اردو کی عالمی کانفرنس اور اہل اردو

ڈاکٹر مظفرحسین غزالی

Asia Times Desk

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی پانچویں عالمی اردو کانفرنس کااختتام’’ میں اردو ہوں‘‘ ڈرامہ کی پیشکش کے ساتھ ہوا۔ اس ڈرامہ میں اردو کے بسنے اجڑنے کی جھنجھوڑنے وآئینہ دکھانے والی کہانی کو تاریخ کی روشنی میں پیش کیاگیا۔ ڈرامہ سامع کو نہ صرف اپنے ساتھ جوڑے رکھتا ہے، بلکہ اس میں فطری طورپر اردو سے محبت اور ہمدردی پیدا کردیتا ہے۔ اس میں جن مسائل کواجاگر کیاگیا ہے وہ اہل اردو کو اپنے رویہ پر سوچنے کیلئے مجبور کرتے ہیں۔ مثلاً اردو بھارت میں پیدا ہوئی، یہیں پل بڑھ کر جوان ہوئی، ہندی، سنسکرت سے اس کا ماں بیٹی کا رشتہ رہا۔ اس نے اپنی اصناف کے ذریعہ سماج اور ملک کی تہذیب کو سنوارا۔ فلمی دنیا کو اس نے الگ الگ رنگوں سے سجایا لیکن اسے کہا گیا ہندی سنیما۔ بول چال میں اردو کا چلن ہے،
اسے گاندھی جی ہندوستانی کہتے تھے، عرف عام میں اسے ہندی کہاجاتا ہے۔ یہی وہ زبان ہے جس نے آزادی کے نغمے گائے، انقلاب زندہ باد کا نعرہ دیا، آزادی کے متوالوں کے آگے، کبھی ساتھ ساتھ چلتی تو کبھی ان کی پشت پناہی کی۔ آزادی کے بعداسے پڑوسی ملک کی زبان بتاکر نظرانداز کیاگیا۔ پھر ووٹ کی خاطر اسے ایک مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ جوڑا گیا جبکہ یہ ملک کے عام لوگوں کی زبان تھی اور ہے۔ اس مذہب کے لوگوں نے بھی دل سے اسے نہ اپناکر اپنے مدرسوں تک محدود کردیا۔ روزگار سے ناطہ ٹوٹنے کی وجہ سے اردو اپنے آبائی گھر سے بے دخل ہوگئی۔ البتہ یہ زبان کچھ لوگوں کیلئے مالی منفعت کا ذریعہ بنی۔ انہوں نے اسے خوب لوٹا اور اپنی جیبیں بھریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا اوڑھنا، بچھونا، کھانا، پینا ہوائی سفر، تمام عیش وعشرت، عزت وشہرت سب اردو کی بدولت ہے۔ لیکن اپنے بچوں کو وہ اردو سے دوررکھتے ہیں۔ حد تویہ ہے کہ وہ اردوکا اخبار یا رسالہ تک اپنے گھر نہیں منگاتے۔ بقول طاہر فراز ؂
زندہ رکھنا ہے اگر اپنی تمہیں کتابیں
بچوں کو گھروں میں ہی سہی اردو پڑھالو
عوامی زبانیں اپنے علاقے بدلتی ہیں لیکن خواص کی زبانیں دھیرے دھیرے محدود ہوکر دھیرے دھیرے موت کی دہلیز پر پہنچ جاتی ہیں۔ ایک وقت ایسا آتا ہے جب ان کے جاننے والے تلاش کرنے پر بھی نہیں ملتے۔ سنسکرت کے ساتھ کچھ یہی معاملہ ہوا۔ سرکار اور سماج کی لاکھ کوششوں کے باوجود وہ زبان عوام کے قریب نہیں آپارہی ہے۔ اردو کیوں کہ رابطہ کی غرض سے لشکروں کے درمیان پیدا ہوئی۔ اس لئے اس کا شروع سے ہی مزاج عوامی رہا۔ باوجود ناانصافی اور اردو کو ختم کرنے کی لاکھ کوششوں کے وہ اپنی کالونیاں بدلتی رہی۔ اردو لکھنؤ، دہلی سے نکل کر مہاراشٹر، کرناٹک، تمل ناڈو، بنگال، اڑیسہ میں اپنی جگہ بنائی۔ اتنا ہی نہیں دنیا کے مختلف ممالک کے لوگوں کو اردو نے اپنے ساتھ جوڑا ہے۔ وہاں کی انجمنیں فروغ اردو کیلئے انتہائی فعال طریقے سے کام کر
رہی ہیں۔ عالمی اردوکانفرنس میں غیر ملکی مندوبین کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے۔
اردو کی پانچوں عالمی کانفرنسیں دہلی میں منعقد ہوئیں جبکہ ہندی والے اپنے بین الاقوامی اجلاس ملک کے مختلف حصوں اور دنیا کے الگ الگ ملکوں میں کرتے ہیں۔ اس سے ایک طرف مقامی لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور دوسری طرف زبان کی ترقی کا ماحول تیار ہوتا ہے۔ قومی کونسل کو اس بارے میں غور کرنا چاہئے اور حکومت کو اس کی تجویز بھیجنی چاہئے۔ اردو اور ہندی کے مشترکہ اجلاس کے بارے میں بھی سوچا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ دونوں زبانیں ایک دوسرے کوپورا کرتی ہیں۔جبکہ سیاسی وجوہات سے انہیں ایک دوسرے کے دشمن کے طورپر پیش کیاجاتاہے۔ قومی زبان ہونے کے باوجود ہندی والے اس کی عدم قبولیت کو لے کر فکر مند ہیں۔ کئی ریاستوں کے لوگ تو ہندی بولنے تک کو تیارنہیں ہیں۔ لیکن اردو کے ساتھ ان کا رویہ بھی دوستانہ ہے۔
عالمی اردوکانفرنس میں مرکزی وزراء کی عدم شرکت پر سوال پیدا ہونا فطری ہے۔ کانفرنس ’’اردو زبان، ثقافت اور موجودہ عالمی مسائل‘‘ کے زیر عنوان تھی۔ یہ موقع تھا جب حکومت عالمی مسائل کے تعلق سے اپنی سوچ کو دنیا کے سامنے رکھ سکتی تھی۔ ساتھ ہی زبان پر ثقافت کے حوالے سے بات کرکے اہل اردو کو اپنے قریب کرسکتی تھی لیکن مرکزی وزراء کے کانفرنس میں نہ آنے سے کونسل اور سرکار کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہ ہونے کا شک ہوتا ہے۔ یا پھر اردو زبان کولے کر حکومت کا ذہن صاف نہیں ہے۔ ایسا لگتاہے کہ شاید حکومت اردو کو مسلمانوں کی زبان مانتی ہے اور وہ ایسا کوئی کام کرنا نہیں چاہتی جس سے اہل وطن میں سرکار کے مسلمانوں سے قریب ہونے کا پیغام جائے۔ الیکشن جیتنے کیلئے اہل وطن کی نظر میں اس نے اپنی جو شبیہ بنارکھی ہے، یہ عمل اس کے خلاف جاسکتا ہے۔
کانفرنس کے مندوبین کی فہرست پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس بار کونسل نے خواتین کی نمائندگی کو محدود رکھا ہے۔ فہرست میں تین چار نام ہی دکھائی پڑے۔ افتتاحی اجلاس کے مہمانوں میں ایک بھی نام نہیں ہے۔ سماج میں نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ وہ گھر سنبھالنے کے ساتھ نسل سازی کا کام بھی کرتی ہیں۔ زبان کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ یہ سب جانتے ہیں پھر بھی خواتین کو نظرانداز کیا جانا سمجھ میں نہیں آیا۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ خواتین ادیب، شاعرہ، نثر نگار، صحافی وغیرہ نہیں ہیں۔ پھر قومی کونسل کا کام تواردو کو فروغ دینا ہے۔ کوئی زبان عورتوں کے بغیر کیسے فروغ پاسکتی ہے۔ اس اسٹیجپر خواتین کونظراندازکرنا کچھ اچھی علامت نہیں ہے۔
اردوکی تقریباًہر محفل میں یہ کہا جاتا ہے کہ مدارس نے اردو کو باقی رکھا ہے اور اسکولوں میں اردو کی تعلیم کو فروغ دیا جائے۔ کانفرنس میں مقالات پیش کرنے والوں میں مدارس، اسکول کے اساتذہ کو نمائندگی نہیں دی گئی۔ اگر مدارس یا اسکولوں کے نمائندوں کو بلایا جاتا تو ہمیں معلوم ہوتاکہ وہ کس طرح سے اردو کی تعلیم وتعلم کا کام کر رہے ہیں؟ کس طرح وہ مدارس کے طلبہ میں صحافت کا شوق پیدا کرتے ہیں؟ کس طرح انہیں لکھنا، پڑھنا، مضمون نگاری سکھائی جاتی ہے۔ اسکول کے اساتذہ بتاتے کہ این سی ای آر ٹی کی درسی کتابیں وقت پر دستیاب نہ ہونے کے باوجود وہ اپنے طلبہ کو پڑھاتے ہیں۔ ان کی مجبوریوں اور درد کو سمجھ کر قومی کونسل این سی ای آر ٹی سے اردو کی درسی کتب طبع کرنے کی اجازت حاصل کرکے اردو کے طلبہ کی یہ دشواری دور کرسکتی ہے۔
افتتاحی اجلاس میں حمیداللہ بھٹ صاحب سے کلیدی خطبہ پڑھوانے پر کئی حضرات نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ کیوں کہ ان پر سابق میں غبن اور بدعنوانی کے الزامات لگ چکے ہیں۔ اس بارے میں دہلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جے این یو کے پروفیسران سے بات کی توان کاکہنا تھا کہ یہ ذمہ داری اردو کے کسی ایسے ادیب یا شاعر کے ذمہ کرنی چاہئے تھی، جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اردو کی خدمت میں لگایا ہو۔ تینوں یونیورسٹیز کے اساتذہ کو نظر انداز کئے جانے کی بات بھی سامنے آئی۔ یہاں تک کہ اردو کی عالمی کانفرنس کی شروعات کرنے، اس کیلئے حکومت سے پچاس لاکھ کابجٹ منظورکرانے والے کونسل کے سابقہ ڈائریکٹر کو بھی اس کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا، اتنا ہی نہیں ملک کی دوسری اہم بڑی یونیورسٹیزکے اساتذہ، ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں کو کانفرنس میں نہیں بلایاگیا۔ یا تو غیر معروف لوگوں کو اس میں جگہ ملی یا پھر ریٹائرڈ لوگوں سے کام چلایاگیا۔ ایسالگتاہے کہ کانفرنس میں ایک گروپ، لابی یا دوستوں کی منڈلی کو ہی مدعو کیاگیا تھا۔
کسی ادارے یا یونیورسٹی سے وابستگی ادیب ہونے کی سند بن گئی ہے۔ جبکہ ان کی صلاحیت اور تحریروں پر ہمیشہ سوال اٹھتے رہے ہیں۔ کئی پروفیسران کی انعام یافتہ کتابوں کا بڑا حصہ سرقہ یا ترجمہ پر مشتمل ہے۔ معلوم یہ بھی ہوا کہ پچھلے سال آئی ایران کی مقالہ نگار زینب وکئی دیگربیرون ملک کے مندوبین کے اخراجات کی ادائیگی ابھی تک نہیں ہوسکی ہے۔ قومی کونسل نے کانفرنس میں ای لائبریری(ای کتاب) ایپ لانچ کرنے کا قابل ستائش کام کیا ہے۔ اس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ دنیا کا ایساپہلا مفت اردو ای ایپ ریڈر ہے جو نستعلیق خط میں کئی امتیازی پہلوؤں کے ساتھ مہیا کرایاگیا ہے،جسے آسانی کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کرکے پڑھا جاسکتا ہے۔ اس کے کسی بھی حصہ کی کاپی کی جاسکتی ہے۔ اردو اور انگریزی میں اس ذو لسانی ایپ میں الفاظ کے معنی دیکھنے کی بھی سہولت ہے۔ کانفرنس میں غیر مسلموں کو بلانااور مقالہ پڑھنے کا موقع دینا بھی قابل قدر رہا۔
اس سے اردو کے کسی ایک طبقہ کی زبان ہونے کے الزام کی نفی ہوتی ہے۔ اس موقع پر کئی اہم مقالے سامنے آئے جن میں ’’اردو زبان اور امن ومحبت، جدید اردو میں مرثیہ، ترک وطن کے مسائل اور اردو کی نئی بستیاں، اردو اور عصری ٹیکنالوجی، روباعی میں امن وآشتی کا پیغام اور صحافت اور عالمی مسائل اردو صحافت اور عصری تقاضے، جنگ مخالف شاعری اور سفر ناموں میں عالمی مسائل ‘‘وغیرہ شامل ہیں۔ قومی کونسل کے ڈائریکٹر سے کانفرنس سے متعلق کئی مرتبہ بات کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بچتے نظر آئے۔ خیر زبان کے فروغ کیلئے اس طرح کی کانفرنسیں جہاں اہم ہیں وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ زبان کیلئے کام کرنے والے لوگوں کو مدعو کیا جائے۔ یہ کانفرنسیں ان علاقوں میں کی جائیں جہاں اردو نے اپنی نئی بستیاں بنائی ہیں تاکہ اہل اردو کی حوصلہ افزائی ہو اور اس سے انہیں تقویت ملے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *