دبئی میں ریس کے گھوڑوں کے لیے دنیا کا پہلا تھراپی سینٹر

worlds first therapy for horse in dubai

Asia Times Desk

دبئی:  جھلسا دینے والی گرمی میں دنیا کے چوٹی کے گھوڑوں کی کارکردگی بہتر کرنے کے لیے انہیں منجمند کر دینے والی مائع نائٹروجن گیس کی بھاپ دی جاتی ہے جسے ’کرایو تھراپی‘ کہا جاتا ہے۔

تھراپی کے اس طریقے سے جسم کو منفی 140 درجہ حرارت میں رکھا جاتا ہے اور اسے کئی دہائیوں سے کھلاڑیوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ دبئی پوری دنیا میں گھڑ ریس کے لیے مشہور ہے اور اس کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم خود بھی ایک گھڑ سوار ہیں اور ان کا اپنا ایک اصطبل بھی ہے۔ دبئی میں گھڑ ریس کے مقابلوں میں لاکھوں ڈالرز انعام بھی دیا جاتا ہے۔

ریس کے گھوڑوں کے جسم کی مکمل کرایو تھراپی کے لیے چیمبرز بنائے گئے ہیں، فوٹو: اے ایف پی

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دبئی میں قائم ’ریوائیو کرایو تھراپی‘ نامی کمپنی کا کہنا ہے کہ اب  ریس کے گھوڑوں کے جسم کی مکمل کرایو تھراپی کے لیے باقاعدہ چیمبرز بنا دیے گئے ہیں۔

دبئی کے زبیل ریسنگ اصطبل میں 125 گھوڑوں کی دیکھ بھال پر مامور ستیش سیمر کا کہنا ہے کہ ’کرایو تھراپی کے بغیر ریس کے بعد گھوڑے جلدی ہانپنا شروع کر دیتے ہیں۔‘

ریوائیو کرایو تھراپی کمپنی کے جنرل مینجر لیوکا جورکوک کا کہنا ہے ’گھڑ دوڑ ایک بڑا کاروبار ہے اور کرایو تھراپی کے ذریعے گھوڑوں کی سخت تربیت کی جا سکتی ہے اور ان کی تھکاوٹ جلد ختم کر کے انہیں مزید دوڑایا جا سکتا ہے۔‘

اس کمپنی نے یہ سہولیات انسانوں اور کتوں کے لیے بھی مہیا کی ہیں اور اب اسے اونٹ ریس کے لیے بھی استعمال کرنے کا سوچا جا رہا ہے۔

دبئی  کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم خود بھی ایک گھڑ سوار ہیں، فوٹو: اے ایف پی

گھوڑوں کو اس تھراپی کے لیے بنائے گئے کیبن سے آہستہ آہستہ متعارف کیا جاتا ہے۔ آغاز میں ان کی گردن اور سر کو باہر رکھا جاتا ہے اور پھر ان کے پورے جسم کو ٹھنڈی بھاپ دی جاتی ہے اور یہ سلسلہ پانچ سے سات منٹ تک جاری رہتا ہے۔ کیبن کے دروازوں کو بند نہیں کیا جاتا تاکہ اگر گھوڑے علاج پسند نہ آنے کی صورت میں باہر نکل سکیں۔

کرایو تھراپی کے بارے میں سمجھا جاتا ہے اس سے سوجن اور ٹشوز کو پہنچنے والے نقصان کا علاج کیا جاتا ہے اور اس سے کھلاڑی اور گھوڑے جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں۔

بہ شکریہ اردو نیوز ڈاٹ کام 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *