کوئی پوچھے میں کیوںاتناغمگین ہوں، میں فلسطین ہوں

ایک طرف عرب حکمراں یہودی ریاست کے سربراہ کیلئے سرخ قالین بچھا رہےہیں،دوسری طرف صہیونی افواج کے ہاتھوں معصوم فلسطینیوں کا لہو بہہ رہاہے

Asia Times Desk

ڈاکٹر یامین انصاری 
کیا اب یہ مان لیا جائے کہ بیشتر عرب حکمرانوں نے صہیونی ریاست کے سامنے گھٹنے ٹیک دئے ہیں؟ کیا اب یہ بھی مان لیا جائے کہ اب تک چوری چھپے اور خفیہ طریقے سے ملاقاتیںکرنے والے عرب ممالک کو اب علی الاعلان اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے میں کوئی پرہیز نہیں ہے؟ اگرچہ کچھ عرب ممالک تو پہلے ہی اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں، لیکن پھر بھی کہیں نہ کہیں ان کے اندر ایک ہچکچاہٹ اور شرمندگی کا احساس تو تھا، لیکن اب شاید ان لوگوںنے ندامت اور شرمندگی کا چولا بھی اتار پھینکنے کی قسم کھائی ہے۔

یعنی عرب حکمرانوں کو اب اس سے کوئی مطلب نہیں کہ اپنے ہی ملک میں بے گھر کر دئے گئے اور کئی دہائیوں سے مزاحمت کر رہے فلسطینیوں کا خون بہے تو بہتا رہے۔مشرق وسطیٰ میں پیش آنے والے حالیہ کچھ واقعات کی روشنی میں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ عرب حکمرانوں کو مسئلہ فلسطین سے زیادہ اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات عزیز ہیں۔

یعنی بات اب محض سفارتی اور سیاسی میل جول تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ سلسلہ تجارت،معیشت اور دیگر شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے تک دراز ہو چکا ہے۔ جبکہ اس سے پہلےاس خطہ میں اسرائیل کو ایک ایسا زہریلا سیب قرار دیا جاتا تھا، جس کا ذائقہ کوئی بھی چکھنے کو تیار نہیں ہوتاتھا۔ بہر حال اس سلسلہ میں تاریخ کے کچھ اوراق پلٹ کر دیکھنا ضروری ہے۔

۶۳۵ء میں یروشلم سمیت یہ پورا علاقہ عربوں نے فتح کیاتھا اور اگلے۱۳۰۰؍ سال تک یہ علاقہ مسلمانوں کے زیر انتظام رہا۔پہلے چھ سو سال تک اموی، عباسی اور صلیبی گروہ اس پر باری باری قابض ہوتے رہے۔۱۲۶۰ ء میں مملوک خاندان نے یہاں قبضہ کر لیا۔۱۵۱۶ء میں عثمانی سلطان نے یہاں حکومت کی اور یہ علاقہ پہلی جنگ عظیم تک ترکی کے زیر انتظام رہا۔ جنگ کے اختتام پر ترکی کی شکست اور سلطنت عثمانیہ کے خاتمہ کے ساتھ ہی یہاں برطانیہ نے قبضہ کر لیا۔ سلطنت عثمانیہ کا شیرازہ بکھرنے کے بعد مغربی طاقتیں کئی محاذ پر عالم اسلام کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوئیں۔ایک تو یہ کہ عالمی سطح پر مسلمانوں کے اتحاد اور ان کی طاقت کا بھرم ٹوٹا اور دوسرا کچھ مسلم حکمرانوں نے مغربی استعمار کو مرہون منت مان کر ان کے ہاتھ پر ’بیعت‘ کر لی اور حکمراں بن بیٹھے۔یہی ان کا خواب تھا، یہی ان کا مقصد تھا۔

رہی سہی کسر ناجائز یہودی ریاست کے قیام نے پوری کر دی۔ پھر بھی بحیثیت ایک قوم دنیا کے غیور مسلمانوں کے ایک بڑے طبقہ میں اتنا دم خم باقی تھا کہ وہ اسرائیل کو علی الاعلان مغرب کی ناجائز اولاد کہہ سکیں، اسے کسی بھی قیمت پر تسلیم نہ کریں۔یہی وجہ تھی کہ اس وقت یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ عالم اسلام میں کوئی ملک کھلے عام ناجائز یہودی ریاست کو تسلیم کرے گااور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرے گا۔ ادھر شروع سے ہی اسرائیل کی بھی یہی کوشش رہی کہ عالم اسلام میں کوئی ملک اس کا مقابلہ کرنے کا اہل نہ رہے۔ اسی منصوبہ پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل نے اپنے قدم بڑھائے اور اس کام میں مغربی طاقتوں نے اس کا کھلے عام اور بھرپور ساتھ دیا۔

مصر اور عراق جیسی مضبوط عرب حکومتوں نے کچھ جد دو جہد کرنے کی کوشش کی تو پہلے اسرائیل کے مغربی آقاؤں اور پھر کچھ عربی خیر خواہوں نے ان کی جد و جہد کو ناکام بنانے کا کام کیا۔ شروع میں عراق واحد عرب ملک تھا جو معاشی اور افرادی لحاظ سے طاقتور ملک تھا اور وہ فلسطین کی آزادی کے لئے لڑنے والوں کی کھلی حمایت کرتا تھا۔وہیں دوسری جانب مصر بھی بہتر فوجی قوت رکھتا تھا،لیکن پہلے ۱۹۶۷ء اور پھر ۱۹۷۳ء کی جنگوں میں امریکہ اور مغرب نے اسرائیل کی بھرپور مدد کی اوران عرب ملکوں کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا.

بعد میں انورسادات کے زمانے میں مصر اسرائیل کے ساتھ اپنی مقبوضہ زمین کو چھڑانے کے لئے مذاکرات پر مجبور ہوگیا۔اردن اور مصر نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا اور کمال اتا ترک کا ترکی تو پہلے ہی ہتھیار ڈال چکا تھا۔اس کے باوجود عراق، شام ، لیبیا اور ایران کے حکمرانوں نے شکست نہیں مانی اور وہ دوسرے ممالک کی طرح امریکہ اور مغرب کی گود میں جانے کو تیار نہیں ہوئے۔

بہر حال اب حالات اس حد تک تبدیل ہو چکے ہیں کہ ایک طرف جہاں اسرائیلی افواج نہتے فلسطینیوں پر بم اور گولیاں برسا رہی ہیں، تو دوسری طرف عرب ممالک صہیونی ریاست کے سربراہ کے لئے اپنی پلکیں بچھا رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں اسرائیلی جنگی طیارے نے غزہ کی پٹی پر جنوب مشرقی علاقے کو اپنی بربریت کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میںخالد باسم، عبدالحمید اور محمد ابراہیم نامی ۳؍بچے شہید ہوگئے۔جن کی عمر محض۱۳؍ سے۱۴؍ سال کے درمیان تھی اور تینوں طالب علم تھے۔ واضح ہو کہ اسرائیلی قبضے اور مقامی افراد کو بے دخل کرنے کے۷۰؍ برس مکمل ہونے کے سلسلے میں مظلوم فلسطینی ۳۰؍ مارچ سے مستقل ہفتہ وار احتجاج کر رہے ہیں۔اس دوران اسرائیلی فوج سے ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں۲۱۸؍ سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔اس کے باوجود صہیونی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو گزشتہ روز ۲۰؍برس کے دوران عمان کا دورہ کرنے والے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم بن گئے ہیں، جو خطے میں بڑھتے ہوئے تعلقات کی جانب واضح اشارہ ہے۔عمان کے سلطان قابوس سے ملاقات کو نتن یاہو کی اسرائیل واپسی تک خفیہ رکھا گیا،

جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔نتن یاہو نے اپنے استقبال اور ملاقات کے حوالے سے ٹوئیٹر پر اپنے ویڈیو بیان میں کہا’’عمان کا ایک خصوصی دورہ۔۔۔ہم تاریخ رقم کر رہے ہیں۔‘‘ اسرائیلی بیان کے مطابق یہ دورہ سلطان قابوس کی دعوت پر ہوا اور ’دونوں ممالک کے درمیان بڑے پیمانے پر معاہدے ہوئے۔‘ فلسطینی نیوز ایجنسی ’وفا‘ کے مطابق صدر محمود عباس نے بھی رواں ہفتے عمان کا دورہ کیا تھا۔واضح ہو کہ۱۹۹۶ءمیں وزیراعظم شمعون پیریز نے بھی عمان کا دورہ کیا تھا، اس وقت دونوں ممالک نے تجارتی نمائندوں کے دفاتر کھولنے پر اتفاق کرلیا تھا۔فلسطین کی دوسری انتفاضہ کے بعد اکتوبر۲۰۰۰ءمیں عمان نے ان دفاتر کو بند کردیا تھا۔بحرین کے وزیر خارجہ خالد بن احمد الخلیفہ نے بھی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے حصول کی کوششوں میں عمان کے سلطان کے کردار کی حمایت میں آواز بلند کی۔سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیرنے کہاکہ سعودی عرب کا یہ ماننا ہے کہ امن کے عمل میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں بہتری اہم ہے۔وہیں دوسری جانب چند برسوں میں اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعلقات کو پروان چڑھانے والے متحدہ امارات کی دعوت پر اسرائیل کی وزیر ثقافت میری ریگیونے ابو ظہبی میںجوڈو ٹورنامنٹ میں شرکت کی۔میری ریگیو کواس ماہ کے اوائل میں اسرائیل کی قومی جوڈو ٹیم کے ساتھ دورے کی دعوت دی گئی تھی۔ صرف یہی نہیں متحدہ عرب امارات نے اس جوڈو مقابلے میں اسرائیل ٹیم کو اپنے قومی پرچم کو لہرانے اور قومی ترانے کو گانے کی بھی اجازت دی۔حالانکہ سفارتی تعلقات نہ ہونے کی بنیاد پر اسرائیلی پاسپورٹ متحدہ عرب امارات کیلئے اہل نہیں ہے۔قابل ذکرہے کہ متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ اپنے رشتوں کو پروان چڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔اس سے قبل بھی اس طرح کی اطلاعات آئی تھیں کہ متحدہ عرب امارات ۱۹۹۰ءسے ہی اسرائیل کے ساتھ اپنے رشتوں کو استوار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
بہر حال اب ایسا لگتا ہے کہ فلسطین کے مسلمان صہیونی ریاست کے ظلم وجبر کے سامنے تنہا کھڑے ہیں اور اکثر عرب ممالک نے ان کاساتھ چھوڑ دیا ہے۔عرب ممالک کے اسی رویہ کی وجہ سے صہیونی ریاست کا حوصلہ روز بروز بڑھتا جارہاہے اور وہ فلسطینیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھنا اپنا حق سمجھتی ہے۔غزہ کی ناکہ بندی ،سرزمین فلسطین میں یہودیوں کی ناجائز آبادکاری اور بیت المقدس سمیت یروشلم پر قبضے کی صہیونی ریاست کے اقدامات کے باوجود عرب ممالک اسرائیل سے دوستی گانٹھنے میں سبقت لے جانے میں مصروف ہیں۔آخر کیسے فلسطین آزاد ہوگا، کیسے قبلہ اول بازیاب ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *