بتیا کی عوام کو میرا سلام

افروز عالم ساحل

Asia Times Desk

میرے بیٹے ! ” اب لکھنے کی خواہش ختم ہو چکی ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ لکھنا بھول سا گیا ہوں۔ کتاب چھپوانے سے کیا حاصل؟ اردو کشی کے اس دور میں اسے کون پڑھے گا ؟ انتہائی خلوص اور تعمیری نقطہ نظر سے کی گئی ان تحریری کاوشوں کو اس منافقانہ اور عیارانہ دور میں کون دیکھے گا ؟”  

………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………….. 

اب سے کچھ دیر میں میرے استاد محترم کی کتاب ادب : عکاس حیات آپ سب کے سامنے ہوگی۔ یتیم خانہ بدریہ میں اس کے رسم اجراء کا پروگرام بس شروع ہونے والا ہوگا اور آپ تمام دانشور اس رسم اجراء کے چشم دید گواہ بنیں گے ۔

میں آپ لوگوں کے سامنے حاضر تو نہیں ہوں، لیکن مجھے امید ہے کہ میرا یہ تحریر آپ تک ضرور پہونچ جا ئےگی۔ کاش! میں اپنے شہر کے اس خاص موقع پر دو دن اور رک پاتا۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس پروگرام میں شرکت کی غرض سے انتخابات کی بے شمار بے ہنگم مصروفیات کے دوران میں بتیا آیا، لیکن حالات کچھ ایسے بن گئے کہ رک نہ سکا۔

آپ سب لوگ پروگرام میں شریک مہمان مقررین کو سن رہے ہوں گے۔ ان کے پر مغز خطاب سے استفادہ کر رہے ہون گے۔ کاش! میں بھی انہیں سن پاتا۔ میر ی دلی خواہش تھی کہ آج بتیا کے کئی مشہور ادیبوں سے مل سکوں گا ، لیکن میرے حالات موافق نہ رہے ۔

عارف بھائی، محسن اور ارشاد بھائی! خاص طور پر آپ لوگوں کو سننے کی بہت خواہش تھی۔ آپ نے اپنے لیے سب سے قیمتی کام کاانتخاب کیا ہے۔ آپ کی کاوشوں سے ایک دن پوری دنیا ایم عالم کی شخصیت ان کے علمی و ادبی کارناموں سے ضرور متعارف ہو گی اوران کے تعارف سے آپ سب بھی مستفید ہوں گے معاشرے میں  آپ کی نمایاں پہچان بنے گی۔ دنیا آپ کے اس کام لے لئے آپ کو دعائیں دے گی ۔ اللہ سے بس یہی دعا ہے کہ آپ اسی خیر جذبہ کے ساتھ خدمت میں لگے رہیں ۔

یاد رہے کہ دنیا میں ایسے لوگ بہت کم  ہوتے ہیں جو بغیر کسی شہرت یا صلے کی تمنا کیے ایک کونے میں خاموشی سے   اپنا کام کئے جاتے ہیں ۔ گدڑ ی میں چھپے ایسے لعل وگہر جتنا گم نام ہوتے ہیں  ان کا کام اتنا ہی عظیم ہوتا ہے۔ ایسے لوگ شہرت ملنے کے وقت دوسروں کو آگے کر دیتے ہیں اور کام کرنے اور پریشانیوں کو جھیلنے کے لئے سب سے آگے دوڑ پڑتے ہیں ۔  میرے استاد محترم ایم عالم بھی ایسی ہی شخصیتوں میں سے ایک تھے، جو 15 جون، 2018 کی شب اس دنیائے فانی  سے  ہمیشہ کے لئے  کوچ کر گئے۔ ایم عالم صاحب بنیادی طور پر استاد تھے۔ انھوں  نے سیکڑوں بچوں کو تعلیم سے آراستہ کیا اور انھیں عملی زندگی کے دریا میں تیرنے  کاہنر سکھایا ۔ وہ ایک مشفق ، مہربان اور بہترین استاد کے ساتھ ساتھ زبان و ادب کے ماہر بھی  تھے۔

ایم عالم صاحب  ان شخصیتوں میں سے تھے جو کام کرنا جانتے تھے۔ انھوں نے کبھی بھی  اپنی تشہیر   یا خاندان  کے بارے میں نہیں سوچا۔ وہ نام سے زیادہ کام کو ترجیح دیتے کام کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا، بلا تھکے، بلا رکے کام کرتے جاتے ۔ درس و تدریس اور تحریر و تصنیف  کے علاوہ  انھوں نے سماجی اور رفاہی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔  ان کے خاندان کے لوگ بتاتے ہیں کہ  کئی مضامین انہوں نے یوں ہی  لوگوں کو  لکھ کر دے دیا، جسے  دوسروں نے  اپنے  نام سے شائع کرا لیا اورخوب شہرت حاصل کی ۔ انھیں نام و نمود کا شوق ہی نہ تھا۔ وہ جو بھی کام کرتے  کہتے :”میں اللہ کی رضا کے لئے کرتا ہوں ، جب مجھے اللہ سے ہی سب کچھ ملنا ہے تو میں کیوں کسی کے آگے جی حضوری کروں”۔

استاد محترم پروفیسر محمد عالم کا ادبی نام ایم عالم تھا،  ان کی پیدائش ۲ نومبر ۱۹۳۱ کو ایک تعلیم یافتہ اور زمیندار گھرانے میں ہوئی تھی ۔ آپکے والد کا نام الحاج محمد محمود عالم تھا۔  آپ نے ساری عمر درس و تدریس کی خدمت انجام دی۔ آپ چمپارن کے ایم این ایم ویمنس کالج میں صدر شعبہ اردوتھے اور بتیا کے مشہور اسکول  درس گاہ اصلاحی میں پڑھایا۔

زبان و ادب سے ان کو خاص لگاو تھا، انھوں نے ۱۹۵۳ء سے افسانے لکھنا شروع کیا اور بہت جلد اپنی شناخت بنا لی ۔  لیکن جلد ہی انھوں نے اس مشغلہ کو خیر آباد کہہ دیا اوراپنے لیے تحقیق وتنقید کے میدان کو منتخب کرلیا اور  مستقل  تحقیقی اور تنقیدی مضامین لکھتے رہے۔ آپ کے افسانوں میں سماجی شعور، ذاتی احساسات وتجربات، سماج کا کرب  اور انفرادی مشاہدات کی جھلک دیکھنے کو  ملتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کچھ نام نہاد لوگ آپ کے مظامین کا سرقہ فرما کرکے صاحب کتاب ہوگئے، لیکن ایم عالم کی پہلی کتاب ‘ادب عکاسی حیات’ اب عنقریب ہی منظر عام پر آنے والی ہے۔ قارئین ان کے فن اور شخصیت سے متعارف ہو سکیں گے۔

آپ جہاں رہے، ہر جگہ اردو کی شمع روشن کی  اور زبان و ادب کے فروغ کےلئے کوششیں کرتے رہے۔ ایک استاد کی حیثیت سے مجھ جیسے ہزاروں طلبہ ان سے فیضیاب ہو ئے ہیں ۔ ان کا سب سے بڑا سرمایہ وہ نوجوان نسل ہے جس کے اندر انھوں نے اردو زبان کا ذوق اور شوق پیدا کیا اور ایک ادیب کی حیثیت سے مغربی چمپارن کے بتیا شہر  اور اس کے گرد و نواح کو  کئی ایسے ادیب  دیے جو اردو کی بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ اردو سے وابستہ ہر شخص کی آپ نے خوب حوصلہ افزائی کی، نو وارد نوجوان  شاعروں کے لیے بھی لکھ کر انہیں مشہور کیا اور انھیں آگے بڑھایا۔ لیکن  یہ  افسوس کی بات ہے کہ ان کے کسی بھی  شاگرد نے ان کے بارے  میں چند سطریں لکھنے کی زحمت گوارا نہ کی ۔

استاد محترم نے اردو ادب  کے تقریبا سبھی نثری اصناف پر طبع آزمائی کی اور بہت ساری بہترین تخلیقات اردو ادب کو دیں،  جو ہندوستان کے مختلف رسائل و جرائد میں شائع  ہو کر مقبول عام ہوئیں۔  بہار کی ادبی  شخصیات پر  انھوں نے بے شمار مضامین بہار کے مختلف اخباروں و رسالوں میں لکھا اور چھپوایا۔ اس کے علاوہ مذہب، سیاست، معاشرہ، ادب، زندگی، انقلاب، فنون لطیفہ، قومی مسائل اور بین الاقوامی حالات پر بھی آپ نے خوب لکھا۔ سچ کہیں  تو آپ کے لئے کسی صنف و موضوع کی قید نہیں رہی۔ ہمہ جہت،  مستقل مزاجی، اور کثیر  مطالعہ کے سبب ہر موضوع پر خامہ فرسائی کے لئے آپ کے پاس بھرپور مواد رہا ہے۔ایم عالم صرف اردو ادب کے ادیب ہی نہیں بلکہ اردو کے ساتھ ساتھ فارسی زبان پر بھی یکساں  گرفت تھی۔ آپ بہت اچھے مترجم بھی تھے۔ انگریزی زبان کے کئی افسانوں کو بھی آپ نے اردو و اور  فارسی زبان  میں ترجمہ کیا کئی مضامین انگریزی میں بھی تحریر کیے ۔

بتا دوں کہ آج ان کی ریلیز ہونے والی کتاب کے مرتب کوئی اور نہیں بلکہ ایم عالم کے فرزند ڈاکٹر عارف عالم ہیں۔ انہوں  نے ایم عالم کا تخلیقی سفرنامہ لکھتے ہوئے بتایا ہے کہ ایک دن والد محترم سے عرض کیا کہ میں آپ کے مضامین کو ترتیب دے رہا ہوں، آپ اپنا ادبی سفرنامہ لکھ دیجئے۔

 اس پر انہوں نے کہا،” میرے بیٹے اب لکھنے کی خواہش ختم ہو چکی ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ لکھنا بھول سا گیا ہوں۔ کتاب چھپوانے سے کیا حاصل؟ اردو کشی کے اس دور میں اسے کون پڑھے گا ؟ انتہائی خلوص اور تعمیری نقطہ نظر سے کی گئی ان تحریری کاوشوں کو اس منافقانہ اور عیارانہ دور میں کون دیکھے گا ؟”    

لیکن اس کے باوجود ڈاکٹر عارف عالم صاحب نے ان کی تحریروں کو دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے۔ مجھے کامل یقین ہے کہ اردو کے سچے عاشق اس کی قدر ضرور کریں گے۔  بتادوں کہ عنقریب ہی استاد محترم ایم عالم صاحب کی کئی کتابیں آپکے سامنے ہوں گی۔ ان میں فنون لطیفہ کی روح شاعری (مضامین کا مجموعہ)، گردش ایام (انشائیوں کا مجموعہ)، سمجھوتہ (افسانوں کا مجموعہ)، اوپندرناتھ اشک حیات اور افسانے (تحقیق)، مقالات ایم عالم (مقالہ)، عندلیب چمپارن (مضامین کا مجموعہ)، آج کے بچے کل کے شہری اور معمار ملک و ملت (بچوں کے مضامین کا مجموعہ)، معزور شہزادی (انگریزی کہانی کے ترجمے کا مجموعہ) اور بتیا جو ایک شہر ہے عالم میں انتخاب (خاکہ، انٹرویو، تاثر اور رپورٹ کا مجموعہ) کا نام خاص ہے۔

اس پروگرام کی کامیابی کے تمناوں کے ساتھ

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *