وہ شاخ ہی نہ رہی جو تھی آشیاں کے لیے

ضیاء الرحمن اصلاحی

Asia Times Desk

تاثرات بہ رحلت استاذگرامی مولانا محمد ایوب اصلاحی

30 جون 2018ء کومدرسۃ الاصلاح پر قدما کا سلسلہ مولانا کی رحلت پر تمام ہوا، کان استاذ محترم کے نام سے بچپن سے ہی آشنا تھے جب ان کا سراپا بھی نہیں دیکھا تھا، ان کے گھر سے بالکل قریب ابوجان کا نانیہال ہےاور ابو سے مولانا کاخاصا تعارف بھی تھااس لیے گھر میں کبھی کبھی مولانا کا ذکر خیر آہی جاتا تھا، ان کے ساتھ ان کے فرزند ارجمند استاذ اجمل ایوب اصلاحی کا نام بھی ضرور آتا تھاجس سے مجھے یہ بات سمجھ میں آتی تھی یہ لوگ کچھ خاص قسم کے ہیں، مولانا کا باقاعدہ دیدار مدرسۃ الاصلاح پر داخلہ مل جانے کے بعد  ہی ہوا۔

ابتدائی مراحل تھے، ذہنوں میں اس عمر میں شرارتیں انبار کی صورت بھری ہوتی ہیں، طلبہ اپنے معززاساتذہ کو ان کے خصائل حمیدہ کے علی الرغم ان کےعرفی ناموں سے انہیں یاد کیا کرتے ہیں ، مولانا کی بہ ظاہر درشت شخصیت سے خوف بھی آتا تھالیکن جب ان کے سامنے زانوے تلمذ تہ کرنے کا شرف حاصل ہوا تو سب خوف جاتا رہا اور رفتہ رفتہ ان کی شوخ ومتین شخصیت میں دل کشی محسوس ہونے لگی۔

مولاناکی کتاب متاع قلم طباعت ہو کر آچکی تھی لیکن مجھے دستیاب نہ تھی, میں چھٹی پر گھر گیا تو پتہ چلا کہ مولانا اپنی “متاع قلم” “ضرورت مندوں” کو مفت عنایت کر رہے ہیں,گرتا پڑتا پہنچا کہ کہیں خیرات بٹ نہ جائے, لیکن خیر رہی کہ بہت کچھ باقی تھا اور یہ بھی معلوم  تھا کہ عرض مدعا کے بغیر کچھ ملنے والا نہیں ہے، ناچار ہاتھ پھیلا دیے اور مراد برآئی۔  مولانا بہت رقیق القب شخصیت کے مالک تھے، میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی وہ ہم طلبہ کو خطاب کرتے تو نہ جانے کیا سوچ کر ان کا گلا رندھ جاتا، ہمیں تو بس یہی سمجھ میں آتا کہ ہماری محبت انہیں رلا رہی ہے اور حقیقت بھی اس کے برعکس نہ تھی، مولانا احتشام الدین اصلاحی مرحوم مولانا کو اپنا دست راست اور صائب الراے دوست کہا کرتے تھے, مولانا گھر جاکر بعد عصر گاؤوں میں ابونافع صاحب کے دروازے پرتشریف فرما ہوتے اور ان کے چاہنے والے انہیں گھیرے رہتے، ایک دفعہ ان کے گاؤوں کے ایک غیر مسلم بزرگ سے مولانا کے متعلق بات ہورہی تھی تو انہوں نے مجھ سے کہا میں نے مولوی صاحب کو کسی کی غیبت کرتے نہیں سنا اور اگر ان کی محفل میں  ایسی بات ہونے لگتی ہے تو وہ اٹھ کر چلے جاتے ہیں، مولانا جس مسجد میں نماز پڑھتے تھے اسی میں ان کے آگے کھڑے ہوکر دو سالوں تک رمضان میں عشاء اور تراویح کی نمازیں پڑھانے کی سعادت بھی ملی اور انکی اصلاح سے فیض بھی۔

میں ان دنوں گھر پر ہی تھا جب مولانا کی طبیعت بہت خراب ہوگئی تھی ، ان کے تمام اہل خانہ ان کے پاس جمع ہوگئے تھے اور مولانا کو بہتر علاج کی خاطر دہلی لے جانے کی تیاری ہو رہی تھی یہ میری سعادت تھی کہ میں مولانا کو آخری بار دیکھنے اور ان سے ملنے کے لیے گھرپر ہی موجود تھا، خبر ملتے ہی فوراََ حاضر ہواتیمارداری کی ،کچھ دیر ساتھ رہنے کے بعد اجازت لے کر رخصت ہوا، مولانا جب تک دہلی میں رہے میں عزیزی علم اللہ اصلاحی سے ان کی خیر وعافیت دریافت کرتا رہا ۔

زمانۂ طالب علمی میں مولانا سے براہ راست بے شمار آداب زندگی سیکھنے کو ملے، میرے ہم سبق فضل الرحمن ظلی سے ان کے ظریفانہ مراسم رہتے تھے، ایک مرتبہ میرے ایک ہم سبق کودیکھا کہ وہ اپنی ناک سے بال اکھاڑ رہے ہیں تو ان کو نصیحت کی کہ “ناک کے بال کو اکھاڑا نہیں کرتے” بہ ظاہر یہ بالکل سادہ سی بات ہےلیکن اس میں جو محاورہ ہے اس کی معنی آفرینی  سے کون کافر انکار کرسکتا ہے، ایک دفعہ مولانا نے دوران درس پانی طلب کیا،جب پانی دینے والے نے گلاس پیش کیا تو نصیحتاََ فرمایاکہ اپنے سے بڑے کو گلاس پیش کرتے وقت خود گلاس کے نچلے حصے کو پکڑ نا چاہیے، اسی طرح اگر کسی اجنبی کو قلم دینا ہو تو ڈھکن الگ کر کے دینا چاہیے اور اپنے بزرگ کو دینا ہو تو قلم کو لکھنے کی حالت میں لا کر دینا چاہیے۔

مدرسہ پر کسی انعامی مقابلہ میں مجھے  دوسری پوزیشن ملی تھی ، تقسیم انعامات کی تقریب میں مولانا بھی موجود تھے ، میرا نام لیا گیا اور جب میں نے انعام(تفسیر نظام القرآن)  حاصل کیا تو مولانا بے حد خوش ہوئے اور دیہاتی زبان میں فرمایا “چلا کیہو ہمریہو اور کا پائس” مولانا انجمن طلبۂ مدرسۃ الاصلاح کے صدر رہے، مجھے بھی ان کے سایۂ عاطفت میں کام کرنے کا موقع ملا ،مولانا کے طرز تدریس کے مداح ان کے تمام تلامذہ ہیں جن میں حسن اتفاق سے میں بھی ہوں۔ قرآن مجید کی آیت “وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَٰذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَٰذَا لِشُرَكَائِنَا ۖ فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَائِهِمْ ۗ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ”کی تشریح میں تمثیل کے ذریعہ بالکل دیہاتی زبان میں کچھ اس طرح سمجھایا “مان لا دوی کورا لگا، ایک ٹھو اللہ میاں کا اور ایک ٹھو ان کے بھگوان کا، اب اگر کونو میں سے بطخ کھائے گئی یا مرگی چھنٹ دیہس  تو اگر اللہ میاں میں سے کم بھوا تو کونو بات ناہیں اور ان کے میں سے کھائس تو ام میں سے نکار کے اوکا پورا کرت رہن”ایسی تشریح جو ذہن میں راسخ ہوکر رہ گئی اور اگر اردوے معلیّٰ کی بھینٹ چڑھی ہوتی تو شاید اس وقت اس آیت کریمہ کے مطالب ہو ا ہوگئے ہوتے۔

اسی طرح آیت “إِنَّ قَارُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيْهِمْ ۖ وَآتَيْنَاهُ مِنَ الْكُنُوزِ مَا إِنَّ مَفَاتِحَهُ لَتَنُوءُ بِالْعُصْبَةِ أُولِي الْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُ قَوْمُهُ لَا تَفْرَحْ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ” کی تشریح کرتے ہوئے اس کے خزانوں کے ثقل مفاتیح اور ان کی صورت کی وضاحت میں ہم طلبہ سے پوچھا”بینوڑا جانا تھیا”ہم لوگوں نے نفی میں سر ہلا دیا، تو فرمایا”دفتروا میں دیکھے ہا دروجوا کے پچھوا لمبی کے لکڑی لگائی جاتھی بن کر ت کے اوہے بینوڑا ہے”تب جا کر سمجھ میں آیا کہ قارون کے خزانوں کی چابیاں کیسی رہی ہوں گی۔

یہ اور اس طرح کے ان گنت طرز ہاے دل ربائی ہیں جن کی یاد زبان وادب کے ان بالاخانوں تک لے جاتی ہے جن کے روشن دانوں میں سورج کی کرنیں بھی احترماََ آہستہ خرامی سے داخل ہوا کرتی تھیں۔

درجہ عربی اول میں داخلہ کے لیے میرا اردو زبان کا امتحان مولانا نے ہی لیا تھا، پڑوسی گاؤں کا ہونے کے ناطے کچھ بے تکلفی بھی رہی لیکن پاس کردیا، پھر درجہ عربی چہارم اور پنجم میں ان سے کسب فیض کا زریں عہد فراہم رہا ، مدرسہ پر مولانا امین احسن اصلاحی کی رحلت کے بعد ان کی حیات وخدمات پرسمینار طے پایا، میں نے مولانا اصلاحی کی شان میں نالۂ فراق لکھ کر استاذ محترم کو دکھایا، بہت پسند فرمایا اور بعض الفاظ کے ردوبدل اور بعض فارسی تراکیب کے رموز سمجھائے، گویا اردو سیکھنے کے لیے فارسی کی ضرورت کی طرف راغب کیا اور میں نے دل چسپی لے کر کچھ فارسی سیکھی بھی، نظم سیمنار میں پیش کی گئی اور باوجود مختصر ہونے کے عرض مدعا کے اعتبار سے بہت پسند کی گئی ، خالد مسعود صاحب مرحوم نے بیسیوں بار مجھ سے اس نظم کو سنا اور لے جا کر “تدبر” لاہور میں شایع بھی کردیا، میں نے اپنے دوست سعود احمد “سرہی خورد”کی شادی پر ان کا سہرا بھی لکھا اور درجہ میں مولانا کو دکھایا ،سب کےسامنے مولانا نے اس میں سے کچھ اشعار پڑھے اور میری خوب حوصلہ افزائی کی۔

میں انجمن طلبۂ مدرسۃ الاصلاح کا ذمہ دار منتخب ہوا، لائبریری کی سالانہ افتتاحی تقریب میں مہمانوں کو مدعو کرنے  کی بات چل رہی تھی، مولانا نے اچانک مجھ پوچھا” کون کون سے اساتذہ رہیں گے”، میں نے کہا “اساتذہ تو سارے کے سارے رہیں گے” اس جواب پر مولا نا بے حد محظوظ ہوئے، کہنے لگے “آپ نے یہ رشتہ کب سے پیدا کیا ہے؟” میں اپنی اس فصاحت پر شرمندہ ہوئے بغیر نہ رہ سکا، لیکن یہ سیکھ ضرور آئی کہ اس طرح کے کلمات گستاخی شمار ہوتے ہیں، خاک ساری کا یہ عالم تھا کہ مدرسہ کی مسجد میں طلبہ کی الوداعی تقریب منعقد تھی مولانا آکر ہم طلبہ کے ساتھ بیٹھ گئے، مولانا محمد ناصر اصلاحی جامعی مرحوم اٹھے اور مائیک میں فرمایا”جاے صدر ایں جاست”اور مولانا کو کرسی پر تشریف فرما ہونے کی دعوت دی، مجھے مولانا کے گھر پر ان کے ساتھ عید کی سوئیاں کھا نے کا بھی شرف حاصل ہے اور یہ استاذ کی نگاہ التفات  ہی کا کرشمہ ہے کہ مجھے اپنے اندر چھپے ہوئے شاعر کو پہچاننے کی توفیق نصیب ہوئی اور پھر ریاضت کا باقاعدہ دور چل پڑا۔

مولانا کے ذکر خیر کے لیے شبانہ روز کی خامہ فرسائی بھی کم ہے، ایسے قیمتی ورثہ کے ختم ہوجانے کے غم میں بس دل سے یہی آواز آتی ہے:

جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں

کہیں سے آب بقاے دوام لے ساقی

رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ وتغمدہ بواسع رحمتہ واسکنہ فی فسیح جناتہ، آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *