آبادی کےعالمی دن پر’جولین سائمن’ کی دلیل کو عام کیا جانا چا ہئے

اشرف علی بستوی

Asia Times Desk

سب سے بڑا مسئلہ آبادی نہیں وہ ناعاقبت اندیش سیاست داں ہیں جو تمام تر وسائل پر قابض ہیں

عالمی سطح پر انسانی آبادی کو بڑھنے سے روکنے پر بڑے پیمانے پر بحث ہوتی ہے ، خاص طور سے ترقی پذیر ممالک کو یہ خوف کچھ زیادہ دلایا جاتا ہے انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ بڑھتی آبادی کے تناسب سے آپ کے وسائل  بہت محدود ہیں اور نئے وسائل تیزی سے پیدا نہیں ہورہے ہیں گویا آبادی پر قابو پانا ہی اس کا واحد حل ہے ۔

اس بارے میں اکثر ہندوستان کو عالمی سطح پر ہونے والی میٹنگوں میں ترقی یافتہ ملکوں کا طعنہ سننا پڑتا ہے  اور پھر وہی طعنہ ہندوستان کی سیاسی قیادت اپنے ملک کے شہریوں کو دیتی ہے انہیں خوفناک حالات سے خبردار کرتی رہتی ہے۔

ایک زمانے میں دیواروں پر ‘ہم دو ہمارے دو’ کا نعرہ بھی خوب مشتہر کیا گیا تھا ۔ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے تو اس معاملے میں شہریوں کے ساتھ بے حد برا برتاو کیا تھا ۔

جبکہ اس سوال کا جواب انگریز ماہر اقتصادیات  جولین سائمن نے بہے بہت پہلے 1981 میں دنیا کو دے دیا تھا ۔ لیکن سائمن کی جدید اقتصادی تھیوری پر رابرٹس تھامس  میلتھسں کی 1798 کی پرانی دلیل ہی حاوی رہی اور آج بھی اس کی وسائل کی کمی کو بڑاھا چڑھا کر ہیش کیا جا رہا ہے ۔

https://study.com/academy/lesson/julian-simons-theory-of-population-growth-biography-comparisons.html

سب سے پہلے  سائمن کی دلیل سمجھنے کی ضرورت ہے ، سائمن کا واضح طورپر کہنا ہے کہ آبادی بڑھنے سے غریبی نہیں بڑھتی ، اس بات کو سائمن نے اپنی ایک کتاب ‘دی الٹی میٹم ریسورس ‘ میں درج کیا ہے ، اس میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں جب جب آبادی بڑھی ہے .

Image result for thomas robert malthus
رابرٹس میلتھسں

اسی دوران نے دنیا میں ترقی کے وسائل بھی بڑھے ہیں ، پیداوار کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس بات کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1798 میں میتھلس کے دور میں دنیا کی آبادی ایک ارب تھی اور آج 7اعشاریہ 7 ارب لوگ دنیا میں جی رہے ہیں ان کی دلیل ہے کہ اب زیادہ تر لوگ بہتر زندگی جی رہے ہیں ۔ پہلے بہت اچھی زندگی بہت کم لوگوں کو میسر تھی ۔

جب ہم وسائل کی بات کرتے ہیں کہ تو ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ انسان خود ہی ایک بہترین وسائل ہے ، اسے قدرت نے بے پناہ صلاحیت کے ساتھ دنیا میں بھیجا ہے ، قرآن نے اسے اشرف المخلوقات کہا ہے ، ہر انسان جس طرح اپنے چہروں اور جسم کی ساخت سے دوسروں سے الگ ہی وہ اپنی ایک الگ صلاحیت لیکر دنیا میں پیدا ہوا ہے یہاں اسے اسی صلا حیت کی پہچان کرنی ہے اوراسے بروئے کار لانا ہے ، انسان کو اس کی اپنی صلاحیت سے روبرو کرانے کے لیے اس کاعلم حاصل کرنا ضروری ہے ۔

https://www.worldometers.info/world-population/

سائمن کی دلیل سے یہ تشویش بے معنیٰ ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ آبادی ایک بڑا مسئلہ ہے ، آبادی کو مسئلہ بنا کر پیش کرنا مناسب نہیں بلکہ انسانی وسائل کی ترقی کی فکر کیجیے اقتصادی ترقی خود بخود ہوتی چلی جائے گی ۔

دراصل سب سے پہلے دنیا میں آبادی کو مسئلہ بناکر پیش کرنے والےتھامس  میلتھسں ہیں ،اور آج تک ان کی وہی تھیوری دہرائی جارہی ہے ، میتھلس نے 1798 میں ایک کتاب لکھی اس کتاب کا نام ہے ‘ این ایس سےآن دی پرنسپل آف پاپولیشن ‘  انہوں نے اس کتاب میں آبادی کو دنیا کے سامنے سب سے بڑا مسئل بنا کر پیش کیا اور دنیا کو وسائل کی کمی کا خوف دلانے کاکام کیا ان کی اس فکر کو چہار جانب پھیلایا گیا لیکن سائمن کی تحقیق کو اس کے مقابلے میں جگہ نہیں دی گئی ۔ میتھلس کا ماننا تھا کہ ہماری ابادی جس تیزی سے بڑھے گی مادی وسائل کی ترقی کی رفتار بہت کم ہوگی اس سے عدم توازن بڑھے گا وسائل کی تقسیم میں لوگوں کی حصےداری کم ہوتی چلی جائے گی اور ایک دن آئے گا کہ دنیا بڑھتی آبادی کے بوجھ تلے دب جائے گی ۔

Image result for julian simon view on population
جولین سائمن

تھامس  میلتھسں کی تھیوروی کو بعد میں آنے والے  محقققین نے بھی اسی شدت سے آگے بڑھایا ، ان مصنفین نے ہندوستان کی حکومت کو خبردار کیا کہ 1980 تک ہندوستان میں 20 کروڑ لوگ بڑھ جائیں گے تب یہ صورت حال بہت  خطرناک ہوگی لوگوں کی بھوک کیسے مٹے گی ؟ جبکہ ایسا کوئی اندیشہ سچ ثابت نہیں ہوا۔ میتھلس کی تھیوری درست ہوتی تو وقت کے ساتھ ساتھ  اشایئے خورد ونوش کی پیداوار کم ہوگئی ہوتی .

لیکن اس درمیان زمینوں میں اناج پیدا کرنے کی طاقت بڑھی ،ہر خاص وعام کی رسائی قوت خرید بڑھی ہے ۔ لیکن اج بھی سائمن کی تھیوری کو سمجھنے کے بجائے ہمارے سیاست داں  میتھلس کی منفی تھیوری کو ہی اپنی گفتگو میں لاتے ہیں اس کا بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ عوام میں وسائل کی کمی کا خوف کا ماحول پیدا کیا گیا جس کا بڑا نقصان یہ ہوا ہے  کہ لوگ مادر رحم میں ہی بچوں کو قتل کررہے ہیں ۔ بچوں کو دنیا میں آنے سے ہی روک دے رہے ہیں ، دراصل ہندوستان کا سب سے بڑا مسئلہ آبادی نہیں وہ ناعاقبت اندیش سیاست داں ہیں جو تمام تر وسائل پر قابض ہیں ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *