جامعہ نگر کے بھوک و پیاس سے بے قرار دونوجوانوں کی کہانی

یہ حالات ممبر و محراب سے سید نا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرز ' خبر گیری ' کے واقعات دہرانے سے تو نہیں بدلیں گے!

Ashraf Ali Bastavi

نئی دہلی :(ایشیا ٹائمز /اشرف علی بستوی )  اس تصویر کو ذرا غور سے دیکھیں  یہ تصویر نئی دہلی  کے مسلم اکثریتی علاقے جامعہ نگرکے ابوالفضل انکلیو، ای بلاک  میں واقع  دو میزوں والے ایک چھوٹےسے ہوٹل  کی ہے ۔

تصویرمیں ایک پندرہ سالہ نوجوان  ہوٹل کی میز پر ایک جانب اپنی درسی کتابوں کے مطالعے میں ڈوبا علم کی پیاس بجھانے میں کس طرح منہمک ہے اورمیز کی دوسری جانب  بھوک سے بے تاب ایک نوجوان اپنے  پیٹ کی آگ بجھانے میں مصروف عمل ہے ۔ گویا اس میز پر دو بھوکے پیاسے جمع ہیں لیکن دونوں کی بھوک پیاس میں بڑا تفاوت ہے ۔

ہوٹل پر کوئی بورڈ تو آویزاں نہیں ہے لیکن یہ ہوٹل اس علاقے میں ‘نعیم ہوٹل ‘ کے نام سے  جانا جاتا ہے ۔ آس پاس کے ہاسٹلوں میں رہنے والا نوکری پیشہ نوجوان طبقہ  روزانہ صبح  پراٹھے اور کباب کے ناشتے کے لیے یہاں کا رخ کرتا ہے ۔ لوگ اس لیے بھی  اسے دوسرے ہوٹلوں پرترجیح دیتے ہیں کہ یہاں انہیں پروفیشنل ہوٹلوں کی بہ نسبت کم روغن والا مل جاتا ہے ۔

پہلے تو  یہاں کی گھر کے توے کی بنی  چوڑیوں کی جھنکار کی آمیزش والی روٹیاں پردیسیوں کی توجہ کا مرکز ہوا کرتی تھیں لیکن اب کام بڑھنے کی وجہ سے روٹی سینکنے کا کام  نعیم اور ان کی اہلیہ مل کر ہوٹل پر ہی انجام دیتے ہیں ۔

 نعیم اور ان کی  اہلیہ تبسم  باورچی خانے میں ، بیٹا  محمد افضال گراہک کو کھانا دینے کے بعد مطالعے  میں مصروف ہے

محمد نعیم  بہار کے سمستی پور ضلع  سے  تعلق رکھتے ہیں ، آنکھوں میں  روشن مسقبل کا خواب سجائے سن  2000 میں دہلی آگئے تھے لگ بھگ پانچ برس تک  مختلف ہوٹلوں پر باورچی کی  نوکری کرنے کے بعد ہوٹؒل مالکان کے استحصالی رویے سے  تنگ آکر 11 برس قبل اپنا ہوٹل شروع کیا ان کے اس کام  میں ان کی اہلیہ تبسم پروین  سمیت ان کا پوارا گھرمعاونت کرتا ہے  تینوں بیٹے محمد اقبال ،محمد افضال اور محمد فیضان  زیر تعلیم  ہیں یہ بچے اسکول سے واپسی پر پوری دل جمعی سے پورا وقت والدین کے ساتھ دوکان پر دیتے ہیں ماں باپ  باورچی  خانہ سنبھالتے ہیں اور یہ تینوں بچے  ویٹر کی ذمہ داری بہ حسن و خوبی خوشی خوشی انجام دیتے ہیں ۔

صبح سات بجے سے  رات  ساڑھے گیارہ  بجے تک لگ بھگ  17 گھنٹے کی مستقل ڈیوٹی کے بعد ہوٹل پر ہی رات کے کھانے سے  فارغ ہو کر غربت سے دو دو ہاتھ  کرنے میں دن رات مصروف یہ  خاندان پاس ہی میں کرائے کے کمرے میں چند گھنٹے آرام کرنے چل دیتا ہے ۔

ایشا ٹائمز سے اپنی روز مرہ کی زندگی میں پیش آنے والی دشواریوں اور مسائل کاذکر کرتے ہوئے نعیم  کہتے ہیں کہ گزشتہ پندرہ برس سے ہم مسلسل  نا مساعد حا لات سے نبر آزما ہیں ، ہمیں سب سے زیاد دشواری کا سامنا آج سے تین سال قبل کرنا پڑا تھا جب ہمارے ہوٹل میں برتن سمیت سارا سامان چور اٹھا لے گئے تھے اور ان دنوں تبسم  پروین ریڑھ کی ہڈی کے عارضے میں مبتلا تھی۔

تبسم کے ساتھ یہ حادثہ اس وقت پیش آ یا تھا جب ہم ہوٹل کا کھانہ گھر پر ہی تیار کیا کرتے تھے  رات کے اندھیرے میں روٹی بناتے وقت  تبسم چھت سے گر گئی اور اس کی کمر میں شدید چوٹ آگئی تھی ۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا کبھی کسی فرد یا تنظیم نے آپ لوگوں کی مالی امداد کی کوئی پیش کش کی وہ بتاتے ہیں کہ تین سال قبل ایک صاحب نے ہمیں ملنے  کے لیے  بلایا تھا انہوں نے مالی مدد یقین دہانی بھی کرائی تھی لیکن  جب ہم دوسری بار ملے تو انوں عدم دل چسپی کا مظاہرہ کیا ہم واپس آگئے ۔

اس خبر کا قابل توجہ اور چشم کشا پہلو یہاں سے شروع ہوتا ہے، تعلیم کے تئیں ان تینوں بچوں کی گہری دل چسپی  اور پیاس کا عالم یہ ہے کہ ہوٹل پر آنے والوں کو  کو کھانا پیش کرنے کے بعد میز کی ایک جانب خالی جگہ دیکھ کر مطالعے میں منہمک ہو جاتے ہیں ۔

کھانے کی یہی میز ان کی پڑھنے کی میز میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ ذرا ان بچوں کی عملی دشواریوں کا  اندازہ کیجیے ہوٹل پر گراہکوں کے درمیان مطالعہ کس قدر تکلیف دہ  اور دشوار گزار ہوتا ہو گا ، جب کوئی  گراہک اچانک یہ حکم دیتا ہوگا  ذرا ایک روٹی اور دینا !

تو پھر مطالعے میں منہمک بچے پر کیا گزرتی ہوگی ؟ شاید اس کا اندازہ  ہمارے لیے آسان نہیں ہے۔ اقبال  اعلیٰ  تعلیم حاصل کرکے اپنے والدین کا سہارا بننا چاہتے ہیں ، کافی لگن سے پڑھ رہے ہیں لیکن اسکول میں چلنے والی کلا سیز سے مطمئن نہیں ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہاں ہمیں  سبجیکٹ پر توجہ سے نہیں پڑھا یا جاتا ۔ اس لیے گھر پر کافی محنت کرنی پڑتی ہے ،

ٹیوشن اس لیے نہیں جا سکتے کہ ہمارے والدین کی اتنی آمدنی نہیں ہے اور پھر ہوٹل کا کام متاثر ہوگا ۔ اس لیے یہیں پر ہم سبھی بھائی اپنا ہوم ورک پورا کر لیتے ہیں ۔ ذرا غور کریں ! یہ صرف  اقبال، افضال اور فیضان  کی ہی کہانی نہیں ہے بلکہ ہمارے آس پاس سیکڑوں ایسے ہونہار بچے بستے ہیں جوکم وبیش انہی حالات سے دوچار ہیں ۔

 غور طلب ہے کہ جامعہ نگر کا یہ علاقہ سماجی و ملی تنظیموں کے مرکز کے طور پر ہندوستان بھر میں معروف ہے ۔ آئے دن  ‘ نعیم ‘ ہوٹل کے سامنے سے نہ جانے کتںی تنظیموں کے صدور و سکریٹریز اور دیگر عہدے داران کا گزر ہوتا ہوگا ۔  جو  وقفے وقفے سے اخبارات میں ضرورت مند خاندانوں کے بچوں کے لیے تعلیمی اسکالر شپ  کی درخواستیں طلب  کرتے  رہتے ہیں ۔ لیکن ابھی تک یہاں سے گزرنے والے کسی ایسی فلاحی تنظیم  کے کسی ذمہ دار شخص نے ‘ نعیم ‘ کی جانب کبھی الفت بھری نگاہ  سے نہیں دیکھا ۔ آج تک کسی نے بچوں کو کھانے کی میز پر پڑھتا دیکھ کر ان کا حال دریافت کرنے کی زحمت نہیں کی ۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سیدنا عمر فاروق (رضی اللہ عنہ)  کی طرز’ خبر گیری’ کو اپنا رول ماڈل بتانے والی ‘سماجی بہبود’ کے لیے کام کرنے کا دعویٰ کرنے والی ہماری سماجی و ملی تنظیموں کا حال بھی’ قانون کی رکھوالی’  کر نے پر مامور ہندوستانی پولیس کی طرح  ہی ہو گیا ہے جواپنی نظروں کے سامنے ‘غیر قانونی’ کاموں کو ہوتے دیکھ کر بھی اس وقت تک نظر انداز کیے رہتی ہے جب تک اسے کسی  فرد یا گروپ کی جانب سےتحریری شکایت  نہ مل جائے ۔ اور پھر اس کے بعد کی کار روائی کا انجام بھی ہم سب کے سامنے ہے ۔

یہ صرف نعیم اور ان کے اہل خانہ کی ہی کہانی نہیں ہے بلکہ ہمارے آس پاس ہمارے گلی محلوں اور پڑوس میں نہ جانے کتنے  ضرورت مند خاندان ایسے ہیں جنہیں  کی اگر انہیں تھوڑی سی  مالی مدد حاصل ہو جائے۔

 ان کے بچوں کی تعلیمی  کفالت اوران کی  ٹھیک ڈھنگ سے رہنمائی ہو جائے تونہ صرف ان کی دشواریاں ہمیشہ کے لیے دور ہو جائیں گیں بلکہ وہ معاشرے پر بوجھ کے بجائے  معاشرے کو اوپر اٹھانے والے بن جائیں گے ۔

لیکن یہ کام  ممبر و محراب سے سیدنا  عمر فاروق  رضی اللہ عنہ کی  طرز ‘ خبر گیری ‘  کے واقعات دہرانے سے تو نہیں ہوگا، بلکہ  اس طرز’ خبر گیری’پر عمل آوری کے لیے ہمیں خود کو تیار کرنا ہوگا، کیا ہم تیار ہیں ؟

نوٹ : یہ اسٹوری اگست 2015 میں پہلی بارایشیا ٹائمز نے  پبلش کی  تھی ، خبر دیکھتے ہی لوگ جذباتی ہوگئے تھے، اور کچھ نا کچھ کرنے کی بات بھی کی تھی فیملی سے خیریت  دریافت کی تھی لیکن کوئی آگے نہیں آیا  ۔ آج تین سال مکمل ہونے کو ہے آج بھی اس فیملی کی حالت جوں کا توں برقرار ہے کسی نے مڑ کر بھی نہیں دیکھا ؛یہ حالات ممبر و محراب سے سید نا عمر فاروق  رضی اللہ عنہ کی  طرز ‘ خبر گیری ‘  کے واقعات  دہرانے سے تو نہیں بدلیں گے! 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *