستی اموات و فرقہ وارانہ فسادات و حادثات کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر اے پی سی آر نے ان واقعات کی روک تھام نیز متاثرین کے لئے انصاف و مجرمین کے خلاف قانونی چارہ جوئی میں متاثرین کو ممکنہ امداد و رہنمائی کی کوششیں کیں۔ جھارکھنڈ، راجستھان، ہریانہ، دہلی و اترپردیش میں ہونے والے واقعات میں اے پی سی آر نے قانونی و مالی امداد کی جارہی ہیں، ان حادثات میں لاتیہار میں مظلوم انصاری اور امتیاز خان کا بھیڑ نے قتل کیا تھا، بنسی اراو قبائلی قتل کیس، منہاج انصاری حراستی قتل، قتیل صدیقی پونہ جیل قتل کیس، فاربس گنج پولیس فائرنگ کیس، سیف اللہ انکاونٹر کیس، بھوپال انکاونٹر کیس، عمران خان حراستی قتل، علیم الدین موب لنچنگ قتل، پہلو خان، جنید اور قاسم موب لنچنگ ، کاس گنج و مظفر نگر، گوپال گڑھ فسادات کے حادثات اہم ہیں۔

Posted by APCR Jharkhand on Monday, 18 December 2017

اے  پی سی آر جھارکھنڈ پر  ٹی وی 18 کی رپورٹ 

ہندوستان میں بے گناہ نوجوانوں کی فرضی مقدمات میں غیرقانونی گرفتاریاں اور اس کے بعد ایک طویل عرصہ تک عدالتی کاروائیاں نیز اس دوران متاثرہ خاندانوں کو پیش آنے والے مسائل نیز ایک طویل عرصہ کی قیدوبند کے بعد باعزت رہائی کے بعد ان کی بازآبادکاری ہندوستان میں رہنے والی اقلیتی آبادی کے لئے ایک بڑا سماجی و دستوری چیلنج ہے، جس کو مدنظر رکھتے ہوئے اےپی سی آر نے متاثرین کو قانونی و دستوری امداد فراہم کر رہی ہیں، دہلی، اترپردیش، راجستھان، مہاراشٹر، کرناٹک، بہار، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، کیرلا، گجرات، ہریانہ اور ویسٹ بنگال کے ایک سو ستر کیسس میں امداد فراہم کیں، جن میں نثارالدین و ظہیرالدین (گلبرگہ) کا کیس جو تیئس سال کی قیدوبند کے بعد سپریم کورٹ سے باعزت بری ہوئے، محمد عامر (دہلی) کا کیس جو اٹھارہ سال بعد باعزت بری ہوا نیز گلزار وانی و ڈاکٹر عبدالمبین کا کیس جو سولہ سال بعد باعزت رہا ہوئے خاص طور پر قابل زکر ہیں۔

اے پی سی آر نے قانون و دستور نیز اس میں دستیاب حقوق اور حقوق کی خلاف ورزی کی صورت میں ہمارا لائحہ عمل کیا ہو؟ جیسے بہت سے سوالات نیز معلومات کے لئے اردو،ہندی، انگریزی کے علاوہ علاقائی زبانوں مثلا تمل، بنگالی، آسامی، مراٹھی، کنڑ، ملیالی وغیرہ زبانوں میں لٹریچر کی اشاعت و ترتیب بھی دی، لاکھوں کی تعداد میں لوگوں تک پہنچانے میں

کامیابی حاصل کی۔

یہ اےپی سی آر کی ایک مختصر رپورٹ ہے جب کہ تفصیلی رپورٹ ایک طویل تحریر کی محتاج ہوگی۔ اشد ضرورت اس بات کی ہے کہ سنگین تر ہوتے حالات کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے نہ صرف ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں بلکہ ایک محفوظ اور بااقدار سماج کے قیام میں اہم تر رول ادا کرتے ہوئے حقوق انسانی کے تحفظ کے لئے سرکرداں اداروں سے منسلک ہوکر ایک محفوظ تر سماج بنانے میں اپنا پورا پورا کردار ادا کریں۔ اے پی سی آر کا پتہ:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *