انڈیا اسلامک کلچرل سینٹرالیکشن : سینٹر کا دستور ہی میرا منشور ہے / عارف محمد خان

 عارف محمد خان نے اردو میڈیا سے کی گفتگو ؛ آنے والی 6 جنوری کو ہوگی پولنگ ، ووٹنگ کی گنتی 7 جنور ی کو

Asia Times Desk

نئی دہلی : (ایشیا ٹائمز ) انسانی زندگی میں معاف کردینے اور معافی مانگ لینے کے ساتھ ساتھ خود احتسابی کا عمل انتہائی قابل تحسین سمجھا جاتا ہے ۔ اگراس جذبے کا بروقت استعمال کیا جائے تو یہ بڑے سے بڑے مسائل کا سامنا کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔ اسی احتسابی جذبے کا بروقت خوبصورت استعمال انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے صدارتی امیدوار سابق مرکزی وزیر عارف محمد خان نے آج اپنی دانشوارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے صحافیوں کے سامنے کیا ۔

ادارہ اپنے طے شدہ مقاصد سے بھٹک گیا ہے

 انہوں نے حوض خاص واقع اپنی رہائش گاہ پراردو صحافیوں سے گفتگو کا آغاز ہی اس بات سے کیا کہ مجھے یہ افسوس ہے کہ میں نے ابھی تک انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے اغراض و مقاصد  کا بغور مطالعہ کیوں نہیں کیا؟ گزشتہ دنوں جب میرے احباب نے مجھے انتخاب میں اترنے کے لیے ابھارا تو سب سے پہلے میں نے اغراض و مقاصد کا مطالعہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ میں نے پایا کہ یہ ادارہ اپنے طے شدہ مقاصد سے بھٹک گیا ہے اس کا بنیادی مقصد اسے ایک قومی سطح کا تھنک ٹینک بنانا تھا جو بدقسمتی سے ایک کلب بن کر رہ گیا ہے ۔ اس کا اصل کام تو ہندوستانی معاشرے کو باہم مربوط کرنا تھا ، اسلام کے بارے میں پیدا غلط فہمیوں کے ازالہ کی کوشش اس کی ترجیحات  ہونی چاہئے تھیں ، ان موضوعات پر مطالعے کی سہولت ہوتی ریسرچ جرنلس کی اشاعت ہونی چاہئے تھی ، لیکن افسوس کہ ایک نیوز لیٹر بھی یہاں سے شائع نہیں ہوتا ۔  جبکہ اسے  ہندوستانی مسلمانوں کا تھنک ٹینک بن کر عالمی نقشے پر ابھرنا تھا ۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ امانت میرے حصے میں آئی تو میں سوسائٹی کے دستور میں درج  بنیادوں پر ضرور کام کروں گا ، سوسائٹی کا دستور ہی میرا انتخابی منشور ہے ۔  میں اس بات سے اختلاف نہیں کرتا کہ یہاں ریستوراں اور کلب نہیں ہونا چاہئے یہ ایک سہولت ہے لیکن سینٹر ہی کلب بن جائے مجھے یہ منظور نہیں ۔

خان صاحب نے اپنی دانشورانہ مہارت سے بہت سے سوالات اٹھنے سے قبل ہی دبادیے

گویا اس طرح انہوں نے خود پر تنقید کے ذریعے بہت سے سوالات اٹھنے سے قبل ہی دبادیے، یہ ان کی دانشورانہ مہارت تھی ، لیکن پھر بھی صحافیوں کی اس محفل میں کئی اہم سوالات آئے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ میں نے ابھی تک اس سینٹرکی جانب توجہ نہیں دی تھی ، یہاں کی سرگرمیوں میں میری دلچسپی کبھی نہیں رہی اس لیے اس کا ذمہ دار میں خود بھی ہوں ، میں کسی پر الزام تراشی میں یقین نہیں رکھتا ، اور نہ ہی میں موجودہ صدر کے بارے میں کچھ کہنا چاہوں گا میری انتخابی مہم پوری طور پر مثبت بنیادوں پر ہوگی ۔

کچھ لوگ مجھے سیاسی کہہ کرتنقید کرتے ہیں، جبکہ مجھے سرگرم سیاست سے الگ ہوئے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے ۔ تین طلاق پر اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے موصوف نے کہا جو بات میں نے 1986 میں کہی تھی تب جن لوگوں نے مسترد کر دیا تھا اب وہی لوگ اس کی مہم چلا رہے ہیں ۔

میرے رہتے اسلامک سینٹر کو کبھی بھی اقتصادی دشواری پیش نہیں آئے گی

ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ میری سبھی سرگرمیاں سینٹر کے دستور کے مطابق ہوں گیں میرے ذاتی نظریات اسلامک سینٹر کے نظریات نہیں ہوں گے ۔ ہم اس ادارے کو مرکزی ادارہ بنانےکی پوری کوشش کریں گے۔ لوگ یہ بھی جان لیں کہ میرے رہتے اسلامک سینٹر کو کبھی بھی اقتصادی دشواری پیش نہیں آئے گی مجھے ملک کے ایسے کئی بڑے اداروں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آپ جب شروعات کریں گے ہم آپ کے ساتھ ہوں گے ۔

البتہ جو لوگ اسلامک سینٹر کی توسیع کی گمراہ کن بات کر رہے ہیں وہ شاید یہ نہیں جانتے کہ آئندہ پانچ برس تک کوئی توسیع ممکن نہیں اتنا وقت تو اجازت نامے حاصل کرنے میں چلے جائیں گے ۔ انہوں نے الیکشن پر بے تحاشہ خرچ کو بھی روکنے کی بات کی اور کہا کہ اگر مجھے موقع ملا تو میں ضابطے میں ترمیم کے ذریعے اصراف پر کنٹرول کرنے کی کوشش کروں گا تاکہ ہمارا ہر رکن الیکشن لڑ سکے ۔ یہ بھی یاد رہے مجھے کوئی گروپ یا فرد گمراہ نہیں کر سکتا میں ہمیشہ اپنے ضمیر کی سنتا ہوں ۔

میں نے کوئی پینل تشکیل نہیں دیا ہے  

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ آپ تو کہتے ہیں کہ میں نے کوئی پینل تشکیل نہیں دیا ہے میرا کوئی پینل نہیں ہے اور دوسری جانب کچھ لوگ خود کو آپ کے پینل کا حصہ بتا رہے ہیں ؟ اس پر انہوں نے کہا کہ میرا کوئی پینل نہیں ہے ہاں احباب مجھے سپورٹ کر رہے ہیں ، اور مجھے ان کا سپورٹ لینے میں کوئی پریشانی نہیں ہے  ،  یہاں انہوں نے ذرا نرم رخی کا مظاہرہ کیا ہے ، یہ ان کی سیاسی حکمت عملی ہو سکتی ہے ۔ وہ اس بات کے بھی خلاف ہیں کہ ان الیکشن کی مہم میں ڈنر پر میٹنگیں ہوں۔

جناب کا دوٹوک انداز

جناب کا دوٹوک انداز، گفتگو میں راست بازی اور سادگی کا مظاہرہ تو یہ بتا رہا ہے کہ عارف صاحب آس پاس کے حالات سے متاثر ہوئے بغیر بذات خود چیزوں کو جانتے اور سمجھتے ہیں اورپھر غور وفکر کرنے کے بعد  اس پر اپنا فیصلہ لیتے ہیں، لیکن وہ بدلتے ہندوستان میں الیکشن کی روایتی مہم  ‘ سام ،دام ،دنڈ ،بھید ‘ سے  جنوری کی 6 تاریخ تک خود کو کیسے بچا ئے رکھ سکیں گے؟  انتخابی مہم زور پکڑنے کے بعد نت نئے ابھرنے والے تنازعات سے اپنا دامن بچاکر اس خاردار وادی سے کیسے نکل پائیں گے یہ تو 7 جنوری کی شام تک ہی معلوم ہو سکے گا ۔

خان صاحب اپنی انتخابی مہم کا وقار مجروح ہونے سے ضرور بچائیں

 البتہ ہم توقع کرتے ہیں کہ خان صاحب اپنی انتخابی مہم کا وقار مجروح ہونے سے ضرور بچائیں گے اور منفی سیاست سے خود کو الگ رکھیں گے ۔ یہی توقع کی جاتی ہے کہ دونوں صدارتی امیدوار الیکشن کو دوستانہ ماحول میں لڑیں گے ، ایک دوسرے کے تئیں ہمیشہ احترام ملحوظ رکھیں گے۔  الیکشن مہم میں ہونے والی تقریروں میں ایک دوسرے پر سیاسی الزامات عائد کرتے وقت زبان کے استعمال میں بھی وقاربرقرار رکھیں گے ۔ کیونکہ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹرملک کا ایک باوقار ادارہ ہے اس کا الیکشن باوقار ماحول میں انجام پائے۔ ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *