سماجی کام کیا ہوتا ہے اور نام نہاد سماجی کارکنان کیا کر رہے ہیں؟

زبـــــــــــیر سعیدی العمری 

Asia Times Desk

کل اتوار تھا، صبح صبح یعنی گیارہ بجے شاہین باغ میں ڈاکٹر عمر فاروق، اسسٹنٹ پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ساتھ ایک خالص یونانی مرکز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کیلئے جانا ہوا جس کی بروقت انہیں نے اطلاع دی تھی، لیکن میں وہاں اختتام تک نہیں رک سکا کیونکہ مدیر صلاح کار حامد علی اختر سے کئے گئے وعدے کے مطابق مجھے دو بجے آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت میں ہونے والی ایک تعزیتی نشست میں پہنچنا تھا، جو حکیم سید احمد خان کی اہلیہ کی وفات، بانی ابو الفضل انکلیو جناب ابو الفضل صاحب کی وفات اور جناب سراج الدین ندوی کے دو جواں سال بیٹوں کی وفات کے سلسلے میں منعقد کی جا رہی تھی
لیکن ان دو نشستوں کے بعد بھی شام ہوتے ہی ایک بڑی اور اہم سماجی تحریک کی افتتاحی تقریب کا حصہ بننے کا مجھے موقع نصیب ہوا
عبد الماجد خان، دہلی میں جو لوگ میڈیکل ٹورزم سے وابستہ ہیں وہ اگر اس نام سے واقف نہیں ہیں تو یہ ان کی کم علمی ہی کہی جا سکتی ہے، ماجد صاحب نے خالص سماجی اقدار کے زوال سے متفکر ہوکر کچھ ماہ قبل ماجـــکو فاؤنڈیشن نام سے ایک آرگنائزیشن رجسٹرڈ کرائی ہے، جس کا پہلا بڑا پروگرام کل شام بعد نماز مغرب آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی بلڈنگ میں منعقد ہوا، پروگرام کی اہمیت ‘سماجی لٹریسی’ کے موضوع کے تحت ہونے والی گفتگو نے مزید بڑھا دی، اور سب سے خاص بات اس محفل میں جہاں جے این یو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، جمعہ ہمدرد کی نمائندگی تھی وہیں شرکاء میں ندوی، فلاحی، عمری اور دیگر بڑے مدارس کے وہ فارغین شامل تھے جو دہلی و مضافات میں مقیم ہیں جن کی اپنی الگ الگ تجارتی مصروفیات ہیں اور ساتھ ساتھ جو سماجی امور میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں
ﷲ ان سب کی مساعی کو قبول فرمائے، آمین
فرداً فرداً سب کا ذکر کروں گا تو بات کافی طویل ہو جائے گی

کل جو پینل ڈسکشن کا موضوع تھا وہ بے حد اہم تھا- ‘سماجی لٹریسی’ واقعی ایک ایسا موضوع ہے جس پر باقاعدہ ایک سیمینار منعقد کرایا جا سکتا ہے
کچھ باتیں اسی تعلق سے لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں
کہ آخر سماجی کام کیا ہوتے ہیں، ان کی ضرورت کیوں پیش آتی ہیں، وغیرہ وغیرہ

سماجی کام کیا ہوتا ہے اور نام نہاد سماجی کارکنان کیا کر رہے ہیں؟
اسلام انسانیت کی خدمت کا درس دیتا ہے اس لئےحقیقی مسلمان ازلی ابدی سماجی کارکن ہے-
سماجی کاموں کو پوری دنیا میں سراہا جاتا ہے-
’’سماج کے معانی معاشرے کے ہیں‘‘، معاشرے کے متعلق جملہ معاشی، فلاحی، انفرادی، اصلاحی، اور تحقیقی پہلو سے وابستہ انسانیت کی خدمت و ترقی کے امور کو سماجی کام کہا جاتا ہے-
معاشرے میں ہر فرد کی حیثیت نمایاں اکائی کی ہے جس کے بغیر معاشرے یعنی سماج کی تشکیل ممکن نہیں ہے- سماجی کاموں کا تعلق روح اور عمرانیات کے فلسفہ سے پنہاں ہے- اگر تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھا جائے تو کائنات کی تخلیق سے ہی فلاحی سماجی کاموں کا آغاز ہوگیا تھا- پہلے ادوار میں خلا فت اور بادشاہت کا نظام ریاستوں میں قائم تھا- ریاست کی ذمہ داری میں شامل تھا کہ وہ اس میں بسنے والے افراد کی فلاح و بہبود کے لئے بہترین پلاننگ وپالیسی مرتب کرتے ہوئے عملی جامہ پہنائے

موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے سماجی کاموں میں عملی تیزی نظر نہیں آرہی ہے، عالمی اقتصادی فورم کے سروے کے مطابق 2030 تک دنیا کی آبادی بڑھ کر 8 ارب 50 کروڑ تک پہنچنے کی امید ہے-

فی زمانہ مزدور طبقہ زبوں حالی کا شکار ہے، تعلیم کا نظام طبقاتی تقسیم کے ساتھ تباہی کے دہانے پرکھڑا ہے اور اخلاقی تربیت کا فقدان سب سے نچلے درجے تک پہنچ چکا ہے

آج ایک مشتعل بھیڑ ماب لنچنگ کو اس طرح انجام دیتی ہے جیسے وہ کسی انسانی جان کو ہلاک نہیں کر رہی ہے بلکہ اپنے آقا کی رضا و رغبت کے لئے وہ عبادت کی طرح ضروری عمل ہو ورنہ ایسا خطرناک جنون کیونکر ممکن ہوتا

دوسری جانب سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعے جو نفرت پروسی جا رہی ہے اس کا مقابلہ کرنا بھی آج سماجی اصلاحی تنظيموں کی ذمہ داری ہے

آج
صاحب اقتدار پوری طرح خاموش ہے، اس کی ان امور میں عدم دلچسپی، سرد مہری اس بات کا بین ثبوت ہے

علاوہ ازیں نام نہاد سماجی کارکنوں، تنظیموں میں ذاتی مفاد ات کی جنگ ہے-
اس لئے ماجــــکو فاؤنڈیشن جیسی تنظیم کو معرض وجود میں آکر اس ذمہ داری کو انجام دینا ہی پڑے گا، سماج میں اب بھی کچھ نیک صفت لوگ موجود ہیں ورنہ قیامت آگئی ہوتی
(میرے اشاروں کو سمجھیں اوپر کے تینوں جملوں میں بڑے اشارے موجود ہیں)

اس نفرت بھرے سماج میں ایک بڑا مسئلہ صحت مند اور پائدار اشیاء کی فراہمی کا بھی ہے، دنیا میں دو ارب سے زیادہ افراد ’’مائیکرونیوٹریشن‘‘ کی کمی کا شکار ہیں اور یہ کمی بیماریوں میں اضافے اور ترقی کے لئے چیلنجز بنی ہوئی ہے-
اس کے علاوہ دو ارب لوگ موٹاپے کا شکار ہیں اور تقریباً اس سے زائد مختلف اقسام کی بیماریوں میں مبتلا ہیں

ایک اہم بات
دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ ہر ادارہ، ہر تنظیم اور ہر سماجی کارکن اپنے آپ کو عقلِ کُل کا مصداق سمجھ کر سماجی کام کا آغاز کرتا ہے

ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے نام نہاد سماجی ادارے بنا کر لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے
اس میں کوئی شک نہیں کہ
سماجی امور کی ادائیگی کے لئے فنڈز کا ہونا اشد ضروری ہے کیونکہ فنڈز سماجی کاموں کی روح ہیں، دنیا میں سماجی فلاحی اداروں کی لاکھوں شاخیں دنیا بھر میں موجود ہی، جو مختلف شعبوں میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں
لیکن
ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی ’’مانیٹرنگ‘‘کے نظام کو مربوط و فعال بنایا جائے ورنہ زیادہ تر ادارے تو سماجی خدمات کا راگ الاپتے ’’نشستن، گفتن، برخاستن‘‘ کے فارمولے پر عمل پیرا ہی نظر آتے ہیں

ان کے کام صرف کاغذی جمع خر چ کے مترادف ہوتے ہیں اور کچھ نہیں اور وہ سالانہ رپورٹس کی اشاعت اور شاندار ہوٹلوں میں نمائشی سیمینارز کی حد سے آگے نہیں بڑھ پاتے ہیں

امت مسلمہ کا شیرازہ پہلے ہی بکھرا ہوا ہےاور اس میں ان سماجی تنظیموں نے اور کاری ضرب لگانے کا کام کیا ہے

کچھ سماجی کارکن تو اپنا ایجنڈا اور ایک خاص سوچ کو پھیلانے کے لئے ’’این جی اوز‘‘ اور سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں-

انسانی حقوق کی بالادستی کے لئے آواز بلند کر نے والے سماجی کارکن بعض اوقات اسلامی تعلیمات اور ملکی سالمیت کی پالیسیوں سے بھی ٹکراتے ہوئے نظر آتے ہیں-

قارئین!
انسانیت سے پیوست ہر پہلو کی اصلاح، فلاح اور رہنمائی کے لئے جو بھی راستہ چنا جاتا ہے وہ سماجی خدمت کے زمرے میں آتا ہے
جیسے: انسان کی اخلاقی و روحانی اصلاح کے لئے مثالی تعلیم کا نظم جسے اورنیس پروگرام کہہ سکتے ہیں، دینی و عصری تعلیم کے لئے درس گاہیں، علاج و معالجے کے لئے ہسپتال و دواخانے، کھیل کود کے میدان، ریسرچ کے لئے تحقیقی ادارے

تمام سماجی کام عوام کے لئے ہی ہوتے ہیں اور جس طرح ہر کام میں کامیابی کے لئے نیت کی پاکیزگی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح خدمت خلق کے ہر شعبے میں بھی نیک نیتی ضروری ہے-

سماجی کارکنان کی ذمہ داری ہے کہ وہ انفرادی طور پر بھی مَثبت و تعمیری سوچ کو پھیلائیں اور مفادِ عامہ کے مسائل کے حل کے لئے سماجی تقاضوں کے تحت کوششیں کریں کیونکہ وہ خود بھی اس سماج کی بنیادی اکائی ہیں، اس ملک کو اپنا گھر سمجھتے ہوئے اس کی تعمیر و ترقی و حفاظت میں بھی بھر پور حصہ لیں

قوی امید ہے کہ ماجــــکو فاؤنڈیشن ایک نئی تاریخ رقم کرنے میں کامیاب ہوگی

میں دعاگو بھی ہوں کہ رب العالمين وابستگان ماجــــکو کو تمام رہنما اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *