یہ بھی تو اپنے زمانے کا  ماس میڈیا ہی ہوا

دیر مت کیجیے  اٹھیں اور پتہ لگائیں کہ آپ کی اپنی کوئی کوشش رنگ لا سکتی ہے ؟

Asia Times Desk

اشرف علی بستوی

اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ  آخر مسلمانوں کو عالمی سطح پر ماس میڈیا کی اہمیت کا احساس عملی طور پر کیوں نہیں ہے ؟ اس کا جواب ہے کہ  دراصل ماس میڈیا کا شعبہ ہمارے دینی طبقے میں ‘اعتبار’ حاصل نہ کر سکا ہے ، گویا ابھی یہ پیشہ معیوب ہی گردانا جاتا ہے ۔ جبکہ کہ قرآن کی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ ” جب تمہارے پاس کوئی خبر پہونچے تو اس کی تصدیق کر لیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ انجانے میں تم کسی گروہ کو نقصان پہونچا بیٹھو “۔ اب دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا اس کی تشریح میں ذرائع ابلاغ نہیں آتا ؟ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے سلسلے میں کیا راہنمائی ملتی ہے ؟

اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم نے مکہ کی پہاڑیوں سے مکہ والوں کو مخاطب کیا اورحق کی صدا بلند کی اور دین کی دعوت کوزیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہونچانے کے لیے اس وقت حاصل ذرائع کا بھر پور استعمال کیا، یہ بھی تو اپنے زمانے کا ایک طرح کا ماس میڈیا ہی ہوا؟

پچھلے برس انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں  روزنامہ انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر یامین انصاری  کے سفرنامے کا رسم اجرا کا موقع تھا  ، جس میں کئی اہم صحافتی شخصیات نے اظہار خیال کیا ۔ صحافیوں کا ایک وفد عراق کے دورے پر تھا وفد میں شامل خاتون جرنلسٹ رادھیکا بورڈیا،اور عارفہ خانم  نے  حیرت انگیز لہجے میں کہا کہ ہم نے عراق میں جو کچھ دیکھا وہ اس سے بالکل مختلف تھا جو مغربی میڈیا ہمیں دکھتا ہے

۔ یہاں روز مرہ کی زندگی معمول کے مطابق دیکھ کر اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا کیونکہ ابھی تک ہم عراق کو مغربی میڈیا کے آنکھوں سے دیکھا تھا یہ پہلا موقع تھا جب ہم وہاں کے حالات کا خود مشاہدہ کر رہے تھے ۔

عارفہ خانم  کی زبان سے بے ساختہ نکلا یہ وہ عراق نہیں ہے جو ہم مغربی میڈیا کے کیمرے سےابھی تک  دیکھتے رہے ہیں ۔ لگ بھگ تین سال سال قبل دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں منعقد ایک میڈیا سمینار میں راجیہ سبھا کی سینئر جرنلسٹ امرتا راو نے بھی نے بڑے ہی مایوس کن  لہجے میں اسی تشویش کا اطہار کیا تھا ،” ہمارے نیوز چینلوں کے پاس اے پی ٹی این سے آنے والی خبروں کو من وعن چلادینے کی مجبوری ہے کیونکہ ہمارے پاس اپنا کوئی نظام نہیں ہے جو ان خبروں کی تصدیق کر سکے ۔ یہ سمینار جماعت اسلامی ہند نے منعقد کیا تھا ۔

  سمینار میں پربھو چاولا ، دنیش چند شرما ، امرتا راو سمیت کئی اہم شخصیات نے شرکت کی تھی ۔ ہندوستانی صحافیوں کا عراق دورہ  ہو یا دہلی میں میڈیا پر منعقد ہونے والے سمینارو سمپوزیم سبھی میں ایک بات مشترک ہے مغربی میڈیا کی بے راہ روی پر تشویش  ملکی وعالمی سطح پر اس کا متبادل پیش کرنے کی ہمت کون کرے ، ہونا تو یہ چاہئے کہ مغربی میڈیا کے ظلم کی ستائی دنیا جب کبھی شامی بچے آئلان کردی کی اسٹوری دیکھے تو اس کے پیچھے کار فرما ذہنوں کو پرھنے کی کوشش کرے ،

وہ یہ پتہ لگا ئیں کہ آئیلان کردی جیسے ہزاروں بچوں کی کہانی کہیں  کے نیچے دبا تو نہیں دی گئی لیکن دنیا ابھی اس پر اگے نہیں بڑھ سکی ہے اور امت مسلمہ جسے قرآن باربار باخبر رہنے کی تلقین کرتا ہے وہ ابھی اس ادیھڑ بن میں الجھی ہوئی ہے کہ جدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کیا جائے یا ابھی مزید انتظار کیا جائے ۔ یہی وجہ کیہ مسلم معاشرے میں ابھی ذرائع ابلاغ کی نئی شکلوں کو وہ مقام حاصل نہیں ہو سکا ہے ۔ کاش کوئی ہمیں بتائے کہ اے ایف پی رایٹر اور اے پی ٹی این سے آنے والی خبروں کی تصدیق کا ہمارے پاس اس کا متبادل نظام کیا ہے ؟ مزید دیر مت کیجیے  اٹھیں اور پتہ لگائیں کہ آپ کی اپنی کوئی کوشش رنگ لا سکتی ہے ؟

بہ شکریہ سہ روزہ دعوت  شمارہ 4 اگست 2019 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *