دنیا کی 50 ہزار عورتيں اہل خانہ کے ہاتھوں قتل: رپورٹ

Asia Times Desk

سن 2017 کے دوران دنيا بھر ميں تقريباً پچاس ہزار عورتوں کو ان کے شوہروں، پارٹنرز يا ديگر اہل خانہ نے قتل کيا۔ يہ انکشاف منشيات و جرائم کے انسداد کے ليے سرگرم اقوام متحدہ کے دفتر (UNODC) نے پير آٹھ جولائی کو آسٹريا کے دارالحکومت ويانا سے جاری کردہ ايک رپورٹ ميں کيا گيا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سن 2017 ميں پر تشدد کارروائيوں يا جرائم کے نتيجے ميں ہلاک ہونے والی عورتوں کی تعداد 87,000 رہی۔

اس رپورٹ کے مطابق کئی کيسز ميں عورتوں کا ان کے اس وقت کے پارٹنرز، سابق پارٹنرز، والد، بھائيوں، ماؤں، بہنوں اور ديگر اہل خانہ کے ہاتھوں قتل ہوا۔ يہ امر اہم ہے کہ شوہروں يا پارٹنرز کے ہاتھوں قتل کے کيسز ميں واردات عموماً اچانک رونما نہيں ہوئی بلکہ عليحدگی کے خوف، حسد، شک اور ديگر وجوہات کی بناء پر طويل جھگڑے کے بعد ہی ايسی کارروائی سامنے آتی ہے۔ ايسے کيسز ميں ديکھا گيا ہے کہ عورتيں قتل سے قبل تسلسل کے ساتھ تشدد کا شکار بھی بنتی ہيں۔

عورتوں کے خلاف تشدد معاشرے ميں پائے جانے والے دقيانوسی خيالات اور ‘مرادنگی‘ کے تصور کے سبب پايا جاتا ہے۔ رپورٹ مرتب کرنے والے محققين کے بقول ايسے معاشروں ميں مرد عموماً سمجھتے ہيں کہ وہ جب چاہيں اپنی بيويوں کو جنسی عمل پر مجبور کرنا يا بيويوں پر زور چلانا ان کا حق ہے۔

ڈی. ڈبلیو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *